ذکر کیجے سیدِ ابرار کا

ذکر کیجے سیدِ ابرار کا

Table of Contents

ذکر کیجے سیدِ ابرار کا

 

محمد حسین مشاہد رضوی

ذکر کیجے سیدِ ابرار کا
وجہِ تخلیقِ جہاں سرکار کا

بے طلب دامن مرادوں سے بھریں
اُن کا شیوہ ہی نہیں انکار کا

اختیاراتِ پیمبر دیکھیے
کام شاخوں سے لیا تلوار کا

جو ہے گستاخِ رسولِ ہاشمی
مستحق ہے وہ عذابِ نار کا

دل میں ہے ہر دم یہی خواہش نہاں
دیکھوں روضہ احمدِ مختار کا

جس کو بھاے خارِ طیبہ کا جمال
منہ نہ دیکھے وہ کبھی گلزار کا

نور آگیں ہو مری راہِ حیات
ذرّہ مل جائے جو اُس پیزار کا

آمدِ سرور سے میری قبر میں
تا ابد ہو سلسلہ انوار کا

رنج و غم کے تیز تر طوفان میں
آسرا ہے شاہِ دیں غمخوار کا

خاورِ محشر کی حدت الاماں!
سایہ بخشیں گیسوے خمدار کا

جانِ عیسیٰ ہو مشاہد پر کرم
حال ابتر ہوگیا بیمار کا

عرض نمودہ :
محمد حسین مشاہد رضوی

28 جنوری 2022ء بروز جمع

مزید پڑھیں

حضور بخشیں حیا کی بارش

خدا کے بعد جن کا مرتبہ ہر اک سے اعظم ہے

سیرتِ سرکار کی خوشبو بکھیر

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment