تیرے گلشن میں عجب طور کی رعناٸی ہے

تیرے گلشن میں عجب طور کی رعناٸی ہے

Table of Contents

تیرے گلشن میں عجب طور کی رعناٸی ہے
تیرے گلشن میں عجب طور کی رعناٸی ہے

تیرے گلشن میں عجب طور کی رعناٸی ہے

از: واصف رضا واصف

یاد جب حافظ ملت کی چلی آٸی ہے
مزرع دل پہ مسرت کی گھٹا چھاٸی ہے

معترف اہل خرد تیرے کمالات کےہیں
خوب مشہور جہاں میں تری داناٸی ہے

تیرے لہجے میں صداقت کا اثر ہے غالب
تیرے ہرقول میں گہراٸی و گیراٸی ہے

اس کےہر پھول سےظاہرہےمحبت کی کشش
تیرے گلشن میں عجب طور کی رعناٸی ہے

عالم خواب میں ہی کیجے نزول اجلال
کب سے یہ آنکھ زیارت کی تمناٸی ہے

ناپ سکتا نہیں کوٸی قد اقبال ترا
حد افکار سے برتر تری بالاٸی ہے

جی رہے ہیں ترے عشاق معزز بن کر
ہرسو اعدا کے لیے ذلت و رسواٸی ہے

شہر اصناف سخن گوٸی میں تیری واصف
پٸے فیضان ابوالفیض پذیراٸی ہے

عقیدت کیش
واصف رضاواصف مدھوبنی بہار

مزید پڑھیں:

اے علوم و فضل کے کوہ گراں عبدالعزیز

مثال ماہ تاباں ہے جوار حافظ ملت

پرچم ترے اذکار کے لہراٸیں ابوالفیض

حق گوٸی رہی آپ کی پہچان ابوالفیض

اے رہبر دیں قوم کے معمار ابوالفیض

عاشق شاہ ذیشاں ابوالفیض ہیں

سایہ ٕ لطف ابو الفیض میں آجاتے ہیں

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment