حیاسوز کارٹونوں کے اسلامی متبادل کارٹونز

حیاسوز کارٹونوں کے اسلامی متبادل کارٹونز

Table of Contents

حیاسوز کارٹونوں کے اسلامی متبادل کارٹونز
حیاسوز کارٹونوں کے اسلامی متبادل کارٹونز

حیاسوز کارٹونوں کے اسلامی متبادل کارٹونز
از قلم: خلیل احمد فیضانی

کہا جاتا ہے کہ بچے کانوں سے نہیں آنکھوں سے سنتے ہیں…اپنے گرد و پیش جیسے مناظر انہیں نظر آتے ہیں انہی کی ادائیگی میں وہ مصروف عمل رہنے لگتے ہیں…
اور بالآخر اسی ماحول میں ڈھل جاتے ہیں…ایام طفولیت سے ہی اگر انہیں فحش مناظر و حیاسوز مواد دکھلایا گیا تو ان کی جوانی تباہی کے قعر عمیق و تاریکی کے بھیانک مستقبل میں سسک کر رہ جاےگی اور انہیں بچوں کو اگر صالح مناظر و اسلامی مواد دیکھنے,سننے کا خوگر بنایا گیا تو یہی بچے مستقبل میں قوم کا نام روشن کریں گے -خود بھی سنوریں گے اور ان کے ذریعے ایک صالح معاشرہ کا قیام بھی ممکن ہوپاے گا…
آج گناہ نہایت سستا ہوگیا ہے -پہلے کسی کسی شہر میں ایک کلب و سنیما ہال ہوتا تھا اور وہ بھی ایسا کہ جس میں ہر کس و ناکس کا دخول بھی شاید ہی ممکن ہوپاتا تھا …آج حال یہ ہے کہ بزرگ اور نو جوان تو دور کی بات.. گلی نکڑ پر گھسٹتے ہر بچے کی جیب میں چلتا پھرتا سنیما ہال آپ کو رقص عریاں کرتا ملے گا…اب ہمارے پاس بچا کچھ بھی نہیں ہے –
کہنے کو بچوں کا جسم ہمارے پاس رہ گیا ہے لیکن میلان طبع کی باگ دوڑ کسی اداکار/یا اداکارہ کی غلامی میں ہی نظر آے گی …
فلموں ,سی ,آٔی, ڈی کرائم پٹرول ,ومخرب تہذیب ڈراموں نے بچوں کو, صحیح طور سے بالغ ہونے سے پہلے ہی فکری نابالغ بنا کر رکھ دیا ہے
ہر نکلتے سورج کے ساتھ ایک نیا گناہ بشکل فیشن مارکیٹ میں آرہا ہے…اور بالخصوص بچوں کی زندگی کو راکشش بن کر ہضم کیے جارہا ہے ..
غضب دیکھیے کہ ان بچوں کی صحیح تربیت و روشن مستقبل کی فکر کسی کو نہیں بس ہر کوئی اپنا کاروبار چمکانے کےلیے ان نونہالوں کی موم جیسی نرم و گداز زندگانیوں سے کھیلے جارہا ہے –
صد بار مبارک بادی کی قابل ہے وہ تحریک (دعوت اسلامی ) اور اس سے منسلک وہ دور اندیش افراد جنہوں نے اس تباہی کے سیل کے انسداد کے لیے ہر ممکن اقدام کیا…نسل نو کو راہ راست پر گامزن کرنے کی حتی الوسع کاوشیں کیں … اسباب مہیا کیے…شرعی حدود کی حد میں رہ کر آلات نو کا بھرپور استعمال کیا…
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کل جو بچہ صبح تا شام حیاسوز مادے میں لت پت رہتا تھا آج وہی بچہ کار حسنات میں دوسرے بچوں کے لیے آئیڈیل بنا ہوا ہے..
اہلسنت وجماعت کی یہ عظیم تحریک, حالات کے دوش بدوش چلنے کا ہنر سلیقے سے جانتی ہے ..جب اس نے بچوں کی زندگیوں کو زنگ آلود ہوتے محسوس کیا تو فورا ہی اس محاذ پر اقدام کیا اور متنوع جہات سے بچوں کے لیے فحش مواد کے متبادل اسلامی مواد پیش کرنا شروع کیا…بچوں کے ذوق کے مطابق مختلف پروگرامز نشر کیے …غلام رسول,.فیضان..کنیز فاطمہ وغیرہ نامی کارٹونوں سے حیرت انگیز تبدیلی پیدا ہوئی… مدنی چینل کا وہ پرگرام جو "کڈس مدنی چینل ” کے نام سے شام کے وقت نشر ہوتا ہے ..اس میں بھی بچوں کی سیکھ کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے…یقینا یہ پر وگرامز ہمارے لیے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ہیں….کیوں کہ اس نے ہمارے نونہالوں کی برباد ہوتی زندگی کو بربادی سے بچایا اور دینی مبادیات سے روشناس کرواکر ایک درست سمت کی راہ بتلائی …ایسا نہیں ہے کہ ان پروگرامز میں ٹھیٹ اسلامی مواد ہی نشر کیا جاتا ہے…کہ بچے ایک دو دن ہی صحیح سے دیکھ سکیں اور پھرکبھی آن ہی نا کریں بلکہ بچوں کی نفسیات کا بھی بھرپور لحاظ رکھا جاتا ہے , کیوں کہ عموما بچے ,بچپن میں کھیل کود کے شوقین ہوتے ہیں لہذا ان پروگرامز میں بھی کچھ ایسا ہی چلبلا سا مواد شامل کیاجاتا ہے کہ بچے بڑے شوق سے دیکھے اور یہی دیکھنا ان کی دینی بنیاد کو مضبوط تر کرتا چلاجاے…
ان اسلامی کارٹونز نے بچوں کی زندگیوں کو یک لخت بدل کررکھ دیا ہے…آج اکثر گھروں میں یہ کارٹونز بڑے ہی ذوق سے دیکھے جارہے ہیں اور قابل استعجاب تبدیلیاں بھی یقینا ہویدا ہوں گی
نوبت بایں جا رسد کہ ان کارٹونز کو ہمارے حریف کی نسل بھی دیکھنے سے اپنے آپ کو نہیں بچاسکی..ان کے بچے بھی بڑے شوق سے ان کو دیکھتے ہیں اور ہمارے عقیدے کی مطابقت کرتے نظر آتے ہیں…اس سے بڑی اور کام یابی کیاہوسکتی ہے !-
یقینا یہ بڑے ہی اہم کارٹونز ہیں جن کا ہمیں خوش دلی سے ویلکم کرنا چاہیے –

حیاسوز کارٹونوں کے اسلامی متبادل کارٹونز

از قلم: خلیل احمد فیضانی

 

مزید پڑھیں:

کارٹونوں کی بڑھتی تخریب کاری لمحۂ فکریہ

سو شل میڈیا کا استعمال، ہمارے بچے اور بچیاں

میلاد مصطفیﷺ منانےکے فائدے

تحریک دعوت اسلامی کے فکری محاسن

اسلاف کرام کا صبر وتحمل اور حکمت ودانش مندی

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment