ارے واہ ... کیا بات رمضان کی

ارے واہ … کیا بات رمضان کی

Table of Contents

ارے واہ … کیا بات رمضان کی

مبارک ہو سوغات رمضان کی
بہشتی ہے خیرات رمضان کی

شیاطین قید ، اور دوزخ ہے بند
عجب ہیں کرامات ، رمضان کی

ندامت کے آنسو گُہَر بن گیے
صدف ہیں مُناجات ، رمضان کی

خدا خود ہی اِس کی جزا میں ملے
ارے واہ کیا بات رمضان کی

نرالے ہیں افطار وسحری کے رنگ
ہیں اعلیٰ عنایات ، رمضان کی

ذرا دیکھو منظر تراویح کا
حسیں ہے یہ بارات رمضان کی

کلامِ خدا اِس میں نازل ہوا
بتاتی ہیں آیات رمضان کی

تلاوت کی خوشبو سے مہکے ہیں سب
معطر ہے برسات رمضان کی

عبادت میں ڈھلتا ہے سب کا مزاج
انوکھی ہیں برکات رمضان کی

لگا دیں عبادت میں دن رات ہم
ہیں انمول ساعات ، رمضان کی

جو قطرہ طلب ہو ، تو دریا ملے
بہت ہے سخی ذات، رمضان کی

بدوں کو بھی جنّت کا مژدہ ملا
سند ہیں عبادات ، رمضان کی

یہ مہمان ، لایا شفاعت کے پھول
کریں ہم مُدارات رمضان کی

نظر آتا ہے بس کرم ہی کرم
پڑھو جب حکایات ، رمضان کی

اٹھا ہے فریدی کا دستِ سوال
ملے بھیک دن رات رمضان کی

مُدارات .. مہمان نوازی

محمدسلمان رضا فریدی مصباحی

بارہ بنکوی مسقط عمان

مزید پڑھیں

رفیق رحمتہ اللعالمیں صدیق اکبرہیں

قلزم تقوی کے اک نایاب گوہر ، یارغار

آج تشریف تصور میں ہیں لاے صدیق

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment