تعلیم سے ہی بدلے گی قوم کی تصویر

تعلیم سے ہی بدلے گی قوم کی تصویر

Table of Contents

تعلیم سے ہی بدلے گی قوم کی تصویر

تحریر :محمد ہاشم اعظمی مصباحی

تعلیم سے ہی بدلے گی قوم کی تصویر
تعلیم سے ہی بدلے گی قوم کی تصویر

انسان کو دیگر مخلوقات الٰہیہ پر عقل وشعور اور علم و آگہی کی بنیاد پر شرف تقدم حاصل ہے اس لئے کہ دوسری مخلوقات میں یہ اہلیت نہیں ہوتی کہ وہ امور معلومہ کو ترتیب دے کر امور مجہولہ حاصل کرسکیں جبکہ انسان دیگر ذرائع کو استعمال کرکے اپنی معلومات میں اضافہ کر سکتا ہے علم ایک ایسی لازوال دولت ہے جو انسان کو تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ تہذیب یافتہ بھی بناتا ہے اسے اچھے اور برے میں فرق سیکھاتاہے اللہ تعالی نے اپنے محبوب مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر وحی کا آغاز بھی علم کی آیات سے فرمایا اور سورۃ علق نازل کرکے بتایا کہ ایک علم والا اور جاہل انسان کبھی برابر نہیں ہو سکتے.

آج دنیا کی بیشتر قومیں اور ممالک ترقی یافتہ ہیں اور مزید ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، جیسے یورپ،امریکہ، مشرق بعید وغیرہ اور ہم ان کے مقابلہ میں ترقی کے میدان میں بہر حال بہت پیچھے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہم تعداد،ہمت وشجاعت،ذہانت و فطانت، محنت و مشقت، دیانتداری وایمانداری اورایثاروقربانی میں کم ہیں بلکہ ہم اکثر معاملوں میں دوسروں سے بہت بہتر ہیں لیکن شاہراہِ ترقی کا جو پہلا زینہ ہے تعلیم کا اسی معاملہ میں ہم پچھڑ گئے ہیں جس قوم نے دنیا کو تعلیم وتعلم کے رہنما اصول عطا کئے وہی قوم آج علم کے میدان میں یتیم ہے اس لئے ہمارا شمار پسماندہ قوموں میں ہوتا ہے خود ہمارے ملک عزیز ہندوستان میں ہماری قوم کے حوالے سے سچر کمیٹی وغیرہ کی رپورٹ اس کی شاہد ہیں.

تاریخ بتاتی ہے کہ اہل علم نے ہی ہمیشہ حکم رانی کی ہے ہردور میں اہل اقتدار اپنی رعایا سے زیادہ تعلیم یافتہ رہے ہیں۔مسلمانوں نے بھی جب علم کی شمع کوروشن رکھا تو وہ علاقوں پر علاقے فتح کرتے چلے گئے۔اور آدھی سے زیادہ دنیا پر حکمرانی کرنے لگے۔ مسلمانوں کا دراصل وہ زریں دورتھا،جس میں ادبا وشعرا،اطبا وسائنس داں، ریاضی داں وجغرافیہ داں پیدا ہوئے۔آلات موسیقی سے لے کر آلات حرب وضرب تک اور معمولی استعمال کی اشیاء سے لے کر آلات طب و جراحت تک مسلمانوں نے ایجاد کیے اور مخلوقات خداوندی کے لیے نفع بخش بنے رہے۔ نفع رسانی خلق کا ہی نتیجہ تھا کہ اللہ نے انہیں اقوام عالم کا امام بنائے رکھا۔
مگر جب کتاب طاق کی زینت بن گئی اور قلم پھینک دیئے گئے سیاہی سوکھ گئی اورزمانے نے دیکھا کہ اب مسلم قوم خواب خرگوش میں ہے تو اس نے ان سے کتاب ، تختی، قلم دوات سب کچھ چھین لیا۔ اقتدار سے بے دخل کرکے ایسی سزادی کہ ان کے خون سے دریا لال ہوگئے۔
ترقی یافتہ اقوام نے اپنی قوم میں بیداری، جدوجہد،حوصلہ،دور اندیشی اور نظم وقت کی خاصیتں پیدا کیں اور نفع نقصان کی بنیاد پر مقصد کا تعین کر کے مادّی طور پر ہم سے بہت آگے نکل گئے اور ہم ان کے دست نگر ہو کر رہ گئے یاد رکھیں علم ایک ایسا پودا ہے جسے دل و دماغ کی سرزمین میں لگانے سے عقل کے پھل لگتے ہیں عمل کی بنیادیں استوار ہوتی ہیں اور اجتماعی طور پر ترقی کی شاہراہیں روشن ہوتی ہیں.
امام محمد عبدالرؤف مُناوی شافعی رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں: ایران کا بادشاہ ایک مرتبہ شکار کے لئے نکلا تواس نے دیکھا کہ ایک بوڑھاآدمی زیتون کا پودا لگا رہا ہے بادشاہ نے پوچھا : اے شخص ! تم تو انتہائی بوڑھے ہوچکے ہو جبکہ زیتون کا درخت تیس سال کے بعد ہی پھل دیتا ہے پھر تم یہ پودا کیوں لگا رہے ہو؟ اس بوڑھے نے جواب دیا : بادشاہ سلامت!ہم سے پچھلے لوگوں نے جو درخت لگائے تھے ان کا پھل ہم نے کھایا اب ہم اپنے بعد والوں کے لئے درخت لگارہے ہیں یہ جواب سن کر بادشاہ بہت خوش ہوا اور اس نے کہا: ’’زہ‘‘( یعنی بہت خوب) ایران کے بادشاہوں کی یہ عادت تھی کہ جب کوئی بادشاہ کسی شخص کے لئے یہ لفظ کہتا تو اس شخص کو ایک ہزار دینار دیئے جاتے اس بوڑھے شخص کوایک ہزار دینار دے دیئے گئے تو اس نے بادشاہ سے دوبارہ عرض کیا: بادشاہ سلامت!زیتون کا درخت تیس سال کے بعد پھل دیتا ہے لیکن اس درخت نے تو فوراً پھل دے دیا۔
بادشاہ نے دوبارہ ’’زہ‘‘ کہا اور بوڑھے کو ہزار دینار مزید د ے دیئے گئے بوڑھے نے بادشاہ کی خدمت میں تیسری بار عرض کیا: بادشاہ سلامت!زیتون کا درخت سال میں ایک مرتبہ پھل دیتا ہے لیکن اس درخت نے تو ایک ہی وقت میں دو مرتبہ پھل دے دیا ہے بادشاہ نے پھر’’ زہ‘‘ کہا اور بوڑھے کو تیسری مرتبہ ہزار دینار دیئے گئے یہ منظر دیکھ کر بادشاہ کے ہمراہی قافلے کو لے کر جلدی جلدی وہاں سے یہ کہتے ہوئے روانہ ہوگئے کہ اگر ہم اس شخص کے پاس کھڑے رہے تو بادشاہ کا سارا خزانہ خالی ہوجائےگا(فیض القدیر:ج3،ص 41)

ہمارے بزرگوں نے صدیوں پہلے علم کے جو پودے لگائے تھے،آج تک ہم ان کے پھلوں سے مستفید ہورہے ہیں اب ہماری یہ ذمہ داری ہے،کہ اسلاف کے لگائے ہوئے ان پودوں یعنی ان کے علوم و کتب کی حفاظت کریں اور ا نہیں عام کرنے کے ساتھ ساتھ علم کے ایسے نئے پودے بھی لگائیں جو ہماری آنے والی نسلوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہوں ایسا کرنے سے صرف دوسروں کا ہی بھلا نہ ہوگا بلکہ جس طرح پودا لگانے والے بوڑھے کو فائدہ حاصل ہوا اسی طرح ان شاء اللہ اخلاص کے ساتھ علم کی خدمت کرنے والا دنیا میں بھی کسی کا محتاج نہیں رہے گا وہ لوگ جو علم حاصل کرکے خود بھی عمل کرتے اور دوسروں کو بھی ہدایت کی طرف بلاتے ہیں ان کے بارے میں اللہ کے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے : جس نے ہدایت کی طرف بلایا اس کے لیے اتنا ہی اجر ہے،جتنا اس پر چلنے والوں کے لیے ہے ۔اور ان کے اجر میں کچھ کمی نہ کی جائے گی (مسلم۔۲۶۷۴)
اے میری قوم کے غیور نوجوانو! اٹھو اور جہالت کے اندھیروں کے خلاف کمربستہ ہوجاؤ۔تم جو کچھ جانتے ہو دوسروں کو سکھادو۔ تم جو کچھ نہیں جانتے وہ دوسروں سے سیکھ لو۔ اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ تعلیم کے لیے وقف کردو۔ آؤ جس مسلک سے بھی عقیدت و محبت رکھتے ہو رکھو!مگر تعلیم کو سینے سے لگا لو،آؤ علم کا پودا لگاؤ، اس کو اپنے خون جگر سے سیراب کرو۔ اے میری قوم کے رہ نماؤ! آگے بڑھو، تعلیم کے میدان میں ہماری مدد، رہ نمائی کرو! تعلیم کے ذریعہ تمھاری قیادت اور نمایاں ہوگی تمھارے معتقدین جب علم کی معراج و بلندی پر پہنچیں گے،تو تمھارے سر پر ہی تاج رکھاجائے گا۔ اے میری قوم کے سیاست دانو! تم کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھو! مگر اپنی سیاست سے تعلیم کی راہیں ہموار کرو! تم صاحب اقتدار ہو تو بہت کچھ کرسکتے ہو،آؤ علم کا ایک چراغ روشن کردو تاکہ قوم کو روشنی مل سکے یقین مانو تمہارا اقتدار اس روشنی میں جگمگا اٹھے گا۔

تحریر :محمد ہاشم اعظمی مصباحی

نوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یو پی 9839171719

 

شیئر کیجیے

Leave a comment