امام احمد رضا قادری کی دو حیثیت

امام احمد رضا قادری کی دو حیثیت

Table of Contents

امام احمد رضا قادری کی دو حیثیت

از قلم: طارق انور مصباحی

امام احمد رضا قادری کی دو حیثیت
امام احمد رضا قادری کی دو حیثیت

مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
1اعلی حضرت امام احمد رضا قادری علیہ الرحمۃ والرضوان کی ایک حیثیت یہ ہے کہ وہ حضرت علامہ مفتی نقی علی خاں علیہ الرحمۃ والرضوان کے فرزند ارجمند اور خاندان رضویہ کے مورث اعلی ہیں۔اس اعتبار ان کی زمین وجائیداد اور مال واموال کے وارث ان کی آل واولاد ہوگی۔ان کے اموال متروکہ میں اہل سنت وجماعت کے دیگر افراد کا کوئی حصہ نہیں۔

2-امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کی دوسری حیثیت یہ ہے کہ حضور اقدس تاجدار دوجہاں علیہ التحیۃ والثنا نے انہیں اپنے مذہب مہذب کا قائد ورہنما مقرر فرمایا۔اللہ ورسول(عز وجل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم)نے انھیں مذہب اسلام کا مجدد بنایا۔منصب تجدید کا رتبہ عطا فرمایا۔اس اعتبار سے ہر سنی صحیح العقیدہ کا ان سے تعلق یکساں اور برابر ہے۔

ان کی علمی میراث میں سب کا حق مساوی ہے۔ان کی تعلیمات کو ماننے والے ہر شخص کو حق ہے کہ وہ کہے کہ وہ مسلک اعلی حضرت پر ہے۔ان کا ذکر خیر کرے۔عرس منائے۔ان کی کتابیں پڑھے,شائع کرے۔ان کی سیرت وسوانح لکھے۔

کیا اعلی حضرت قدس سرہ العزیز کے کوئی سجادہ نشیں کسی سنی صحیح العقیدہ مسلمان کو ان کی کتابیں پڑھنے سے منع کر سکتے ہیں۔کسی کو ان کا عرس منانے,ان کی سیرت وسوانح لکھنے سے منع کر سکتے ہیں۔ہرگز نہیں,لیکن ان کے اموال متروکہ کو کوئی سنی طلب کرے تو یہ ان کی مرضی پر منحصر ہے۔اموال متروکہ کا تعلق پہلی حیثیت سے ہے۔

اگر کسی سنی صحیح العقیدہ کے بارے میں کوئی کہے کہ وہ اعلی حضرت کا نام کیوں لیتا ہے تو یہ درست نہیں۔در حقیقت ایسے سوالات اٹھانے سے لوگ اعلی حضرت علیہ الرحمہ سے بھی دور ہو جائیں گے,پھر ان کی تعلیمات سے بھی دور ہو جائیں گے,حالاں کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کو اعلی حضرت علیہ الرحمہ سے زیادہ سے زیادہ قریب کیا جائے,تاکہ لوگوں کا ایمان وعقیدہ محفوظ رہ سکے۔

بالفرض کسی کے اندر بدعقیدگی پیدا ہو گئی ہو تو وہی طرز عمل اختیار کریں جو علمائے اہل سنت وجماعت نے خلیل بجنوری کے ساتھ اختیار فرمایا کہ پہلے افہام وتفہیم کی کوشش ہوئی۔جب معاملہ حل نہ ہو سکا تو اس کا شرعی حکم تحریری طور پر بیان کر دیا گیا۔عوام وخواص کو اس سے مطلع کر دیا گیا۔تمام برادان اہل سنت نے اس سے قطع تعلق کر لیا۔

از قلم: طارق انور مصباحی

مزید پڑھیں

 حضور تاج الشریعہ اور فروغ تعلیم

صدر الشریعہ کی مشہور عالم یادگاریں

دنیا میں تم سے لاکھ سہی، تو مگر کہاں!

حضور تاج‌ الشریعہ کی حق گوئی‌ وبےباکی 

حضور تاج الشریعہ کی علمی جھلک

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment