قدسیوں کےلب پہ بھی ہےتذکرہ صدیق کا

قدسیوں کےلب پہ بھی ہےتذکرہ صدیق کا

Table of Contents

قدسیوں کےلب پہ بھی ہےتذکرہ صدیق کا

واصف رضا واصف

شان عالی ہے جدا ہے مرتبہ صدیق کا
خوب مستحکم ہےشہ سےرابطہ صدیق کا

ثانی اثنین اذھما فی الغار سے ہے آشکار
کتنا روشن ہے مہ عزو علا صدیق کا

ان کا دشمن ہے گرفتار غم و حزن وملال
غرق بحر شادمانی ہے گدا صدیق کا

اپنے گھر کا کل اثاثہ وقف بہر دیں کیا
کس قدر ہے رشک آور حوصلہ صدیق کا

آو آو رہ نوردان رہ عرفان حق
حق رسا و حق نما ہے راستہ صدیق کا

خوبیوں کا اک جہاں آبادہےان کےدروں
ہے مثالی دہر میں صدق وصفاصدیق کا

قربت محبوب رب سے وہ ملااوج وکمال
قدسیوں کےلب پہ بھی ہےتذکرہ صدیق کا

موجہ ٕ باد مخالف ہے ہمہ دم بے اثر
آج بھی روشن ہے شمع ارتقا صدیق کا

ایک عالم کھارہاہے ان کےخوان لطف سے
جوش پر ہے قلزم جودو سخا صدیق کا

کیا لکھے واصف رضاجاہ وکمالات وشرف
عرش سے پوچھو فراز و اعتلا صدیق کا

رشحات قلم
واصف رضاواصف مدھوبنی بہار

مزید پڑھیں

قربت شاہ زمن تجھ کو ہے حاصل صدیق

سماے علم وحمکت کے مہ کامل ابودردا

مقدر کے سکندر ہیں ابو ایوب انصاری

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment