کارٹونوں کی بڑھتی تخریب کاری لمحۂ فکریہ

کارٹونوں کی بڑھتی تخریب کاری لمحۂ فکریہ

Table of Contents

کارٹونوں کی بڑھتی تخریب کاری لمحۂ فکریہ
کارٹونوں کی بڑھتی تخریب کاری لمحۂ فکریہ

کارٹونوں کی بڑھتی تخریب کاری لمحۂ فکریہ

از قلم:محمد شاہد علی مصباحی
روشن مستقبل دہلی

انیمیٹڈ کارٹون ایک ایسی ناقابل فراموش حقیقت ہیں جنہوں نے ہمارے بچوں کی فکری صلاحیتوں کو نہ صرف تباہ کر کے رکھ دیا ہے بلکہ ان کی ذہنیت کو اسلام سے پھیرنے کا کام بھی کر رہے ہیں۔
جس طرح سے ان انیمیٹڈ کارٹونوں میں اغیار کے مذہبی پیشواؤں کو ہر طرح کی خوبی سے مزین کر کے دکھایا جارہا ہے وہ ہمارے بچوں کی ذہن پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔
وہ کارٹون سماجی کام کرتا ہوا نظر آتا ہے تو کبھی فلاحی کام میں مصروف نظر آتا ہے، کبھی مذہبی کام کرتا ہوا نظر آتا ہے تو کبھی ثقافی۔ اس طرح بچے اس کی شخصیت سے متأثر ہوکر اسی کیریکٹر کو اپنا آئیڈل بنا لے رہے ہیں۔
ایک تازہ واقعہ:
میں ایک گھر میں تھا میں نے ایک چار سال کا بچہ دیکھا جو اپنی ماں سے بول رہا تھا: "مجھے چھوٹا بھیم (انیمیٹڈ کارٹونوں کا ایک کیریکٹر) بننا ہے۔”
اس کی ماں نے شرمندہ ہوتے ہوے میری طرف دیکھا اور بچے سے بولی: ” کہ چھوٹا بھیم نہیں بننا وہ اچھا نہیں ہوتا.”
بچہ بولا: ” نہیں امی! وہ تو بہت اچھا ہے۔ وہ سب کی مدد کرتا ہے۔”
اس کی ماں نے کافی سمجھانے کی کوشش کی مگر بچہ اس کریکٹر کی خوبیوں کی وکالت کرتا رہا، آخر کار بچہ کی ماں نے مزید شرمندگی سے بچنے کے لیے بچے کو پیسے دے کر دکان بھیج دیا۔
اس واقعہ سے آپ اندازہ کریں کہ آپ کا بچہ جو دیکھ رہا ہے اس کا کتنا گہرا اثر بچے کی زندگی اور اس کی شخصیت پر پڑتا ہے۔ وہ جو دیکھتا ہے، جو محسوس کرتا ہے اسی کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اور ہم اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر کیے بغیر ان کے ہاتھ میں فون تھما دیتے ہیں اور بچوں کو آزاد چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ جیسا کارٹون چاہیں وہ دیکھیں۔
بعض کارٹون تو صرف اخلاقیات پر حملہ آور ہوتے ہیں جن کو کہیں تک برداشت کیا جا سکتا ہے حالانکہ گنجائش اس کی بھی نہیں ہے۔ اور بعض کارٹون ہمارے بچے کے دین و مذہب پر حملہ آور ہوتے جسے قطعی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ کیوں کہ بچے نرم موم کی طرح ہوتے ہیں انہیں جس سانچے میں ڈھال دیا جاے ڈھل جاتے ہیں، اگر ابھی ہمارے بچوں کے دلوں میں باطل رہنماؤں کی محبت دلوں میں ان کارٹونوں کے ذریعے بیٹھ گئی تو یقین جانیں یہ آخری سانس تک بچوں کے دلوں میں باقی رہے گی۔
خدا را! اپنے بچوں کو موبائل دیکھنے کی قبیح ترین عادت سے بچائیں۔ یہ متعدد جہات سے آپ کے بچے کی زندگی تباہ کر رہی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ خود بھی بچوں کے سامنے فون نہ دیکھیں صرف ضرورت بھر بات کریں، بچوں کے سامنے فون میں ویڈیوز دیکھنے یا اور کچھ کرنے سے پرہیز کریں تبھی آپ اپنے بچے کو اس قبیح عادت سے بچا سکیں گے۔
لیکن موجودہ حالات میں وہ بچے جو کارٹون کے عادی ہو چکے ہیں ان بچوں کا کارٹون سے دور کرنا بہت مشکل ہے۔ جب آپ کسی چیز کی عادت نہیں چھڑا سکتے تو اس کے متبادل پر غور کریں اور اپنے بچوں کے لیے بہترین متبادل تلاش کریں جس سے ان کو اس بری عادت سے نجات دلائی جاسکے۔
جب ہم کارٹون کے متبادل پر غور کرتے ہیں تو ہمیں چند اسلامی کارٹون سیریز نظر آتی ہیں جن میں قابل ذکر
● "غلام رسول کے مدنی پھول” کے نام سے غلام رسول اور فیضان کا کردار بھی بچوں کے لیے کافی دل موہ لینے والا ہوتا ہے، یہ سلسلہ کھیل کھیل میں دین سے وابستگی کا اہم ذریعہ ثابت ہورہا ہے ۔
"غلام رسول کے مدنی پھول ” کے نئے ورژن میں غلام رسول، فیضان، نعمان، اسید، ببلو بھائی کا ٹریک بھی نہایت شاندار اور قابل تعریف ہے۔ جس طرح اس میں اسلامی تعلیمات کو اینیمیشن کے سہارے پیش کیا جارہا ہے وہ کافی دیدہ زیب لگتا ہے۔ لیکن یہ اینیمیشن کارٹون کی دنیا میں اس قدر عام نہیں، جتنا کہ ہونا چاہیے، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ بچے کارٹون دیکھتے ہیں مزہ کے لیے، اور اس میں انھیں کمی لگتی ہے ۔ لہذا تفریح کو نظر میں رکھ کر کچھ چلبلا پن اور کچھ ضروری تفریح طبع کا سامان بھی ان میں رکھنا چاہیے ۔
"کنیز فاطمہ” کا کارٹون بھی بچوں کو خوب پسند آتا ہے اس کی بہن "رائقہ” کا چلبلا انداز بچوں کے لیے بڑا دلچسپ ہوتا ہے. اور ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات بھی حاصل ہوتی ہیں۔
● کڈس مدنی چینل ● مدنی چینل پر ۱یک پروگرام ” بچوں کی شام” کے نام سے آتا ہے وہ بھی بڑا دلچسپ ہوتا ہے ۔
دعوتِ اسلامی کی طرف سے جاری کردہ ایپ ” کلمہ اینڈ دعا ” کے نام سے بھی بڑا مفید ثابت ہوا ہے، جس کے ذریعے بنیادی دعائیں، اور ذکر و اذکار ، کلمات اور اسلامی اخلاقی تربیت؛ بہترین انداز میں بچوں کو سکھانے کی کوشش کی گئی ہے ۔

ان سب کے باوجود اتناہی یہ کافی نہیں ۔ آج کا معاشرہ کا حال یہ ہے کہ مجھے نہیں لگتا کوئی گھر ایسا ہو جہاں بچے کارٹون نہ دیکھتے ہوں۔ اگر یہ سچ ہے تو ہمیں اس پر کام کرنا ہوگا اور مذکورہ کارٹونوں کی طرح کچھ اور اینیمیشن والے کارٹون بنانے ہوں گے۔ اور بنانے والے یہ ذہن میں رکھیں کہ ابتداءً کارٹون ایسے ہوں جن میں کھیل زیادہ ہو اور تعلیمات کم ہوں تاکہ بچے ان غیر مذہبی سپر ہیروز والے کارٹون ترک کر کے اسلامی تعلیمات والے کارٹون دیکھیں۔ اگر صرف تعلیمات بھر دیں گے تو بچے متوجہ ہی نہیں ہوں گے اور جب متوجہ نہیں ہوں گے تو مقصد فوت ہوجائے گا۔
ایک اور ضروری بات جو لوگوں سے اس تعلق سے گفتگو کے دوران معلوم ہوئی وہ یہ کہ بڑی تعداد میں یو ٹیوب پر ایسے کارٹون بھی اپ لوڈ ہورہے ہیں جن میں جنسی تعلقات دکھائے جا رہے ہیں اور بچے جو ٹیوب کا ایلگورٹھم سسٹم اپنے آپ ایسے کارٹونوں کو پرموٹ کر رہا ہے۔ ایسے میں آپ کی ذمہ داری اور زیادہ بڑھ جاتی ہے ۔ اس سے نجات پانے کے لیے آپ بچوں کے کارٹون دیکھنے کے بعد چیک کریں کہ کیا کیا دیکھا گیا ہے اور اس میں کہیں ایسا مواد پائیں جس میں جنسی تعلقات کو دکھایا گیا ہو یا اس کی طرف ابھارا گیا ہے تو پہلی فرصت میں ایسے کارٹون کو رپورٹ کریں۔
ایک اور طریقہ یہ بھی ہے بچوں کے فون پر نگرانی کرنے کے لیے متعدد ایپ ہیں جن سے آپ معلوم کرسکتے ہیں کہ بچہ کیا دیکھ رہا ہے اور جب آپ کا بچہ کوئی چیز اوپن کرے گا تو آپ سے اجازت مانگی جاے گی آپ اجازت دیں گے تبھی آپ کا بچہ اس چیز کو اوپن کر سکے گا۔
انہیں ایپلیکیشنز میں سے ایک بہترین ایپ
"Google Family Link”
ہے۔

محمد شاہد علی مصباحی

از قلم:محمد شاہد علی مصباحی

روشن مستقبل دہلی، تحریک علماے بندیل کھنڈ

نوٹ: اگر مضمون اچھا لگے تو اپنے احباب تک ضرور پہنچائیں۔

مزید پڑھیں

میلاد مصطفیﷺ منانےکے فائدے

تحریک دعوت اسلامی کے فکری محاسن

اسلاف کرام کا صبر وتحمل اور حکمت ودانش مندی

شیئر کیجیے

Leave a comment