حضور حافظ ملت جہاں بھی جاتےہین

حضور حافظ ملت جہاں بھی جاتےہین

Table of Contents

حضور حافظ ملت جہاں بھی جاتےہین

 

از: واصف رضا واصف

شبان ہجر کی وہ تلخیاں مٹاتے ہیں
نوید صبح سکوں خیز جب سناتےہیں

نگاہ فیض و تلطف سے حافظ ملت
نشیب زاد کو رشکِ سما بناتےہیں

فروغ ملتا ہے دین محمدی کو وہاں
حضور حافظ ملت جہاں بھی جاتےہین

کشاں کشاں چلے آو اے مفلسان ہنر
وہ بحر ،جود و عنایات کا بہاتے ہیں

نصیب ہوتی ہےان کوسکون کی سانسیں
ترے دیار ِ کرم بار میں جو آتےہیں

حضور حافظ ملت کو یادکر پیارے
رہاٸی قید غم و حزن سے دلاتےہیں

پیام دیتے ہیں لوگوں کو اتحاد کا وہ
اور اختلاف کے نقصان سے بچاتےہیں

وہ اپنے رند بلا نوش کو سدا واصف
شراب عشق حبیب خدا پلاتےہیں

عقیدت کیش
واصف رضاواصف مدھوبنی بہار

مزید پڑھیں

اشرفیہ میں بہار و تازگی عبدالعزیز

مہ اقبال تیرا نور افزا حافظ ملت

مثال ماہ تاباں ہے جوار حافظ ملت

پرچم ترے اذکار کے لہراٸیں ابوالفیض

حق گوٸی رہی آپ کی پہچان ابوالفیض

اے رہبر دیں قوم کے معمار ابوالفیض

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment