علماے کرام کی ذمہ داریاں

علماے کرام کی ذمہ داریاں

Table of Contents

علماے کرام کی ذمہ داریاں

نوره مستفاد من نور الشمس ، جس طرح مہتاب نور آفتاب سے درخشندہ ہے اسی طرح علماے دین جلوۂ سراج منیر رحمت اللعالمین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے مستعیر مستنیر ہیں ۔
سرکار دو عالم نے فرمایا کفضلی علی ادناکم یعنی جس طرح کی بزرگی مجھ کو تم سب مسلمانوں پر حاصل ہے اس قسم کی بزرگی عالم دین کو عابد پر حاصل ہے۔

امام بوصیری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
جاءت لدعوته الأشجار ساجدة اس کے تحت ٫٫تاج الشریعہ ،،نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی فرماتے ہیں: كنت امشي مع النبي صلى الله تعالى عليه وسلم بمكه فخرجنا في بعد نواحي مكة فما استقبلنا شجر ولا حجر الا قال٫٫السلام عليك يارسول الله ،،. ابو نعیم روایت کرتے ہیں: لما استقبلني جبريل بالرسالة جعلتُ لا امرّ بحجر ولا شجر الا قال "السلام عليك يا رسول الله،،(الفردۃ)

اعلی حضرت فرماتے ہیں: جن و بشر، شمس و قمر، سب بحر و بر، سنگ و شجر وغیرہ
‘سب خشک و تر سلام کو حاضر ہیں السلام
‘یہ جلوہ گاہ مالکِ ہر خشک و ترکی ہے

مذکورہ چیزیں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کا نذرانہ پیش کرتی ہیں۔ سید الانبیاء ﷺ فرماتے ہیں: ان العالم يستغفر له من في السماوات ومن في الارض والحيتان في جوف الماء،ایک دوسری حدیث میں فرماتے ہیں: ان الله وملائكته واهل السماوات والارض حتى النمل في جحرها وحتى الحوت ليصلون على معلم الناس الخير رواه الترمذي. (عن ابي امامه مرفوعا،مرقاة)
یہ افضلیت و اکرمیت باعث علم ہی ہے جب تک علم کے مطابق زندگی کو گزارے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر عمل پیرا رہے ، فقدان عمل کی صورت کو قران نے کمثل الحمار یحمل اسفارا سے تعبیر کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :
وَ لَىٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِۙ-اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ-
(اے سننے والے کسے باشد) اگر تو ان کی خواہشوں پر چلا بعد اس کے کہ تجھے علم مل چکا تو اس وقت تو ضرور ستم گار ہوگا-
رضاے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر ، بعد تحویل قبلہ مولی تعالیٰ نے فرمایا:و لئن اتبعت الخ،اب جو بھی خواہشات یہود کے تابع ہوکر بیت المقدس کی طرف نماز پڑھے تو یقینا وہ ظالموں میں سے ہے بعد اس کے کہ ہر چیز واضح اور بین ہے-
کیونکہ اسباب علم للخلق ۳ ہیں ، ان میں سے ایک خبر صادق ہے” من بعد ما جاء ك من العلم ،،میں لفظ ,علم، سے مراد نفس علم نہیں بلکہ دلائل ، آیات اور معجزات ہیں کیونکہ یہ بھی طرق علم سے ہے-

من بعد ما الخ: دلّت الآيةُ على أن توجه الوعيد على العلماء اشدُّ من توجهه على غيرھم:یہ آیت اور تفسیر اس بات پر دال ہے کہ عالم کا گناہ جاہل کے گناہ سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہاں بطور خاص علم کے بعد نافرمانی پر وعید بیان کی گئی ہے – على سبيل الفرض و التقدير اىْ: و لئن اتبعت مثلاً بعد ما بانَ لك الحقُ-(بیضاوی)
انك إذا لمن الظالمين: سے مراد تحذیر ،تہدید ، جزر مقصود ہے اور حق پر ثابت قدم رہنے کی تاکید ہے (رازی،نسفی)
اسی وجہ سے عالم کو ہر ایسے عمل و فعل سے اجتناب و احتراز کرنا چاہیے جو مفضی الی الذنب والمعصیة للخالق ہو-

زِيَاد بْنِ حُدَيْرٍ قَالَ قَالَ لِي عُمَرُ هَلْ تَعْرِفُ مَا يَهْدِمُ الْإِسْلَامَ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ يَهْدِمُهُ زَلَّةُ الْعَالِمِ وَجِدَالُ الْمُنَافِقِ بِالْكِتَابِ وَحُكْمُ الْأَئِمَّةِ الْمُضِلِّينَ
ترجمہ:
زیاد بن حدیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے دریافت کیا کیا تم یہ جانتے ہو اسلام کو کیا چیز تباہ کرتی ہے زیاد کہتے ہیں میں نے جواب دیا کہ نہیں۔ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا عالم شخص کی لغزش، منافق شخص کا قرآن کے بارے میں بحث اور گمراہ کرنے والے پیشواؤں کی حکمرانی اسلام کو تباہ کردیتی ہے۔
(سنن دارمی)
مفتی احمد یار خاں نعیمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’جب علماء آرام طلبی کی بنا پر کوتاہیاں شروع کردیں ، مسائل کی تحقیق میں کوشش نہ کریں اور غلط مسئلے بیان کریں ، بے دین علماء کی شکل میں نمودار ہو جائیں ، بدعتوں کو سنتیں قرار دیں ، قرآن کریم کو اپنی رائے کے مطابق بنائیں اور گمراہ لوگوں کے حاکم بنیں اور لوگوں کو اپنی اطاعت پر مجبور کریں تب اسلام کی ہیبت دلوں سے نکل جائے گی جیسا کہ آج ہو رہا ہے۔ بعض نے فرمایا کہ عالم کی لغزش سے مراد ان کا فسق و فجور میں مبتلا ہوجانا ہے ۔ (مراة المناجيح)

عالم مثل کپتان کے ہے اور عوام مثل رکاب کے ۔ اگر وہ ڈوبے گا تو کشتی سمیت سب کو لے جایے گا ، عالم کے بگڑنے سے نظام عالم دوچار ہو جاتا ہے کیونکہ صلاح عالم اور دفاع فساد اور تمام دینی و دنیاوی امور کا منتمی وہی ہے، لوگوں میں سب سے بہتر عالم دین ہی ہے اور سب سے بڑھ کر شریر بھی عالم ہی ہے جیسا کہ حدیث میں ایا ہے:سال رجلٌ النبيُ صلى الله تعالى عليه وسلم عن الشرِ فقال لا تسألوني عن الشر وسلُوْني عن الخير يقولها ثلاثا ثم قال الا ان شر الشر شرار العلماء وانّ خير الخير خيارُ العلماء (الدارمي،المشكوة)
عالم دین کا عمل خیر سب سے عمدہ اور عمل بد سب سے مضر مثل ناسور ہے ، جیسے تفرقہ بازی یہ علماے سوء ہی کی مہربانی سے ہے۔
عالم شبیہ قائد ہیں کیونکہ عوام منزل مقصود انہیں کو سمجھتے ہیں اور انہیں کے اقوال، افعال، تجربات سے مستفید ہوتے ہیں اس لیے عالم کو چاہیے کہ ہمیشہ مواضع تہمتوں سے تحشی اور کنارہ کشی اختیار کریں جیسا کہ حدیث میں ہے:من كان يؤمن بالله واليوم الاخر فلا يقِفَنّ مواقعَ التهم،یہ حکم کلی ہے مگر عالم کے لیے بالخصوص ہے الصاق علم کی وجہ سے ، اور ان چیزوں سے بھی پرہیز کریں جس سے لوگوں پر غلط اثر پڑتا ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اياك وما يسوءُ الاذنَ،اسی طرح علما کو چاہیے کہ ہمیشہ وقار علم کو ملحوظ رکھیں۔

اکرام الحق علیمی
25دیسمبر2023

مدارس اور علما: درپیش چیلنجز اور حل

مفتی اعظم ہند اور سیاست

اسلامی سال نو کا آغاز اور ہمارا رویہ

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment