نور سے ان کے ہوا سارا زمانہ نوری

نور سے ان کے ہوا سارا زمانہ نوری

Table of Contents

نور سے ان کے ہوا سارا زمانہ نوری
سید منظر میاں چشتی

ہم نہیں کہتے کہ ہے صرف مدینہ نوری
نور سے ان کے ہوا سارا زمانہ نوری

پیرہن نور، بدن نور ہے اسما نوری
ان سے پہلے کہیں دیکھا نہیں ایسا نوری

ویسے کالے کو کوئی نور نہیں کہتا ہے
ان کے گیسو کو مگر کہنا پڑے گا نوری

دست و پا نور ہیں آقا کے تو حیرت کیا ہے
سینۂ سنگ پہ ہے نقشِ کف پا نوری

وہ بشر ہیں مرا ایمان ہے اس پر لیکن
خاکی ہوکر بھی ہیں سرکار سراپا نوری

قول حسان سے ثابت ہے کہ تم نے رب سے
جیسا چاہا تمہیں ویسا ہی بنایا نوری

دیکھنا ہوتا ہے جب مجھ کو مدینہ منظٓر
آنسوؤں سے میں بنا لیتا ہوں نقشہ نوری

سید منظر میاں چشتی

پھپھوند شریف یوپی ہند

مزید پڑھیں

نعت رسول مقبول ﷺ

ذکر کیجے سیدِ ابرار کا

حضور بخشیں حیا کی بارش

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment