ہے عشق و محبت کا یہ انعام ابوبکر

ہے عشق و محبت کا یہ انعام ابوبکر

Table of Contents

ہے عشق و محبت کا یہ انعام ابوبکر

واصف رضا واصف

خوش قامت وخوش قسمت وخوش فام ابوبکر
تن پر ہے ترے عشق کا احرام ابوبکر

ہے ذکر ترا نسخہ ٕ درد دل عاشق
اے قاطع نخل غم و آلام ابوبکر

حاصل ہے شہنشاہ مدینہ کی معیت
ہیں ہمسفر بانی اسلام ابوبکر

تاعمر رہا شیوہ ٕ گفتار ، صداقت
حق بات کہا کرتے تھے ہرگام ابوبکر

خود لوٹ گیا قافلہ ٕ گردش دوراں
ناگاہ پکارا جو ترا نام ابوبکر

سیرت ہے تری سیرت سرکار سے روشن
ہے حق سے معنون ترا پیغام ابو بکر

سرمایہ ٕ ہستی ہے ترا الفت سرکار
اے طالب دید رخ گل فام ابو بکر

ہرصبح ہے لطف شہ بطحا سے درخشاں
تاباں ہے تری زیست کی ہرشام ابوبکر

سرکار کے پہلو میں جو تدفین ملی ہے
ہے عشق و محبت کا یہ انعام ابوبکر

زنبیل ِ طلب خالی ہے تو ڈال دے صدقہ
ساٸل ہیں ترے طالب اکرام ابوبکر

جب ہاتھ چڑھا خنجر ِ اذعان و تیقن
پھر آپ کٹی بندش اوہام ابوبکر

ہے فتح و ظفر عاشق صادق کامقدر
اعدا ہیں ترے دہر میں ناکام ابوبکر

اک چشم عنایات و عطا ڈال دے شاہا
واصف ہے ترا بندہ ٕ بے دام ابوبکر

رشحات قلم
واصف رضاواصف مدھوبنی بہار

مزید پڑھیں

قدسیوں کےلب پہ بھی ہےتذکرہ صدیق کا

قربت شاہ زمن تجھ کو ہے حاصل صدیق

سماے علم وحمکت کے مہ کامل ابودردا

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment