تاریخِ شہادت حضرت عمر رضی اللہ عنہ

تاریخِ شہادت حضرت عمر رضی اللہ عنہ

Table of Contents

تاریخِ شہادت حضرت عمر رضی اللہ عنہ

تاریخِ شہادت حضرت عمر رضی اللہ عنہ
تاریخِ شہادت حضرت عمر رضی اللہ عنہ

از قلم: ڈاکٹر فیض احمد چشتی

محترم قارئینِ کرام : شہادت خلیفہ دوم امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ ذوالحجہ کی تقریبا ستائیس اٹھائیس تاریخ کو حضرت عمر ابن خطاب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ پر مسجد نبوی میں نماز پڑھاتے ہوۓ ابو لئولئو فیروز مجوسی ایرانی نے قلاتلانہ حملہ کیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ زخمی ہوۓ اور محرم الحرام کی پہلی تاریخ کو آپ رضی اللہ عنہ شہید ہوۓ ۔ اس سے معلوم ہوا اسلامی سال شروع بھی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ہوتا ہے اور ختم بھی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ پر ہوتا ہے ۔ اس لیے بہت سے ابلیس کے چیلوں کو تکلیفِ شدید ہوتی ہے ۔

 

فَقَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَخَافُ مِنْکَ يَا عُمَرُ ۔ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ ۔ وَ قَالَ : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ ۔

ترجمہ : نبی کریم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عمر رضی اللہ عنہ تم سے شیطان بھی ڈرتا ہے ۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (جامع ترمذی کتاب المناقب باب فی مناقب عمر 5 / 620 الحديث رقم : 3690)(نوادر الأصول فی أحاديث الرسول 1 / 230)(فتح الباری 11 / 588)

امام ابن اثير جزرى علیہ الرحمہ اپنی سند کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب زخمی کیا گیا تو وہ دن بدھ کا دن تھا ، اور ماه ذو الحج ختم ہونے میں تین دن باقی تھے ، اور آپ کی تدفین اتوار کی صبح ہوئی اور اس دن محرم کا پہلا دن تھا ۔ (اسد الغابة في معرفة الصحابة ، جلد 4 صفحہ 166)
نوٹ : ابن اثیر نے آگے ایک اور روایت ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے کہ “والاول اصح ما قيل في عمر” کہ پہلی بات جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہی گئی ہے وہ زیاہ صحیح ہے (یعنی آپ کی تدفین یکم محرم کو ہوئی تھی)

ابو حفص الفلاس کی روایت ہے کہ : ذو الحجة کی چند راتیں باقی تھیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حملے میں زخمی کیے گئے ، اس کے بعد آپ تین راتیں زندہ رہے اور سنہ 24 ہجری کے محرم کی پہلی تاریخ کو آپ کی وفات ہوئی ۔ (تاريخ مدينة دمشق يعني تاريخ ابن عساكر جلد 44 صفحہ 478)

حضرت عبدالله بن زبير رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بروز بدھ جب ذو الحج کے تین دن باقی تھے زخمی کیا گیا پھر آپ تین دن تک زندہ رہے پھر اس کے بعد آپ کی وفات ہوئی ۔ (كتاب المحن صفحہ نمبر 66،چشتی)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کس تاریخ کو ہوئی

تو ایک كتاب میں یہ الفاظ ملے کتاب کا مصنف “رافضی” ہے اور متشدد قسم کا رافضی ہے نام ہے “نعمة الله جزائرى” لکھتا ہے کہ : دوسرے کا قتل 9 ربيع الاول کو ہوا ۔ (دوسرے مراد خلیفہ دوم ہیں) (الانوار النعمانية ، جلد 1 صفحه 84) ۔ اور اس پر مزید مزے کی بات یہ ملی کہ اس کتاب پر حاشیہ میں یہ لکھا گیا کہ “قتل عمر في اليوم التاسع منه كان مشهوراً بين الشيعة” یہ بات شيعه میں مشھور تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قتل 9 ربيع الاول کو ہوا تھا ۔

اس کے علاوہ یہ بات نہایت اہم ہے کہ کم و بیش تقریبا ہر مورخ نے ہی ان پر ابو لولو فیروز کے حملہ کرنے سے شہادت کے دن تک کا درمیانی حصہ تین یا چار دن ذکر کیا ہے ۔ ہمارا بھی یہی موقف ہے کہ حضرت عمر پر حملہ 26 یا 27 ذی الحجہ کو ہوا اور ان کی شہادت اس واقعہ کے تیسرے یا چوتھے دن بعد 1 محرم الحرام کو ہوئی اور حجرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا میں اسی روز دفن ہوئے ۔ اس بارے میں حافظ ابن کثیر کی صراحت اصح ہے ۔ اگر کوئی قول 26 ذی الحج کا مل بھی جائے تو بھی اس بات سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا کہ دونوں اقوال ملتے ہیں پر مشہور قول جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ علامہ ابن کثیر اور دیگر آئمہ اہلسنت کے نزدیک یکم محرم ہی ہے ۔

کسی کی تاریخ ولادت یا شہادت میں اختلاف کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن شیعہ و نیم شیعہ تفضیلی حضرات اسے بغض اہلبیت رضی اللہ عنہم بتا کر لوگوں کو گمراہ کر تے ہیں کہ اہلسنت و جماعت نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اصل شہادت تاریخ بدل دی اور وہ اس لیے کہ انہیں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقابلہ کرنا ہے (أَسْتَغْفِرُ اللّٰه) اور اصل تاریخ یکم محرم نہیں بلکہ 26 ذی الحج ہے ۔ اِس باب میں روایات اور تعبیرات کا اختلاف ہے ، ممکن ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روح مبارک ۲۹/ ذی الحجہ سنہ ۲۳ھ کو قبض ہوئی ہو اور تدفین یکم محرم کی تاریخ لگ جانے کے بعد ہوئی ہو جیسا کہ روایات میں موجود ہے ۔ اور یہ مسئلہ چوں کہ از قبیل عقائد یا اعمال نہیں ہے ، محض علمی و تاریخی ہے اس لیے اس میں زیادہ الجھنے کی ضرورت نہیں ۔

طبقات ابن سعد ج 3 ص 123 اردو ایڈیشن نفیس اکیڈمی کراچی) کا ہے۔ اول تو امام ابن سعد نے اس معاملے میں از خود کوئی واضح تاریخ معین نہیں فرمائی ۔ دوسرا کہ انہوں نے اس باب کا عنوان ہی یہ بنایا ہے کہ حضرت عمر کی مدت خلافت اور حضرت عمرفارق کی عمر کے متعلق مختلف اقوال ۔ پھر ان میں پہلے ترجمۃ الباب کی روایت کمزور ہے ۔ ابوبکر بن محمد بن سعد نامی راوی کا تذکرہ کیا تو اس میں اختلاف نہیں کہ وہ مہجول الحال ہے ۔ اس طرح سے 26 ذی الحجہ والی روایت نہایت کمزور ہے ۔

تاریخ طبری جلد ٣ صفحہ ٦٣٥ دوسرا حوالہ تاریخ طبری جلد 3 صفحہ 217 تا 218 اردو ایڈیشن نفیس اکیڈمی کراچی کا ہے ۔ امام طبری نے بھی ابن سعد کی طرح ان کی تاریخ وفات کے اختلاف کا تذکرہ کیا ہے ۔ چنانچہ پہلا قول تو 27 ذی الحجہ کا بتایا ہے اور یہ روایت بھی نہایت کمزور ہے کیونکہ اس کے دو راوی سلیمان بن عبد العزیز اور جعفر بن عبد الرحمن تو مجہول الحال ہیں اور ایک راوی عبد العزیز بن عمران متروک ہے ۔

دوسرا قول عبد العزیز بن عمران کا ہی ہے جو کہ بغیر کسی جرح کے 1 محرم کا بتایا ہے ۔

تیسرا قول وہی ابن سعد کا ہی ذکر کیا ہے کہ 26 ذی الحجہ کو ہوئی لیکن جیسا پہلے واضح ہو چکا کہ وہ روایت انتہائی کمزور ہے ۔

چوتھا قول ابو معشر کا 26 ذی الحجہ کا ہے جو احمد بن ثابت الرازی کے طریق سے ہے جو کہ کذاب تھا ۔

پانچواں قول ہشام بن محمد کا 27 ذی الحجہ کا ہے جو کہ بلا سند اور منقطع ہے جو نہایت ہی کمزور ہے ۔

تاریخ ابن خلدون جلد ١ صفحہ ٣٨٤ ۔ تیسرا حوالہ تاریخ ابن خلدون (ج 3 ص 236 اردو ایڈیشن دار الاشاعت کراچی) کا ہے ۔ ابن خلدون نے اگرچہ 27 ذی الحجہ کا بتایا ہے مگر بلا سند ہے اور اس کا مضمون تقریبا وہی ہے جو تاریخ طبری کا پہلا قول ہے جس کی سند نہایت کمزور ہے ۔

تاریخ المسعودی جلد ٦ صفحہ ٦٤٠ ۔ چوتھا حوالہ تاریخ مسعودی کا ہے ۔ علی بن حسین المسعودی شیعہ رافضی ہے جس کا قول ہمارے لئے حجت نہیں ۔ مسعودی شیعہ تھا ۔ (ثبوت دیکھیں تاریخ ابن کثیر جلد ٧ صفحہ ٦٧٩)

تاریخ ابن کثیر (البدایہ والنہایہ جلد 7 صفحہ 184 اردو ایڈیشن نفیس اکیڈمی کراچی) ۔ علامہ ابن کثیر نے کئی اقوال نقل کر کے پہلے قول ہی کو ترجیح دی ہے جو کہ 1 محرم الحرام کا ہے ۔

امام ابن الجوزی رحمة اللہ علیہ علیہ مناقب عمر رضی اللہ عنہ میں لکھتے ہیں : 23 ھجری کے ذوالحجہ کی چھبیس تاریخ بدھ کے روز آپ پر قاتلانہ حملہ ہوا ، اور اتوار کے دن یکم محرم چوبیس ہجری کو دفن کئے گئے ۔ آپ کی مدت خلافت دس برس ، پانچ ماہ اور اکیس دن تھی ۔ طعن عمر رضي الله عنه يوم الأربعاء لأربع ليالٍ بقين من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين ، ودفن يوم الأحد صباح هلال المحرم سنة أربع وعشرين ، فكانت ولايته عشر سنين وخمسة أشهر وإحدى و عشرين ليلة ۔ تاریخ کامل کے مصنف نے بھی یہی لکھا ہے کہ ذی الحجہ کی چار راتیں باقی تھیں کہ آپ فوت ہو گئے اور یکم محرم کو دفن ہوئے ۔ (الکامل جلد ۳ صفحہ ۵۲)

علامہ مسعودی لکھتے ہیں : حضرت عمر کو ان کی خلافت کے دوران ہی میں مغیرہ کے غلام ابولولوہ نے قتل کر دیا تھا ۔ اس وقت سن ہجری کا ۲۳ واں سال تھااور بدھ کا دن تھا جب کہ ماہ ذی الحجہ کے اختتام میں چار روز باقی تھے ۔ (مروج الذہب جلد۲، صفحہ ۲۴۰)

امام محب الدین طبری لکھتے ہیں : آپ نے ۲۶ ذی الحجہ کو وصال فرمایا۔ بعض نے کہا کہ اس تاریخ کو زخم آیا تھا اور وفات آخری ذی الحجہ میں ہوئی ۔ (ریاض النضرہ جلد نمبر ۲ صفحہ نمبر ۳۳۵،چشتی)

امام اہلسنت جلال الدین سیوطی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بدھ کے دن ۲۶ ذی الحجہ ۲۳ ھجری کو شہید ہوئےاور ہفتہ کے دن محرم کی چاند رات کو دفن کئے گئے ۔ (تاریخ الخلفاء صفحہ ۱۳۹)

تاریخِ عالَم کے اس عظیم حکمران حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی پوری زندگی عزّت و شرافت اور عظمت کے کارناموں کی اعلیٰ مثال تھی ، 26 ذو الحجۃ الحرام کی صبح ایک مجوسی غلام ابو لؤلؤ فیروز نے آپ پر فجر کی نماز کے دوران قاتلانہ حملہ کیا اور شدید زخمی کردیا ، آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا ، جب لوگ آپ رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر آپ کے گھر میں لائے تو مسلسل خون بہنے کی وجہ سے آپ پر غشی طاری ہوچکی تھی ہوش میں آتے ہی آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا اور وضو کرکے نمازِ فجر ادا کی پھر چند دن شدید زخمی حالت میں گزار کر اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کردی ۔ حضرتِ صُہَیْب رضی اللہ عنہ نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کو یکم محرَّم الحرام 24 ہجری روضۂ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں خلیفۂ اوّل حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پہلو میں دفن کیا گیا ۔ (طبقات ابن سعد، ج3،ص266، 280، 281)(تاریخ ابن عساکر،ج 44،ص422، 464) بوقتِ شہادت آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عُمْر مبارک 63 برس تھی ۔ آپ رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ احادیث کی تعداد 537 ہے ۔

آج کل مسئلہ یہ ہے کہ یہ بعض لوگ اس حوالے سے عوام کو گمراہ کرنے کےلیے جھوٹ گھڑنے اور حقائق کو توڑ موڑ کے پیش کرنے سے بھی باز نہیں آتے ۔ حضرت عمر اور پھر حضرت امام حسین ، کربلا اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے حوالے سے بہت سے ایسے موضوعات ہیں جن کو محرم میں خصوصی طور پر ہائی لائیٹ کر کے عوام کو کنفیوز کیا جاتا ہے ۔ فقیر نے کوشش کی ہے کہ جذباتی باتوں سے بچتے ہوئے اصل حقائق اور اعتدال کے راستے کی وضاحت کردی جائے ۔

از قلم: ڈاکٹر فیض احمد چشتی

مزید پڑھیں

اہلسنت وجماعت کو عشرہ محرم الحرام میں رنج و غم کرنا جائز ہے یا نہیں؟

 حضور تاج الشریعہ اور فروغ تعلیم

صدر الشریعہ کی مشہور عالم یادگاریں

دنیا میں تم سے لاکھ سہی، تو مگر کہاں!

حضور تاج‌ الشریعہ کی حق گوئی‌ وبےباکی 

محدث سورتی پر اک نظر

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment