شہِ ہندوستاں خواجہ معین الدین اجمیری

شہِ ہندوستاں خواجہ معین الدین اجمیری

Table of Contents

شہِ ہندوستاں خواجہ معین الدین اجمیری

خدا کی بزم امکاں میں تمہاری شان معیاری

شہ ہندوستاں خواجہ معین الدین اجمیری

عطائے مصطفی تم ہو فدائے حضرت باری

شہ ہندوستاں خواجہ معین الدین اجمیری

انا ساگر کٹورے میں بلایا آپ نے آقا

کیا جیپال جادو گر کو اک لمحے میں عبد اللہ

کرامت دیکھ کر حیراں ہیں راجا اور درباری

شہ ہندوستاں خواجہ معین الدین اجمیری

نشانِ جرأتِ شیرِ خدا اے حامی و رہبر

فقط اک ہند کیا ہے قیدیِ دستِ حسن سنجر

حکومت آپ کی ہے عالم افلاک پر جاری

شہ ہندوستاں خواجہ معین الدین اجمیری

جسے سنتے ہی ہوتا اصفیا پر وجد طاری واہ

مسلماں ہو گئے سن کر جسے گمگشتگانِ راہ

کریما کیسی ہوگی آپ کی وہ شیریں گفتاری

شہ ہندوستاں خواجہ معین الدین اجمیری

کوئی گنج شکر ہے کوئی محبوب الٰہی ہے

کوئی صابر پیہ تو کوئی قطب الدین کاکی ہے

ترے دربار اقدس سے ملی جس کو ضیا باری

شہ ہندوستاں خواجہ معین الدین اجمیری

پڑی ہے فکر دنیا اور جنت بھول بیٹھے ہیں

نشے میں چور ہو کر اپنی غیرت بھول بیٹھے ہیں

یہ تیرا کیا سمجھ پائیں گے رتبہ رافضی ناری

شہ ہندوستاں خواجہ معین الدین اجمیری

تمہاری عزت و حرمت کو جو پامال کر ڈالا

مجاور کی جو صورت میں کیا ہے اپنا منہ کالا

مقدر ہو گیا اس کا جہاں میں ذلت و خواری

شہ ہندوستاں خواجہ معین الدین اجمیری

یہاں کے حکمراں ہم کو شہا جینے نہیں دیتے

یہاں کی سر زمیں سے پانی تک پینے نہیں دیتے

اگر کرتے نہیں جو آپ مسلم کی خبر داری

شہ ہندوستاں خواجہ معین الدین اجمیری

تغافل میں پڑے سوئے ہوئے ہیں خادم و مخدوم

کہ ہے کیا مقصد ہستی کسی کو کچھ نہیں معلوم

ہماری قوم میں اب پھونک دونا روحِ بیداری

شہ ہندوستاں خواجہ معین الدین اجمیری

سخاوت کس کو کہتے ہیں زمانے کو یہ بتلا دیں

اگر دست مبارک سے اشارہ آپ فرما دیں

غریبوں مفلسوں کی دور ہو اک پل میں ناداری

شہ ہندوستاں خواجہ معین الدین اجمیری

ہمارے حامی و مشکل کشا ہو رہنما تم ہو

شہا دشتِ مصائب میں نصیرِ با وفا تم ہو

جسیم بے نوا پر بھی کرو اک چشم معماری

شہ ہندوستاں خواجہ معین الدین اجمیری

 

از__جسیم پورنوی


اے ہند کے والی

قبلۂ عارفاں خواجۂ خواجگاں

ہند کے بادشاہ خواجۂ خواجگاں

 

شیئر کیجیے

Leave a comment