قربانی کے مسائل اور ان کا حل قسط دوم (الف)

قربانی کے مسائل اور ان کا حل قسط دوم (الف)

Table of Contents

قربانی کے مسائل اور ان کا حل
قسط دوم (الف)

قربانی کے مسائل اور ان کا حل قسط دوم (الف)
قربانی کے مسائل اور ان کا حل
قسط دوم (الف)

سوال 11 تا 15

11 اگر کسی کے پاس صرف ایک تولہ سونا ہو تو کیا اس پر قربانی واجب ہوگی ؟

جواب :

اگر کسی کے پاس صرف ایک تولہ سونا ہو اور اس کے علاوہ کوئی اور حاجت اصلیہ سے زائد مال نہ ہو تو قربانی واجب نہ ہو گی، اگرچہ ایک تولہ سونے کی قیمت فی زمانہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت سے زائد بنتی ہے۔
ہاں اگر ایک تولہ سونا کے ساتھ اس کے پاس کوئی حاجت اصلیہ سے زائد مال ہو جیسے کچھ روپے یا اضافی برتن یا کپڑے وغیرہ تو اس پر قربانی واجب ہو جائے گی.
لہٰذا جن کے پاس ایک تولہ سونا یا چند تولے سونا ہو تو وہ اس مسئلے کا ضرور خیال رکھیں کہ عموماً ان پر قربانی واجب ہو جاتی ہے کیونکہ سونے کے علاوہ کچھ نہ کچھ اضافی سامان ضرور ہوتا ہے.
(ماخوذ از بدائع الصنائع، جلد 4، صفحہ 196، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، بہار شریعت، حصہ 15، جلد 3، صفحہ 333، مکتبۃ المدینہ کراچی)

12 اگر صاحبِ نصاب مسافر، سفر سے گھر واپس پہنچ جائے تو کیا اب اس پر قربانی واجب ہوگی؟

جواب :

اگر صاحبِ نصاب مسافر ایامِ قربانی میں سفر سے گھر واپس پہنچ جائے تو اس پر قربانی کرنا واجب ہوگا اور اگر ایامِ قربانی کے بعد گھر واپس پہنچا تو قربانی کا وقت گزر جانے کی وجہ سے اس پر قربانی کرنا واجب نہ ہوگا۔
(الھدایہ، جلد 4، صفحہ 443، 444، مکتبہ رحمانیہ لاہور)

سوال 13:
اگر کسی شخص پر قربانی واجب ہو اور وہ اپنی طرف سے قربانی کرنے کے بجائے اپنے ماں، باپ کی طرف سے قربانی کر دے تو کیا ماں باپ کی طرف سے کی گئی قربانی درست ہوگی یا نہیں ؟

جواب :
جس شخص کے اوپر خود قربانی واجب ہو اور وہ اپنی طرف سے قربانی کرنے کے بجائے اپنے ماں، باپ کی طرف سے قربانی کر دے تو ان کی طرف سے قربانی درست ہو جائے گی لیکن اس پر اپنی طرف سے قربانی کرنا واجب تھی اور اس نے اپنی طرف سے قربانی نہیں کی تو واجب کو چھوڑنے کی وجہ سے گناہ گار ہوگا اور اس کے سر سے اپنی قربانی کا بوجھ نہیں اترے گا.
(فتاوی امجدیہ، جلد 3، صفحہ 314، مکتبہ رضویہ کراچی، فتاوی فیض الرسول، جلد 2، صفحہ 440، شبیر برادرز لاہور)

14 اگر کوئی شخص مالکِ نصاب ہو مگر اس کے پاس نقد رقم نہ ہو تو کیا اس پر قربانی واجب ہو گی ؟

جوب :
اگر کوئی شخص مالکِ نصاب ہو مگر اس کے پاس نقد رقم نہ ہو مثلاََ کسی کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا ہو لیکن نقد رقم نہ ہو تو اس پر قربانی واجب ہوگی، لہٰذا وہ یا تو سونا بیچ کر قربانی کرے یا کسی سے قرض لے کر قربانی کرے.
(فتاویٰ رضویہ، جلد 20، صفحہ 370، رضا فاؤنڈیشن لاہور، فتاویٰ امجدیہ، جلد 3، صفحہ 315، مکتبہ رضویہ کراچی)*

سوال 15:
اگر کسی کے پاس ایسی زمین ہو کہ جس پر وہ کاشتکاری کرتا ہو اور وہ زمین اس کی آمدنی کا ذریعہ ہو اور اس زمین کی قیمت نصاب کی حد تک پہنچ رہی ہو تو کیا اس پر قربانی واجب ہوگی ؟
جواب :
اگر کسی کے پاس صرف ایسی زمین ہو کہ جس پر وہ کاشتکاری کرتا ہو اور وہ زمین اس کی آمدنی کا ذریعہ ہو اور اس زمین کی قیمت نصاب کی حد تک پہنچ رہی ہو تو اس پر قربانی واجب نہ ہوگی.
(ماخوذ از فتاویٰ رضویہ، جلد 20، صفحہ 367، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
ابواسیدعبیدرضامدنی رئیس مرکزی دارالافتاء اہلسنّت عیسیٰ خیل ضلع میانوال

مزید پڑھیں

قربانی میں نصاب کیا ہےکیا مقروض و مسافر پر قربانی واجب ہے

قربانی کسے کہتے ہیں،شرعی حکم،قربانی کس پر واجب ہے

قربانی کے ایک مسئلے کی وضاحت

ایک حکیمانہ قول کی توضیح

مقرر کے لئے کتنی شرائط ہیں؟

مہر کی مقدار کیا ہے ؟

مسجد کی اشیاء ذاتی مفاد کے لئے استعمال کرنا کیسا ہے ؟

شیئر کیجیے

Leave a comment