قربانی کے مسائل اور ان کا حل۔ قسط دوم (ب)

قربانی کے مسائل اور ان کا حل قسط دوم (ب)

Table of Contents

قربانی کے مسائل اور ان کا حل
قسط دوم (ب)

قربانی کے مسائل اور ان کا حل۔ قسط دوم (ب)
قربانی کے مسائل اور ان کا حل قسط دوم (ب)

سوال 16 تا 20

سوال 16:
اگر کسی کے پاس کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ وغیرہ ہوں تو کیا یہ حاجتِ اصلیہ میں شمار ہوں گے ؟
جواب :
اگر کسی کے پاس کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ وغیرہ ہوں اور وہ ان کو فرض علوم سیکھنے کے لیے استعمال کرتا ہو یا روز مرہ کے استعمال میں لاتا ہو خواہ روز مرہ کا استعمال گھریلو ہو یا کاروباری، تو یہ حاجتِ اصلیہ میں شامل ہوں گے اور اگر ان کا غیر ضروری استعمال کرتا ہوں تو یہ حاجتِ اصلیہ میں شامل نہ ہوں گے، اس صورت میں ان کو دیگر زائد سامان اور مال کے ساتھ جمع کرکے ان کی مالیت کو دیکھا جائے گا، اگر ان سب کی مالیت ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت تک پہنچ جائے تو قربانی واجب ہوگی ورنہ قربانی واجب نہ ہوگی.
*(ملخصا و مُرَمَّماً از فتاوی اہلسنت، کتاب الزکوٰۃ، صفحہ 124، مکتبۃ المدینہ کراچی)*

سوال 17:
کیا شرعی فقیر پر قربانی واجب ہوتی ہے ؟
جواب :
شرعی فقیر پر صرف دو صورتوں میں قربانی واجب ہوتی ہے :
1– جب شرعی فقیر نے قربانی کی منت مانی ہو.
2 – جب شرعی فقیر نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا ہو، (خاص اسی جانور کی قربانی اس پر واجب ہوتی ہے۔)
ان دو صورتوں کے علاوہ شرعی فقیر پر قربانی واجب نہیں ہوتی.
(فتاوی عالمگیری، جلد 5، صفحہ 291، 292، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)
نوٹ :
جو صاحبِ نصاب نہ ہو وہ شرعی فقیر کہلاتا ہے.
*(ماخوذ از بہارشریعت، حصہ 5، جلد 1، صفحہ 924، مکتبۃ المدینہ کراچی)*

سوال 18:
اگر شرعی فقیر کے پاس پہلے سے جانور موجود ہو اور اس نے اس میں قربانی کی نیت کرلی تو کیا اب قربانی واجب ہوجائے گی؟
جواب :
اگر شرعی فقیر کے پاس پہلے سے گھر میں جانور موجود ہو اور اس نے اس جانور میں قربانی کی نیت کرلی تو اس پر قربانی واجب نہیں ہو گی، ایسے ہی اگر اس نے باہر سے جانور خریدا اور خریدتے وقت قربانی کی نیت نہیں کی تھی بلکہ بعد میں قربانی کی نیت کی تو اس پر بھی قربانی واجب نہیں ہو گی.
البتہ ان دونوں صورتوں میں اگر قربانی کرے گا تو نفل کا ثواب پائے گا.
(ردالمحتار علی الدرالمختار، جلد 9، صفحہ 465، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 452، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

سوال 19:
کیا حاجی پر بقرہ عید کی قربانی واجب ہوتی ہے ؟
جواب :
اگر حاجی مقیم (یعنی مسافر نہ ہو) اور مالدار (یعنی صاحبِ نصاب) ہو تو اس پر بقرہ عید کی قربانی واجب ہوتی ہے اور اگر حاجی مقیم نہ ہو بلکہ مسافر ہو تو اس پر بقرہ عید کی قربانی واجب نہیں ہوتی اگرچہ مالدار ہو.

نوٹ :
بقرہ عید کی قربانی کا حرم شریف میں ہونا ضروری نہیں بلکہ اپنے ملک میں بھی کسی کو کہہ کر کروائی جاسکتی ہے، البتہ اس میں دن کا خیال رکھنا ہوگا کہ جہاں قربانی ہونی ہے وہاں بھی اور جہاں قربانی والا ہے وہاں بھی دونوں جگہ قربانی کے دن ہوں.
*(البحرالرائق، جلد 2، صفحہ 606، مطبوعہ کوئٹہ، رفیق الحرمین، صفحہ 194، مکتبۃ المدینہ کراچی)*

سوال 20:
قربانی کے فضائل کیا ہیں؟
جواب :
قربانی کے فضائل بیشمار ہیں، جن میں سے بعض یہ ہیں :
1– جانور کے ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملے گی.
(جامع ترمذی، جلد 3، صفحہ 162، رقم الحدیث: 1498، دارالفکر بیروت)
2– قربانی نیکیوں کے پلڑے میں بروزِ قیامت رکھی جائے گی، جس سے قربانی کرنے والے کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوجائے گا۔
(اشعۃ اللمعات، جلد 1، صفحہ 654، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)
3– قربانی پل صراط کی سواری بنے گی.
*(مرقاۃ المفاتیح، جلد 3، صفحہ 574، دارالفکر بیروت)*
4– قربانی کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرتے ہی سارے گناہ معاف ہو جائیں گے.
(السنن الکبریٰ، جلد 9، صفحہ 476، رقم الحدیث: 19161، دارالکتب العلمیہ بیروت)
5– خوش دلی سے کی گئی قربانی جہنم کی آگ سے رکاوٹ بنے گی.
*(المعجم الکبیر، جلد 3، صفحہ 84، رقم الحدیث : 2736، دار احیاء التراث العربی بیروت)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
ابواسیدعبیدرضامدنی رئیس مرکزی دارالافتاء اہلسنّت عیسیٰ خیل ضلع میانوال

مزید پڑھیں

قربانی کے مسائل اور ان کا حل قسط دوم (الف)

قربانی کے متعلق سوال و جواب کا ایک انمول تحفہ

شیئر کیجیے

Leave a comment