کیا بیاں شان ہو اے حافظ ملت تیری

کیا بیاں شان ہو اے حافظ ملت تیری

Table of Contents

درشان حضورحافظ ملت علیہ الرحمہ

واصف رضا واصف

 

کیا بیاں شان ہو اے حافظ ملت تیری
ماوراے حد افکار ہے رفعت تیری

عمر بھر جوہر کردار رہا نور فشاں
عطر مجموعہ ،رہی عادت و خصلت تیری

کیوں نہ ہو جادہ رفعت پہ رواں یہ ہردم
اشرفیہ پہ ہے جب چشم عنایت تیری

تیری یادوں سے منور ہے خیالوں کا جہان
خانہ ٕ دل میں ہے تابانی الفت تیری

اپنی زنبیل طلب لوگ یہاں بھرتے ہیں
خوب مشہور ہے ہرسمت سخاوت تیری

تیرے دربارکے ذرے بھی ہیں رشک مہتاب
یعنی مصباحی جماعت ہے کرامت تیری

رہرو راہ معارف کو سہولت ہے بہم
ضوفشاں اب بھی ہے قندیل ہدایت تیری

رب تعالی سے دعا ہے کہ وہ کرلے مقبول
ازپٸے دین نبی جوبھی ہے خدمت تیری

خوب ہے بارش الہام مضامین ثنا
آپ واصف سے ہوٸی جاتی ہےمدحت تیری

 

(کیا بیاں شان ہو اے حافظ ملت تیری)
(ماوراے حد افکار ہے رفعت تیری)

عقیدت کیش
واصف رضا واصف مدھوبنی بہار

 

مزید پڑھیں:

اشرفیہ میں بہار و تازگی عبدالعزیز

مہ اقبال تیرا نور افزا حافظ ملت

مثال ماہ تاباں ہے جوار حافظ ملت

پرچم ترے اذکار کے لہراٸیں ابوالفیض

حق گوٸی رہی آپ کی پہچان ابوالفیض

اے رہبر دیں قوم کے معمار ابوالفیض

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment