Islamic Articles, Naat, Manqabat etc

Read Here For Free


موجودہ سیاست اسلام اور اہل اسلام (قسط اول)

موجودہ سیاست اسلام اور اہل اسلام (قسط اول)

 

از قلم: محمد توصیف رضا قادری علیمی

 

اسلام نے سیاست کی تعلیم بھی دی ہے، اگر اسلامی نقطۂ نظر سے سیاست کیا جائے تو یہ اصلاً خدمت خلق ہے جس میں پوری انسانیت شامل ہے، یہی وجہ ہے کہ رسول اعظم ﷺ اور اُنکے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت سے روزِ روشن ہے کہ جس کا عدل وانصاف کرنے میں کوئی ثانی نہیں، اگر یہی اصول عدل و انصاف آج کل ملک کی سیاست میں اپنائی جائے تو یقیناً سماج کا ہر طبقہ ساتھ آجائے گا اور ساتھ ہی لوگوں کے دلوں میں جو نفرت بھر دی گئی ہے اس کے اندر محبت اور بھائی چارگی پیدا ہوجائے گی۔

اسی لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ "سیاست” اسلام کی نظر میں ایک بلند ترین عمل اور حکمت ہے جس کے ذریعے انسانوں کی ظاہر و باطن دونوں اصلاح کر سکتے ہیں۔۔۔نیز اسلامی سیاست نہ کسی کی آزادی سلب کرتی ہے، اور نہ کسی کو بے راہ روی کے لیے آزاد چھوڑتی ہے بلکہ ہر حال میں احکم الحاکمین کے احکام کی بالادستی کو قائم رکھتی ہے،

لیکن یہ بات بھی تسلیم شدہ ہے کہ موجودہ سیاست کا اسلام سے دور دور تک کوئی ربط نہیں، ہماری آج کی سیاست اپنے اصول و ضوابط میں اپنی طبعیت اور مزاج میں مذہب سے کسی قسم کا تعلق نہیں رکھتی، ایسی گھناؤنی سیاست کو مذہب کے ساتھ اگر جوڑا جائے تو یہ مذہب کی پاکیزگی کو تار تار کرنا ہوگا ۔۔

دراصل ہم نے دین اور سیاست کو الگ الگ خانوں میں بانٹ کر رکھا ہے، ہم میں سے بعض تو اس حد تک سیاست سے کنارہ کشی کئے ہوئے ہیں کہ اس پر بات کرنا یا کسی مناسب امیدوار کی تائید کرنا بھی گناہ عظیم سمجھتے ہیں اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ سیاست گندی چیز ہے

اور بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شریعت کی تعلیم میں تمام معاملات کے متعلق احکام نہیں ہیں، ان کا یہ خیال ہے کہ شریعت نے صرف عبادات اور معاملات کے تعلق سے ہی احکام بیان کیے ہیں سیاست کے تعلق سے اسلام نے تعلیم نہیں دی، اور لوگوں کے اس فاسد خیال سے بہت بڑا نقصان یہ ہوا کہ لوگ حد شرعی سے آگے بڑھنے لگے اور ان کا گمان یہ ہونے لگا کہ دین اسلام کی تعلیم ناقص ہے معاذ اللہ

حالانکہ اسلام ایسا پاکیزہ اور مقدس مذہب ہے کہ سیاست سے متعلق کافی قانون اور احکام بیان کیے ہیں، اور کسی دوسرے مذہب میں تو سیاسی تعلیم اور ضروری احکام درکنار، بلکہ رہنے سہنے کے متعلق بھی تعلیم نہیں ملتی، شریعت مطہرہ میں تمام انسانی حالات کے مفصل قواعد موجود ہیں کوئی ایسا جزئیہ نکلنا ممکن نہیں جس میں شریعت اسلامیہ کا کوئی حکم نہ ہو،

خالقِ کائنات اپنے کلام پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
"وَنَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠” ترجمہ :اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے اور ہدایت اور رحمت اور بشارت مسلمانوں کو”۔ (النحل: 16,آیت 89)

*ایک ازالہ:*
دین پر عمل کے لیے اسلام کے تمام احکام پر عمل ضروری ہے، چاہے وہ کسی شعبہ سے متعلق ہو، البتہ جہاں تک دین کی جدجہد کا تعلق ہے عادة کوئی ایک شخص تمام شعبوں میں جدوجہد نہیں کرسکتا اس لیے اس میں تقسیم کار پر عمل ضروری ہے،

مثلا کسی نے اپنے لیے دین کے کام کا شعبہ اختیار کیا، اس میں وہ اپنا وقت اور محنت صرف کررہا ہے اور اس پر زیادہ توجہ دے رہا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، حرج اس میں ہے کہ کوئی یہ سمجھے کہ میں نے جو شعبہ اختیار کیا ہے وہ دین کا مقصود اصلی ہے، تو یہ غلط ہے، بلکہ جس طرح دین کے بہت سے کام ہیں اسی طرح سیاست بھی کام ہے،

۔۔۔جیسے کوئی شخص سیاست کے شعبہ کو اس لیے اختیار کرتا ہے کہ حالات کے مطابق اس میدان میں خدمت زیادہ بہتر طریقہ پر کرسکتا ہے اور لوگوں کو اس کے حقوق دلاسکتا ہے اور اپنے آپ کو اسی کام کے لیے لگاتا ہے، لیکن اگر یہ کہنے لگے کہ سیاست دین کا مقصود اصلی ہے تو یہ بھی غلط ہے

اور اگر کوئی شخص ملت اسلامیہ کے لیے سیاست کا راستہ اختیار کرتا ہے اور اس کے لیے جد جہد کرتا ہے تو وہ بھی عین دین کا ایک حصہ ہے،

بہر صورت! مجھے یہ گمان ہے کہ آج ہم جو کمزور ہیں اور دستور ہند کے مطابق جو حقوق ہمیں ملنے چاہیے تھی وہ ہمیں نہیں مل پائی ۔ وہ اس لئے کہ ہم سیاست سے کوسوں دور ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ہم سیاست کے سین (س) سے بھی واقف نہیں، اور اس کا مکمل فائدہ ایوان میں بیٹھے اسلام مخالف حضرات بخوبی اٹھا رہے ہیں، لہذا ہمیں چاہئے کہ ہم شعبہ سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، اور جو موجودہ گندی سیاست ہے اس کو اسلامی سیاست سے تبدیل کریں اور شریعت کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالیں، شرعی سیاست سے باطل طاقتوں کے سینوں پر داغِ شکست دے ڈالیں،

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

—- جاری ——

از قلم: محمد توصیف رضا قادری علیمی

(بانی الغزالی اکیڈمی و اعلیٰحضرت مشن، آبادپور تھانہ (پرمانک ٹولہ) ضلع کٹیہار بہار، الھند: متعلم دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی،بستی۔ یوپی،۔۔۔۔شائع کردہ: 22/اگست/2022)*

مذید پڑھیں

مخدوم سمناں کا رند تصوف

ہمیں مرشد کی ضرورت کیوں؟

حضور مفتی اعظم،شریعت اور تعظیمِ نسبت

Spread The Love

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Related Posts