عروس ہستی پہ یکبارگی شباب آیا

عروس ہستی پہ یکبارگی شباب آیا

Table of Contents

عروس ہستی پہ یکبارگی شباب آیا

از: واصف رضا واصف

عروس ہستی پہ یکبارگی شباب آیا
عروس ہستی پہ یکبارگی شباب آیا

عروس ہستی پہ یکبارگی شباب آیا
ولادت شہ بطحا سے انقلاب آیا

درودپاک کی برکت سےغم ہوےکافور
مسرتوں کا مرے ہاتھ میں گلاب آیا

ہمیشہ خیرکی لب پررہےدعاجاری
"قدم نہ بھٹکےزمانہ بڑا خراب آیا”

جونامرادگیامصطفیٰ کےروضےپر
وہ بامراد ہوا ،ہوکے فیضیاب آیا

کھلانے غنچئہ نوخیز باغ ہستی کا
حضور آپ کے لطف وکرم کا آب آیا

سکوں نواز ہوٸی یاد سرور عالم
درون قلب وجگرجب بھی اضطراب آیا

نقوش جہل وخرافات مٹ گۓ یکسر
حراکےغارمیں جب علم کانصاب آیا

سخن کےشہرمیں پھیلی ہےروشنی واصف

اس آب وتاب سے مدحت کا آفتاب آیا

رشحات قلم

واصف رضا واصف مدھوبنی بہار

مزید پڑھیں

کتاب عزم پڑھاتے ہیں کربلا والے

منقبت در شانِ حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم ؓ

در مدح سید المحدثین سیدناابوہریرہ ؓؓ

درمدح سیدناحسان بن ثابتؓ

در مدح سید المحدثین سیدناابوہریرہ ؓ

در مدح بلال حبشیؓ

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment