اشرفیہ حکمتوں کا بحر ناپیدا کنار

اشرفیہ حکمتوں کا بحر ناپیدا کنار

Table of Contents

واصف رضا واصف مدھوبنی

علمی جلال

اشرفیہ حکمتوں کا بحر ناپیدا کنار
اشرفیہ حکمتوں کا بحر ناپیدا کنار

عزم کے کوہ گراں تھے اور سراپا باکمال
پیش کرتاہے زمانہ آج بھی ان کی مثال

ان کی پیشانی سے نور ارجمندی تھا عیاں
صبرواستقلال کے خوگر تھے اور تھے پرجمال

جس کے آگے صاحب عقل وخرد مرعوب ہیں
اتنا اونچا حافظ ملت کا ہے علمی جلال

اشرفیہ حکمتوں کا بحر ناپیدا کنار
ہے سدا جاری وہاں سے علم کا آب زلال

ان کی سیرت سیرت آقاکی تھی عکس جمیل
زہد کےپیکرتھےوہ اور تھےنہایت خوش خصال

پاتے ہیں خیرات محتاجان علم وآگہی
یوں رواں ہے ان کے درپر چشمۂ فکروخیال

علم وفن تہذیب اور مسلک کا ہو کیسے فروغ
آپ کو ہروقت رہتا تھا یہی سب کا خیال

دین کی نشرواشاعت کے لیے ہی وقف تھی
زندگانی آپ کی اور آپ کا مال ومنال

سالکان راہ عظمت کےلیے ہیں سنگ میل
حکمت ودانائی سے لبریز ان کی قیل وقال

حشر تک اس کی تجلی ماند پڑسکتی نہیں
اس قدر رخشاں ہے چرخ عزم پران کاہلال

میری خاطر بالیقیں ہوگا وہ تاج افتخار
سرپہ رکھنے کو جو مل جائیں کبھی ان کےنعال

خاکپاے اولیا واصف رضا کی ہے دعا
سرخرو ہرگام پر ہوحافظ ملت کی آل

رشحات قلم
واصف رضا واصف مدھوبنی بہار

 

مزید پڑھیں:

مرےدل میں ہےراسخ تیری الفت حافظ ملت

مرادآباد سے تشریف لاے حافظ ملت 

منقبت درشان اعلی حضرت علیہ الرحمہ

در مدح سید المحدثین سیدناابوہریرہ ؓؓ

درمدح سیدناحسان بن ثابتؓ

در مدح سید المحدثین سیدناابوہریرہ ؓ

در مدح بلال حبشیؓ

درمدح صحابی رسول ،حضرت ابوعبیدہ بن جراح ؓ

در مدح صحابی رسول ﷺ حضرت ابودجانہؓ

در مدح حضرت عبداللہ بن عمرؓ

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment