عشرہ محرم الحرام میں رنج و غم کرنا جائز ہے یا نہیں؟

عشرہ محرم الحرام میں رنج و غم کرنا جائز ہے یا نہیں؟

Table of Contents

اہلسنت وجماعت کو عشرہ محرم الحرام میں رنج و غم کرنا جائز ہے یا نہیں؟

عشرہ محرم الحرام میں رنج و غم کرنا جائز ہے یا نہیں؟
عشرہ محرم الحرام میں رنج و غم کرنا جائز ہے یا نہیں؟

ابو الحسن محمد شعیب خان

امام اہل سنت فرماتے ہیں: اہل سنت و جماعت کا مدار ایمان حضور سیدالمرسلین صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم کی محبت ہے جب تک اپنے ماں، باپ، اولاد، تمام جہان سے زیادہ حضور کی محبت نہ رکھے مسلمان نہیں، خود حضور اقدس صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: لا یؤمن احدکم حتی اکون احب الیه من والدہ و ولدہ والناس اجمعین(1)

تم میں کوئی مسلمان نہیں ہوتا جب تک میں اسے اس کے ماں، باپ اور اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ پیارا نہ ہوں۔

(1) صحیح البخاری کتاب الایمان باب حب الرسول قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷)

اور محب کو محبوب کی ہر شے عزیز ہوتی ہے یہاں تک کہ اس کی گلی کا کتا بھی۔ حضرت مولانا قدس سرہ مثنوی شریف میں حضرت مجنوں رحمہ ﷲ تعالی کی حکایت تحریر فرمائی کہ کسی نے ان کو دیکھا کمال محبت کے طور پر ایک کتے کے بوسے لے رہے ہیں، اعتراض کیا کہ کتا نجس ہے چنیں ہے چناں ہے۔ فرمایا نہیں جانتا
کاین طلسم بستہ مولی ست ایں پاسبان کوچہ لیلی ست ایں (2)

جیسے یہ ﷲ کی بنائی ہوئی تصویر ہے، یہ(کتا) لیلی کی گلی کا چوکیدار ہے۔

(2) مثنوی معنوی قصہ نواختن مجنون آن سگ الخ نورانی کتب خانہ پشاور دفترسوم ص۱۷)

یہ کتا لیلی کی گلی کا ہے محبان صادق کا جب دنیا کے محبوبوں کے ساتھ یہ حال ہے جن میں ایک حسن فانی کا کمال سہی ہزاروں عیب و نقص بھی ہوتے ہیں، تو کیا کہنا ہے ہمارے محبوب صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم کا جنہیں تمام اوصاف حمیدہ میں اعلی کمال، اور جن کا ہرکمال ابدی اور لازوال اور جو ہر عیب و نقص سے منزہ و بے مثال، ان کا ہر علاقہ والا سنی کے سر کا تاج ہے، صحابہ ہوں خواہ ازواج خواہ اہلبیت رضوان ﷲ تعالی علیہم اجمعین۔ پھر یہ کہنا ہے ان کا جو حضور (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے جگر پارے اور عرش کی آنکھ کے تارے ہیں، رسول ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: حسین منی وانا من حسین، احب ﷲ من احب حسینا، حسین سبط من الاسباط (3)

حسین میرا اور میں حسین کا، اﷲ دوست رکھے اسے جو حسین کو دوست رکھے، حسین ایک نسل نبوت کی اصل ہے۔

*(3)جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب ابی محمد الحسن الخ امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۱۹)*

یہ حدیث کس قدر محبت کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے، ایک بار نام لے کر تین بار ضمیر کافی تھی مگر نہیں ہر بار لذت محبت کے لئے نام ہی کا اعادہ فرمایا،

کما قالوا فی قول القائل ؎
تاللہ یاظبیات القاع قلن لنا الیلای منکن ام لیلی من البشر

خدا کی قسم اے ہموار زمین کے ہرنوں! ہمیں یہ بتادو کیا لیلی تم میں سے ہے یا انسانوں میں سے ہے۔

*کون سا سنی ہوگا جسے واقعہ ہائلہ کربلا کا غم نہیں یا اس کی یاد سے اس کادل محزون اور آنکھ پرنم نہیں،ہاں مصائب میں ہم کو صبر کا حکم فرمایا ہے، جزع فزع کو شریعت منع فرماتی ہے، اور جسے واقعی دل میں غم نہ ہو اسے جھوٹا اظہار غم ریاء ہے اور قصدا غم آوری وغم پروری خلاف رضا ہے جسے اس کا غم نہ ہو اسے بیغم نہ رہنا چاہئے بلکہ اس غم نہ ہونے کاغم چاہئے کہ اس کی محبت ناقص ہے اور جس کی محبت ناقص اس کا ایمان ناقص۔*

وﷲ تعالی اعلم

(فتاوی رضویہ جلد 24 صفحہ 473۔474 اپلیکیشن)

ابو الحسن محمد شعیب خان

21 اگست 2020

پیشکش: ماتریدی ریسرچ سینٹر مالیگاؤں (انڈیا)

مزید پڑھیں

مراسم محرم الحرام_ ایک تجزیاتی مطالعہ

اسلاف کرام کا صبر وتحمل اور حکمت ودانش مندی

جمعہ کے فضاٸل واحکامات

مرکز ہدایت کی طرف اہل حق کو آنے دو

جن کی روحیں طیبہ میں گشت لگاتی ہیں

صالح رسم ورواج کی حیات جاودانی

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment