مزنیہ کی بیٹی سے نکاح کا شرعی حکم

Table of Contents

مزنیہ کی بیٹی سے نکاح کا شرعی حکم

السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے ہندہ کے ساتھ زنا کیا اور پہلے ہی سے ہندہ کی ایک بڑی لڑکی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ زید ہندہ کے ساتھ زنا کر لیا تو کیا زید ہندہ کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے؟

سائل = محمّد عمران رضا۔ چھپرا، بہار انڈیا

الجواب
شرعی نقطہ نظر سے زنا کرلینے سے مرد اور عورت کے درمیان حرمت مصاہرت ثابت ہوکر زانی اور مزنیہ پر ایک دوسرے کے اصول وفروع حرام ہو جاتے ہیں تاہم اگر لا علمی کی وجہ سے مزنیہ کی بیٹی سے نکاح کیا گیا ہو تو یہ نکاح فاسد شمار  ہوگا اور مرد پر لازم ہوگا کہ وہ عورت کو جدائی کے الفاظ مثلا طلاق وغیرہ کہہ کر چھوڑ دے اس نکاح کے نتیجے میں پیدا شدہ اولاد کا نسب اسی شخص سے ثابت ہوگا

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص نے اپنی مزنیہ کی بیٹی سے نکاح کیا ہو تو شرعا اس پر لازم اور ضروری ہے کہ وہ اس کو طلاق یا علیحدگی پر دلالت کرنے والا کوئی اور لفظ کہہ کر چھوڑ دے جب کہ بچوں کا نسب اسی سے ثابت ہوگا

( قوله : *وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته )قال في البحر : أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا* ۔(رد المحتار على الدرا لمختاركتاب النكاح ، فصل في المحرمات ج4ص144)

*وقد صرحوا في النكاح الفاسد بأن المتاركة لا تتحقق إلا بالقول ، إن كانت مدخولا بها كتركتك أو خليت سبيلك* (ردالمحتار على الدر المختاركتاب النكاح ،فصل في المحرمات)

*ویجب مهر المثل في نكاح فاسد بالوطي وتجب العدةبعد الوطي لاالخلوة ويثبت النسب احتياطا* (الدرالمختار على صدرردالمحتاركتاب النكاح ج4ص277،274)

لہذا زید پر ہندہ کی بیٹی حرام ہے اگر ہندہ کی بیٹی سے نکاح کریگا تو نکاح فاسد ہوگا اور اس سے مباشرت زنا کے حکم میں ہوگا اور نکاح کے بعد اس بات کا علم ہو تو فورا جدا ہونا واجب ہے    واللہ اعلم بالصواب

کتبہ

غلام مصطفی رضا نظامی

بست پور سرلاہی نیپال
۳۱/۰٧/۲۰۲۳

مزید پڑھیں

وضوء کے مستحبات

وضو کے فرائض

وضوء کی سنّتیں

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment