جِلاء دیتی ہے نظروں کو مزار حافظ ملت

جِلاء دیتی ہے نظروں کو مزار حافظ ملت

Table of Contents

جِلاء دیتی ہے نظروں کو مزار حافظ ملت
جِلاء دیتی ہے نظروں کو مزار حافظ ملت

جِلاء دیتی ہے نظروں کو مزار حافظ ملت

ازقلم: مشاہد رضا قادری

سمجھ لو اس سے، کیا ہوگا وقار حافظ ملت
دیار علم و حکمت ہے دیار حافظ ملت

ہے ان کی راہ دستورِ عمل سب کیلئے بیشک
ضرورت ہے ہم اپنائیں شعار حافظ ملت

عدو کا وار ہو سکتا نہیں ہے اشرفیہ پر
کہ یہ رہتا ہے ہر دم در حصار حافظ ملت

اشارے سے وہ کرتے ہیں زبر، جس زیر کو چاہیں
سمجھ پائے خرد کب اقتدار حافظ ملت

کشش کیا ہی رکھی ہے روضہ و محراب میں ان کے
جِلاء دیتی ہے نظروں کو مزار حافظ ملت

ہو اپنے آپ میں تم سب کے سب علمی چمن بیشک
سلامی لو سبھی اے جانثار حافظ ملت!

مخالف پا نہیں سکتا ہے ان پر اب بھی کوئی راہ
صف باطل پہ یوں برسا شرار حافظ ملت

وہی جذبہ، وہی تیور، وہی ایثار ہے تجھ میں
رئیسِ جامعہ اے یادگار حافظ ملت!

عبارت ہے صف مصباحی ان کے کارنامے سے
جہاں میں ہر جگہ ہے شاہکار حافظ ملت

ہیں مجھ پر بھی بہت احسان انکے علمی درپن کے
مشاہد میں بھی ہوں مدحت نگار حافظ ملت

ازقلم:مشاہد رضا قادری
متعلم: جامعہ اشرفیہ مبارک پور

مزید پڑھیں:

مثال ماہ تاباں ہے جوار حافظ ملت

پرچم ترے اذکار کے لہراٸیں ابوالفیض

حق گوٸی رہی آپ کی پہچان ابوالفیض

اے رہبر دیں قوم کے معمار ابوالفیض

عاشق شاہ ذیشاں ابوالفیض ہیں

سایہ ٕ لطف ابو الفیض میں آجاتے ہیں

عطاے شافع روز جزا ہیں حافظ ملت

وہ بحر علم کے تاباں گہر ہیں حافظ ملت

ہے زباں پر حافظ ملت کاراحت بخش نام

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment