Islamic Articles, Naat, Manqabat etc

Read Here For Free


دنیا کا سب سے پہلا کیمیاداں

دنیا کا سب سے پہلا کیمیاداں

The World’s first Chemistrian

 

اللہ رب العزت نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر تمام مخلوقات پر فوقیت و برتری کا اعزاز بخشا،یہان تک کہ شمس و قمر کو مسخر کردیا (و سخرلکم الشمس والقمر۔ القرآن)اور عقل و شعور،حکمت و دانائی عطا کی جس کے بدولت آج انسان اللہ کی پیدا کردہ اشیا میں میں غور و فکر،تلاش و جستجواور ریسرچ کر کے ترقی کے منازل طے کر رہا ہے۔

آج ہم سائنس اور ٹیکنا لوجی کے اس دور میں جی رہے ہیں جہاں انسانوں دُوَارا بنائی ہوئی چیزیں،ہمارے زندگی کا اہم حصہ بن چکی ہیں۔ اور اس میدان میں مسلمانوں کا بہت اہم رول رہا ہے لیکن تاریخ سے کافی فاصلہ بنائے رکھنے کی وجہ سے ہم نے اپنے بزرگوں کو فراموش کر دیا اور اس میدان کا ہیرو ان مغربی ممالک (Western (countriesکے مفکرین کو سمجھ لیا جو ہمارے بزرگوں کی عطا کردہ نظریہ پر کام کر کے آگے بڑھے۔ اور ان کے مؤرخین(Historian) کو بھی بالکل غلط نہیں ٹھہرایا جا سکتا کیوں کہ یہ کام ہمارا تھا پر افسوس آج بھی ہم غافل ہیں۔

آج اسکولی نصاب) (Syllabusمیں بھی دور دور تک ان کا نام و نشاں تک نظر نہیں آتا، لیکن تاریخ کے پنوں میں آج بھی ان کے سنہرے کارنامے محفوظ ہیں اگرچہ ان کانام نہ لیا جاتا ہو لیکن عربی مؤرخین و دگر دانشور وں نے اپنی کتابوں میں انکی کی خدمات کو اپنے کاوشوں کی زینت بنائی ہے۔ انھیں میں سے جابر بن حیان ہیں جو دنیا کے سب سے پہلے میدان ِکیمیا میں تحقیق کے جوہر دکھائے اور کئی کارآمد اشیا کی تخلیق کی۔
یورپ کے تمام محققین اس بات پر متفق ہیں کہ تاریخ میں پہلا کیمیا داں (chemistrian) جس پر یہ نام صادق آتا ہے جابر بن حیان تھا۔اہل یورپ میں وہ ”جبیر”(geber) کے نام سے مشہور ہے جو (لفظ) ”جابر” کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔

ابتدائی احوال

جابر عرب کے جنوبی حصے کے ایک قبیلہ” ازد” کا فرد تھا۔اس خاندان کے لوگ کوفے میں آباد ہوگئے تھے، اس شہر میں اس کے باپ حیّان کی دواسازی کی دکان تھی یہ دوسری صدی ہجری کا ابتدائی زمانہ ہے جب بنی امیہ کی خلافت کی دیواریں متزلزل ہو گئی تھیں۔

جابر کے والد حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی دکان چھوڑ کر خراسان کے شہر ”طوس” میں چلے آئے۔اسی شہرمیں 722ء میں جابر کی پیدائش ہوئی۔ لیکن ولادت کے کچھ ہی عرصے ہوئے تھے کہ جابر یتیم ہوگیا اور ان کی والدہ ہمراہ لیکر عرب چلی گئی اور اپنے قبیلے میں رہنے لگی۔ اس طرح جابر کی زندگی کے ابتدائی ایام ننھیال میں گزرے۔یہاں ایک قابل استاد کی سرپرستی حاصل ہوئی جس کا نام ” حربی الحمیاری” تھا۔اس استاد سے قرآن پاک مکمل کیا اور ساتھ ہی ریاضی (mathematics) اور دوسرے علوم کی بھی تعلیم پائی۔

 

بارگاہِ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ میں،جابر بن حیاّن

جابر کی عمر جب 26 سال ہوئی اپنے قبیلے چھوڑ کر اب مدینہ منورہ میں آیا جہاں اس نے حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ کے دست مبارک پر بیعت کی اور ان کے حلقہ بگوش میں شامل ہو گیا۔یہ انھی کے صحبت کا فیض تھا کہ جابر پر، باوجود اس امر کے کہ اس کی تحقیق کا میدان سائنس تھا مذہب اسلام کا رنگ تمام عمر غالب رہا۔
مدینہ منورہ سے اپنے آبائی شہر آکر جابر نے کوفے میں اپنی تجربہ گاہ(Laboratory) قائم کی اور کیمیا (chemistry) کی ان تحقیقات کی تکمیل کی جن کی وجہ سے اس کو دنیا کا ”پہلا کیمیاداں (chemistrian) ہونے کا اعزاز ملا۔
جب دو سال بعد یعنی گیارہویں صدی میں کوفے کے اس علاقے کی جو دمشقی دروازے کے اندر واقع تھا اور جو مرور زمانہ سے منہدم ہوگیا تھا خدائی کی گئی تو جابر کی تجربہ گاہ (laboratory) کے آثار برآمد ہوئے تھے اور اس کے بعض کیمیائی آلات بھی ملے تھے۔
جابر کا مطالعہ بہت وسیع تھا اور اسے یونانی زبان پر بھی عبور حاصل تھا۔ اپنے زمانے کے ان معدودے چند لوگوں میں سے تھا جنہوں نے یونانی زبان سے براہ راست علم حاصل کر کے اسے عربی زبان میں منتقل کیا۔
اگرچہ جابر کی تحقیق کا اصل میدان کیمیا تھا لیکن اس کی بعض مشہور تصنیفات دیگر علوم پر بھی تھیں۔ اقلیدس کے ہندسے اوربطلیموس کی مجسطی پر، جو اس زمانے میں جیو میٹری (geometry)اور ہیئت(physiology)کی بہت مشہور کتابیں تھیں اس نے شرحیں تحریر کی تھیں علاوہ ازیں اس نے ایک رسالہ منطق (logic) پر، ایک رسالہ علم شاعری(poetry) پر اور ایک رسالہ انعکاس روشنی پر بھی لکھا تھا۔
جب جابر کے کمال کی شہرت بغداد تک پھیلی تو ہارون رشید کے دوسرے وزیر جعفر برمکی نے جابر کو بغداد میں 

بلایا۔جابر چند سال تک بغداد میں رہا۔چنانچہ اس نے کیمیا (chemistry) پر جو ایک کتاب اس زمانے میں لکھی تھی، وہ ہارون رشید کے نام پر معنون کی گئی تھی۔
جابر کے زمانے میں کیمیا کی ساری کائنات ”مہوسی” تک محدود تھی۔ یہ وہ علم تھا جس کے ذریعے کم قیمت دھاتوں مثلا پارے یا تانبے یا چاندی کو سونے میں منتقل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی اور جو لوگ اس کوشش کو اپنی زندگی کا محور بنا لیتے تھے وہ ”مہوسی” کہلاتے تھے۔
جابر اگرچہ یہ یقین رکھتا تھا کہ کم قیمت دھاتوں کو سونے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے لیکن اس کی تحقیقات کا دائرہ کار اس کوشش رائیگاں سے کہیں زیادہ وسیع تھا۔ وہ کیمیا کے کے تمام تجرباتی عملوں مثلاً حل کرنا، فلٹر کرن، کشیدہ کرنا، عملتصعید (sublimation) سے اشیا جوہر اڑانا اور قلماؤ (Crystallisation) کے ذریعے اشیا کی قلمیں بنانا، ان سب سے نہ صرف واقف تھا بلکہ اپنے کیمیائی تجربوں میں ان سے بکثرت کام لیتا تھا۔

اس لحاظ سے وہ تجرباتی کیمیا کا بانی ہے اور یہی وہ خصوصیت ہے جس کے باعث اس کا شمار قدیم زمانے کے ممتاز سائنس دانوں میں ہوتا ہے۔

 

اپنی ایک کتاب میں وہ لکھتا ہے:

” کیمیا میں سب سے ضروری شی تجربہ ہے۔ جو شخص اپنے علم کی بنیاد تجربے پر نہیں رکھتا وہ ہمیشہ غلطی کھاتا ہے۔ پس اگر تم کیمیا کا صحیح علم حاصل کرنا چاہتے ہو تو تجربوں پر انحصار کرو اور صرف اسی علم کو صحیح جانو جو تجربے سے ثابت ہو جائے۔ ایک کیمیاداں کی عظمت اس بات میں نہیں ہے کہ اس نے کیا کچھ پڑھا ہے، بلکہ اس بات میں ہے کہ اس نے کیا کچھ تجربے کے ذریعے ثابت کیا ہے“۔

جابر اکثر و بیشتر اوقات تخیلات کی دنیا میں گم ہو کر تجسس بھری سوچ و فکر میں غرق ہو جاتے اور تجربہ کرتے رہتے۔ گھر کو تجربہ گاہ کی شکل میں ڈھال دیا تھا۔ سونا تیار کرنے کی تکنیک کی لگن میں انہوں نے بے شمار حقائق دریافت کیے اور اور نتیجے میں متعدد ایجادات معرض وجود میں آئیں۔

 

دھاتوں کے متعلق جابر کا نظریہ

ان کا نظریہ تھا کہ دھاتوں تمام دھاتیں گندھک اور پارے سے بنی ہیں۔جب دونوں اشیاء بالکل خالص حالت میں ایک دوسرے کے ساتھ کیمیائی ملاپ کرتی ہیں تو سونا پیدا ہوتا ہے۔مگر جب ناخالص حالت میں ملاپ ہوتا

ہے تو دگر کثافتوں کی موجودگی ان کی مقدار کی کمی بیشی سے دوسری دھاتیں مثلاً چاندی، سیسا، تانبا، لوہا وغیرہ ظہور میں آتی ہیں۔

دنیا کا سب سے پہلا کیمیاداں
دنیا کا سب سے پہلا کیمیاداں

عمل تکلیس

جسے عام زبان میں دھات کا کشتہ بنانا کہتے ہیں۔وہ عمل ہے جس کے ماتحت ایک دھات کو گرمی پہنچا کر اس کا آکسائیڈ (اور بعض حالتوں میں اس کا کوئی اور مرکب) تیار کیا جاتا ہے۔ جابر اس عمل سے بخوبی آشنا تھا۔چنانچہ اس نے اس عمل خاص پر ایک جامع کتاب تصنیف کی ہے۔

 

جابر کی دی ہوئی کار آمد، یادگارفارمولاجو آج کثیر الاستعمال ہیں

۱)عملِ تصعید :یعنی دواؤں کا جوہر اڑانا (Bublimation) اس طریقے کو سب سے پہلے جابر نے اختیار کیا، تاکہ لطیف اجزا کو حاصل کر کے دواؤں کو مزیدمؤثر بنایا جا سکے،اور محفوطظ رکھا جا سکے۔
۲)فلٹر کرنا اسی نے بتایااور اس کا طریقہ ایجاد کیا۔
۳)جابر نے لوہے پر تجربے کر کے یہ بتایا کہ لوہے کو صاف کر کے فولاد بنایا جا سکتا ہے۔
۴)لوہے کو زنگ سے کیسے بچایا جائے۔
۵)اس نے موم جامہ(وہ کپڑا جس پر پانی کا اثر نہ ہو) بنایا تاکہ پانی یا رطوبت سے چیزوں کو بچایا جا سکے۔
۶)چمڑے کو رنگ کرنے کا طریقہ دریافت کیا۔
۷)بالوں کو کالا کرنے کے لئے خضاب کا نسخہ اسی نے بتایا۔

سب سے بڑا کارنامہ اس کا تیزاب ایجاد کرنا ہے، اس نے کئی قسم کے تیزاب بنائے، اور ایک ایسا تیزاب ایجاد کیا جو سونے کو بھی پگھلا دیتا تھا،علاوہ ازیں جابر نے اپنی کتابوں میں سفیدہ، یعنی لیڈ کار بونیٹ (Lead carbonate) سنکھیا،یعنی آر سینک (Arsenic) اور کحل،یعنی(Antimony) کو ان کے سلفائڈ(Sulphides) سے حاصل

کرنے کے طریقے بھی پوری وضاحت ساتھ سپرد قرطاس کیے ہیں۔

دنیا کا سب سے پہلا کیمیاداں
دنیا کا سب سے پہلا کیمیاداں

 

قرعِ انبیق(Distillation Appratus)

قرعِ انبیق(Distillation Appratus)
قرعِ انبیق(Distillation Appratus)

قرع النبیق جابر کی اہم ایجادات میں سے ایک ہے جو ایک آلہ ہے جس کے دو حصے تھے۔ ایک کو قرع اور

دوسرے کو نبیق کہتے تھے اس کے ایک حصہ میں کمیائی مادوں کو پکایا جاتا اور مرکب سے اٹھنے والی بخارات کو نالی کے ذریعہ آلہ کے دوسرے حصہ میں پہنچا کر ٹھنڈا کر لیاجاتا تھا۔ یوں وہ بخارات دوبارہ مائع حالت اختیار کر لیتے۔ کشیدگی کا یہ عمل کرنے کے لیے آج بھی اس قسم کا آلہ استعمال کیاجاتا ہے۔ اس کا موجودہ نام ریٹارٹ ہے۔

 

تیزاب

 

یہ جابر کی اہم دریافتوں میں سے ہے ایک دفعہ کسی تجربے کے دوران میں قرع النبیق میں بھورے رنگ کے بخارات اٹھے اور آلہ کے دوسرے حصہ میں جمع ہو گئے جو تانبے کا بنا ہوا تھا۔ حاصل شدہ مادہ اس قدر تیز تھا کہ دھات گل گئی۔ جابر نے مادہ کو چاندی کے کٹورے میں ڈالا تو اس میں بھی سوراخ ہو گئے۔ چمڑے کی تھیلی میں ڈالنے پر بھی یہی نتیجہ نکلا۔ جابر نے مائع کو انگلی سے چھوا تو وہ جل گئی۔ اس کاٹ دار اور جلانے کی خصوصیت رکھنے والے مائع کو انہوں نے تیزاب یعنی ریزاب کا نام دیا۔ پھر اس تیزاب کو دیگر متعدد دھاتوں پر آزمایا لیکن سونے اور شیشے کے علاوہ سب دھاتیں گل گئیں۔ جابر بن حیان مزید تجربات میں جٹ گئے۔ آخر کار انہوں نے بہت سے کیمیائی مادے مثلاً گندھک کا تیزاب اور ایکوار یجیا بنائے۔ حتٰی کہ انہوں نے ایک ایسا تیزاب بنایا جس سے سونے کو بھی پگھلانا ممکن تھا۔

 

عناصر و مادے کی حالت

جابر بن حیان نے مادّے کو عناصر اربعہ کے نظریے سے نکالا۔ یہ پہلا شخص تھا جس نے مادّے کی تین حصّوں میں درجہ بندی کی۔ نباتات، حیوانا ت اور معدنیات۔ بعد ازاں معدنیات کو بھی تین حصّوں میں تقسیم کیا۔ پہلے گروہ میں بخارات بن جانے والی اشیاء رکھی اور انہیں ”روح” کا نام دیا۔ دوسرے گروہ میں آگ پر پگھلنے والی اشیاء مثلاً دھاتیں وغیرہ رکھیں اور تیسرے گروہ میں ایسی اشیاء رکھیں جو گرم ہوکر پھٹک جائیں اور سرمہ بن جائے۔ پہلے گروہ میں گندھک،سنکھیا،نوشادر وغیرہ شامل ہیں۔

 

دیگر اکسپریمنٹ

انہوں نے دھات کا کشتہ بنانے کے عمل میں اصلاحات کیں اور بتایا کہ دھات کا کشتہ بنانے سے اس کا وزن بڑھ جاتا ہے۔ عمل کشید اور تقطیر کا طریقہ بھی جابر کا ایجاد کردہ ہے۔ انہوں نے قلماؤ یعنی کرسٹلائزیشن کا طریقہ اور تین قسم کے نمکیات دریافت کیے۔

 

 

تصنیفی خدمات

جابر بن حیان نے کیمیا کی کتب کے علاوہ اقلیدس کی کتاب ”ہندسے”، بطلیموس کی کتاب ”محبطی/مجسطی” کی شرحیں بھی لکھیں۔ نیز منطق اور شاعری پر بھی رسالے تصنیف کیے۔ اس سب کے باوجود جابر مذہبی آدمی تھے اور امام
جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے پیروکار تھے۔ان کی تحاریر میں 200 سے زائد کتابیں شامل ہیں۔

 

مشہور کتابیں:

”کتاب الملک“
”کتاب الرحمہ“
”کتاب التجمیع“
”زیبق الشرقی“
”کتاب الموازن الصغیر“

 

وفات

جابر نے بہت لمبی عمر پائی،چناں چہ جب مامون الرشید ۳۱۸ء میں تخت نشیں ہوا تو جابر زندہ تھا اور اس کی عمر ۰۹/ سال سے متجاوز کر چکی تھی۔ایک روایت کے مطابق اس نے اس پیرانہ سالی میں مامون رشید کے دربار میں حاضری دی تھی اور وہاں سے خلعت کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ جابر نے ۷۱۸۱ء میں اس دار فانی سے کوچ کیا اور رحلت کے وقت اس کی عمر پچانوے سال تھی۔

از: محمد تسلیم رضا مصباحی ، متعلم جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ


مختصر حیات وخدمات مناظر اہل سنت حضرت علامہ مفتی محمد طفیل احمد رضوی نوری

Spread The Love

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Related Posts