پردے کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں

پردے کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں

Table of Contents

پردے کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں
پردے کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں

پردے کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں
از قلم: ساغر جمیل رشک مرکزی

حالات کے تناظر میں اگر ہم نقشہ عالم کا جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ حجاب کو قید و بند، عیب اور مانع ترقی کی حیثیت سے جانا جاتا ہے ۔ پردے کے متعلق اُلٹا سیدھا تبصرہ کرنے والوں کی رائے اور مذمتی بیان کا سلسلہ جاری ہے، پردہ سے متعلق جہاں عالمی سطح پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں وہیں پر متبع قرآن و سنت کے اندر اسلام اور اس کی تعلیمات کے بارے میں تجسس اور حقیقت کو سمجھنے کی خواہش بیدار ہوئی ہے۔بلا شبہہ اسلام ایک دین فطرت ہے، ایک مکمل نظام حیات ہے جو اپنے ماننے والوں کی زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کا خواہاں ہے، اور ایک پاک و صاف معاشرے کی تشکیل کا ضامن ہے، جس افراط و تفریط کی ذرہ برابر گنجائش نہیں۔اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جس نے عملی طور پر یہ تسلیم کیا ہے کہ عورت نصف انسانیت ہے تو اسلام کو یہ کیسے گوارہ ہو سکتا ہے کہ نصف انسانیت یعنی عورت کو قید و بند اور ننگ و عار جیسی چیز کا پاند بنائے۔اسلام تو ان کی عصمت عفت کی حفاظت کی خاطر پردے کا حکم دیتا ہے۔ بنیادی طور پر پردے کا فائدہ یہ ہے عورت بد نظروں کی ہوس بھری نظروں کے شکار سے بچ جاتی ہے ، نیز وہ خود اور دوسرے بھی گناہوں سے محفوظ رہتے ہیں۔اور اس سے ایک پاکیزہ اور صالح معاشرہ وجود میں آتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدّد مقام پر پردے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔(سورہ احزاب 21،آیت 33) اللہ جل جلالہ نے آیت کے اس ٹکڑے میں بنت حوا کو گھر میں رہنے کا حکم دیا ہے اور تبرج سے منع فرمایا ہے یعنی اظہار زینت اور ہر اس چیز سے باز رہنے کا حکم دیا ہے جو مردوں کی شہوت کو اُبھارے جس طرح زمانہ جاہلیت کی عورتیں بے پردہ سڑکوں اور بازاروں میں پھرا کرتی تھیں، اپنی زینت و محاسن کا اظہار کرتی تھیں کہ غیروں کو لبھائیں ، لباس ایسے پہنتی تھیں جن سے جسم کے اعضاء اچھی طرح نہ ڈھکیں ۔ امام بغوی رحۃاللہ علیہ اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ”نمرود کے زمانے میں عورتیں موتی دار چادریں اوڑھتی تھیں، اور بیچ سڑک پر چلتی تھیں اور اس سے (مردوں) کو لبھا تی تھیں”۔ اگر ہم مذکورہ آیت کا بنظر غائر مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ اسلام نے صنف نازک کو قید و بند میں نہیں رکھا ہے بلکہ یہ حکم دیا ہے کہ بلا ضروت گھر سے نہ نکلیں، اور جب ضرورت کے تحت نکلیں تو پردے کا اہتمام کریں تاکہ نگاہ و دل کی حفاظت ہوسکے اور فاسقین کی بد نگاہی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ایک اور جگہ اللہ رب العزت کا فرمان عالی شان ہے: اے نبی اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو تو ستائی نہ جائیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(سورہ احزاب 21، آیت 59) اس آیت میں بھی عورت کی حفاظت و پاک دامنی کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔ اور مذکورہ آیت میں جن خواتین کو پردے کا حکم دیا گیا ہے وہ تو امت محمدیہ کی سب سے زیادہ پاکیزہ اور با کردار خواتین ہیں تو عصر حاضر کی عورتوں کو کس قدر پردے کا اہتمام کرنا چاہیے جو ان کے قدموں کے دھول برابر بھی نہیں۔ اس آیت میں ایک اور بات جو نمایاں طور پر ابھر کر سامنے آتی ہے وہ ہے ترتیب یعنی اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اپنے قریب تر رشتہ دار کو نصیحت کرنے کا حکم دیا یعنی پہلے ازواج کو پھر اپنی بنات کو اس کے بعد دیگر مومنات کو۔ اور یہ ایک فطری بات ہے کہ جب کوئی انسان کسی کو نصیحت کرتا ہے تو سامنے والا سب سے پہلے ناصح کے اہل و عیال اور اس کے ارد گرد کے ماحول کو دیکھتا ہے آیا وہ اُس پر کاربند ہیں یا نہیں، اگر اس کا اور اس کے اہل و عیال کا عمل نصیحت کے موافق پاتا ہے تو سننے کے لیے راضی ہوتا ہے ورنہ نہیں۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ تبلیغ کی شروعات اپنے گھر سے کریں پھر دوسروں کو۔مذکورہ بالا آیات سے واضح ہوا کہ پردہ ترقی سے مانع نہیں بلکہ اس کا زینہ ہے کہ اسی میں عورت کی عصمت و عفت کی حفاظت اور دونوں جہان کی بھلائی ہے۔پردے کی ضرورت و اہمیت اور معنویت کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خوب اجاگر کیا ہے چنانچہ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ اور آپ کی دوسری زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں کہ حضرت ابن ام مکتوم رضي اللہ عنہ آپ کے پاس آئے یہ اس وقت کی بات ہے جب ہمیں حجاب کا حکم دیا جا چکا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اس سے حجاب میں چلی جاؤ تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ نابینا نہیں ہیں نہ تو وہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں اور نہ پہچان سکتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم دونوں بھی نابینا ہو کیا تم دونوں اسے نہیں دیکھ رہی ہو۔(ترمذی) ایک اور روایت میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آنکھ زانیہ ہے اور جب عورت معطر ہو کر کسی مجلس سے گذرتی ہے تو وہ زانیہ ہوتی ہے۔(ترمذی) اسی طرح مسلم شریف کی روایت ہے حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے اس بناؤ سنگھار کو دیکھ لیتے جو اب عورتوں نے ایجاد کر لیا ہے تو ان کو (مساجد میں نماز پڑھنے سے) اسی طرح منع فرمادیتے جس بنی اسرائیل کی عورتوں کو مساجد میں نماز پڑھنے سے منع کر دیا گیا تھا۔(تبیان القرآن بحوالہ مسلم شریف) تفسیر الحسنات میں صاحب تفسیر بزار کے حوالے سے لکھتے ہیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں عورتیں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرد تو جہاد في سبیلِ اللہ کے ذریعہ بڑھ گئے کیا ہمارے لئے بھی کوئی ایسا عمل ہے جس کے ذریعہ ہم مجاہدین کی فضیلت کو پا سکیں تو آپ نے فرمایا تم میں سے جو اپنے گھر میں بیٹھے وہ عمل مجاہدین فی سبیل اللہ کا اجر پائے گا۔اس پر علامہ آلوسی فرماتے ہیں بیشک عورتوں پر گھر سے نکلنا حرام بلکہ گناہ کبیرہ ہے جیسا کہ ان کا زیارت قبور کے لیے جانا جبکہ فتنہ کا اندیشہ ہو اور مسجد کی طرف جانا بھی ممنوع ہے جبکہ خوشبو سے معطر ہو کر اور زیورات سے مزین ہوکر نکلیں تو حرام ہے اور اگر فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو تب بھی ممنوع ہے اگر چہ کبیرہ نہیں۔(تفسیر الحسنات) ان روایات سے بالکل واضح ہوگیا کہ پردے کی اسلام میں کیا اہمیت ہے اور اسی کے ذریعہ اللہ کے قریب ہوتی ہے۔اور پردہ ہی عورت کی عصمت و عفت کا ضامن ہے۔لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے آپ کو اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کے لیے آمادہ کریں، اور اپنی بہن بیٹیوں کو شریعت کے احکام سے آگاہ کریں، اور انہیں بے پردہ گھومنے پھرنے سے روکیں۔کیوں کہ نام نہاد آزادی اسلام کی بنیادوں کو ہلا دیگی جو انتہا کو پہنچ کر پوری قوم کو منتشر کردیگا اس کے بعد دنیا کی کوئی طاقت اور فلسفہ اسے تباہی و بربادی سے نہیں بچا سکے گی۔

از قلم: ساغر جمیل رشک مرکزی
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ، علی گڑھ

 

مزید پڑھیں:

برصغیر کے سنی علما کی ترتیب کردہ چودہ مشہور کتب حدیث

امام احمد رضا کے خلفا، تلامذہ اور مریدین کی تفسیری خدمات

خدائی پابندیوں کو اپنا کر ہی "ایڈز- AIDS”سے بچا جا سکتا ہے

اعلیٰ حضرت

محدث اعظم پاکستان اور ادب حدیث

کارٹونوں کی بڑھتی تخریب کاری لمحۂ فکریہ

سو شل میڈیا کا استعمال، ہمارے بچے اور بچیاں

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment