قربانی کے مسائل اور ان کا حل،قسط سوم (ب)

قربانی کے مسائل اور ان کا حل،قسط سوم (ب)

Table of Contents

قربانی کے مسائل اور ان کا حل،قسط سوم (ب)

قربانی کے مسائل اور ان کا حل،قسط سوم (ب)
قربانی کے مسائل اور ان کا حل،قسط سوم (ب)

سوال 26تا 30

سوال 26: 

کیا حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے قربانی کی جا سکتی ہے ؟

جواب :

جی ہاں ! حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کی جا سکتی ہے بلکہ حضور علیہ الصلوۃ و السلام کے وصالِ ظاہری کے بعد حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کا معمول تھا کہ ہر سال ایک دنبے کی قربانی اپنی طرف سے کرتے اور ایک دنبے کی قربانی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کرتے تھے.

(سنن ابو داؤد)

 

سوال 27:

قربانی کرنے والے بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ "آج ہمارا روزہ ہے” ہم قربانی کے گوشت سے افطار کریں گے تو شریعت میں کیا قربانی والے دن روزہ ہوتا ہے ؟

جواب :

عید کے دن اور اس کے بعد مزید تین دن کا روزہ رکھنا حرام ہے (یعنی 10 ,11 ,12 اور 13 ذی الحجہ کے روزے حرام ہیں), البتہ پہلی سے نویں ذی الحجہ کے روزے بہت افضل ہیں, اس پر قربانی ہو یا نہ ہو اور سب نفلی روزوں میں بہتر روزِ عرفہ (یعنی 9 ذی الحجہ) کے دن کا روزہ ہے.

ہاں! قربانی کرنے والے کے لئے مستحب ہے کہ عید کے دن قربانی سے پہلے کچھ نہ کھائے, قربانی کا گوشت پہلے کھائے مگر یہ روزہ نہیں ہے اور نہ اس میں روزے کی نیت کرنا جائز ہے.

(فتاوی رضویہ)

نوٹ:

تو لوگوں کا اس طرح کہنا کہ "آج ہمارا روزہ ہے ” سے مراد یہی ہوتا ہے کہ وہ قربانی سے پہلے کچھ نہیں کھائیں گے اور قربانی ہونے کے بعد سب سے پہلے اس کے گوشت میں سے کھائیں گے مگر اس کو روزہ نہیں کہنا چاہیے.

البتہ اگر کسی نے اس میں روزے کی نیت کی تو پھر وہ گناہگار ہوگا.

 

سوال 28:

اگر کوئی قربانی کر رہا ہوں تو عیدالاضحی کا چاند نظر آنے کے بعد کیا اس کے لئے بال اور ناخن وغیرہ کاٹنا منع ہو جاتا ہے ؟

جواب :

اگر کوئی قربانی کا ارادہ رکھتا ہو چاہے وہ شرعی فقیر ہو یا مالکِ نصاب ہو, اس کے لیے بال اور ناخن وغیرہ کاٹنا منع نہیں ہے البتہ اس کے لئے افضل و مستحب ہے کہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد بال، مردہ کھال اور ناخن نہ کاٹے اور نہ کٹوائے تاکہ حاجیوں سے مشابہت ہو جائے کہ وہ احرام کی حالت میں حجامت نہیں کروا سکتے تاکہ قربانی ہر بال اور ہر ناخن کا فدیہ بن جائے.

(مراٰۃ المناجیح)

 

سوال 29:

کیا کوئی ایسی صورت ہے کہ جس میں فقیرِ شرعی جو قربانی کی استطاعت نہ رکھتا ہو اس کو قربانی کا ثواب مل جائے؟

جواب :

جی ہاں ! اگر کوئی فقیر شرعی قربانی کی استطاعت نہ رکھتا ہو اور وہ ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں میں بال اور ناخن وغیرہ نہ ترشوائے اور نمازِ عید ادا کرنے کے بعد بال اور ناخن وغیرہ شوالے تو ان شاءاللہ عزوجل اسے قربانی کا ثواب ملے گا.

(نسائی شریف, مراٰۃ المناجیح)

 

سوال 30

اگر کسی شخص نے 31 دن سے کسی وجہ سے ناخن اور بال وغیرہ نہ کاٹے ہوں اور ذی الحجہ کا چاند نظر آجائے تو کیا وہ بال اور ناخن وغیرہ نہ کاٹنے والے فعلِ مستحب پر عمل کر سکتا ہے ؟

جواب:

اگر کسی شخص نے 31 دن سے کسی وجہ سے ناخن اور بال وغیرہ نہ کاٹے ہوں اور ذی الحجہ کا چاند نظر آجائے تو اگرچہ قربانی کا ارادہ رکھتا ہو وہ بال اور ناخن وغیرہ نہ کاٹنے والے فعلِ مستحب پر عمل نہیں کر سکتا کیونکہ اگر وہ اس فعلِ مستحب پر عمل کرے گا تو بال اور ناخن وغیرہ نہ کٹوائے ہوئے 41واں ہوجائے گا اور مسئلہ یہ ہے کہ 40 دن سے زیادہ بال اور ناخن وغیرہ نہ کٹوانا گناہ ہے تو فعلِ مستحب کے لئے وہ یہ گناہ نہیں کر سکتا.

(ملخصاً فتاوی رضویہ)

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم

کتبہ

ابواُسَیْدعبیدرضامدنی

مزید پڑھیں

قربانی کسے کہتے ہیں،شرعی حکم،قربانی کس پر واجب ہے

قربانی میں نصاب کیا ہےکیا مقروض و مسافر پر قربانی واجب ہے

قربانی کے مسائل اور ان کا حل قسط دوم (الف)

قربانی کے مسائل اور ان کا حل قسط دوم (ب)

قربانی کے مسائل اور ان کا حل،قسط سوم (الف)

شیئر کیجیے

Leave a comment