منزل رفاقت اور منزل مفارقت

منزل رفاقت اور منزل مفارقت

Table of Contents

منزل رفاقت اور منزل مفارقت

از قلم: طارق انور مصباحی

منزل رفاقت اور منزل مفارقت
منزل رفاقت اور منزل مفارقت

مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
مذہب اہل سنت وجماعت کی سرفرازی وسربلندی,فروغ وعروج,اور مسائل دینیہ کی توضیح وتشریح سے متعلق ہماری چھوٹی بڑی تحریریں منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔

یہ ممکن ہے کہ ہماری کوئی تحریر کسی دینی بھائی کے ذوق ومزاج سے ہم آہنگ نہ ہو,پس یہ دیکھا جائے کہ وہ تحریرحکم شریعت,قومی مصلحت اور حضور اقدس علیہ التحیۃ والثنا کی مرضی ومشیت کے موافق ہے یا نہیں؟اگر موافق ہے تو پھر کوئی حرج نہیں۔

مذہب اہل سنت وجماعت وہی طبقہ ہے جسے ہمارے رسول علیہ الصلوۃ والسلام نے فرقہ ناجیہ قرار دیا ہے۔پس اس کی خدمت رضائے نبوی وعطائے مصطفوی کا سبب ہے۔

مذہبی مضامین کےالفاظ وعبارات رقم کرتا جاتا ہوں اور یہ فکر مستحضر ومستحکم رہتی ہے کہ کوئی کلمہ وجملہ مرضی حبیب خدا علیہ التحیۃ والثنا کے خلاف نہ ہو۔حکم شریعت کا بھی لحاظ رہے اور قومی مصلحت کی بھی رعایت ہو سکے,تاہم لغزش وخطا کا پرندہ شجر امکان پر جلوہ گر ہو کر زمزمہ خوانی کرتا رہتاہے:”الانسان مرکب من الخطأ والنسیان”۔بھلا اس صدائے حقیقت افروز سے کسے انکار ہے۔

ہم جن کی رضا وخوشنودی کے واسطے الفاظ وحروف کے نقوش بناتے ہیں,بس انھیں کے اشارۂ ابرو کے موافق عبارتوں کو ثبت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انھیں کی رضا مقصود ہوتی ہے,اور انھیں کی خوشنودی مطلوب۔

ایک محاذ ایسا ہے کہ نہ آپ میرا ساتھ دے سکتے ہیں,اور نہ میں آپ کے ساتھ جا سکتا ہوں۔بہت سی منزلیں رفاقت کی ہیں,اور ایک منزل مفارقت کی۔ہماری حکمت عملی الگ ہے۔آپ کی حکمت عملی الگ۔یہی حسن کائنات ہے۔

گلہائے رنگا رنگ سے زینت چمن کو ہے
اے ذوق! اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے

موجودہ شخصیات میں سے بعض نفوس عالیہ آپ کے پسندیدہ اور آئیڈیل ہوں گے,پھر ان کے کچھ موافق ہوں گے اور کچھ مخالف۔ان کے بہت سے فالوورس ہوں گے۔ان تمام حقائق کو سامنے رکھ کرآپ کو اپنی پالیسی متعین کرنی ہو گی۔آپ اس اصول سے منحرف نہیں ہو سکتے۔اہل عالم کا طرز عمل ایسا ہی ہے۔

میری پسندیدہ شخصیت اور میرے آئیڈیل تو وہی ہیں جو کل کائنات کے آئیڈیل ہیں۔حضور اقدس تاجدار دوجہاں علیہ التحیۃ والثنا کے دربار اقدس میں تمام اہل سنت وجماعت کو قبولیت حاصل ہے,اس لئے میں تمام اہل حق کو قبولیت کی نظر سے دیکھتا ہوں۔وہ حنفی ہو یا مالکی,شافعی ہو یا حنبلی۔قادری ہو یا چشتی, نقشبندی ہو یا سہروردی۔اشعری ہو یا ماتریدی۔

یہ ہمارے اور آپ کے درمیان فکری جدائی کا ایک چھوٹا سا خندق ہے۔اس برزخی منزل کو اتباع شرع کے پل صراط سے پاٹ سکتے ہیں,اور رشتہ نبھا سکتے ہیں,ورنہ آپ کی مرضی۔ہم کسی کو اپنی پسند کا پابند نہیں کر سکتے۔

کم از کم ہر مسلمان کو اتنا ضرور معلوم ہے کہ دونوں جہاں کے حسنات وبرکات,عزت وقبولیت,عظمت وشوکت,حشمت ورفعت,نعمت ودولت,حکومت وسلطنت,امامت وخلافت,سیادت وقیادت,ولایت ومعرفت,قطبیت وغوثیت وجملہ خیرات وکرامات اور دارین کی بھلائیاں دربار اعظم سے تقسیم ہوتی ہیں۔

حضور اقدس حبیب کبریا علیہ التحیۃ والثنا نے ارشاد فرمایا: (انما انا قاسم واللہ یعطی)
(صحیح البخاری)

دنیا کا ہر انسان اپنا فائدہ ونقصان دیکھ کر قدم اٹھاتا ہے۔میں ایک محاذ پر آپ کا ساتھ نہیں دے سکتا۔اگر چاہیں تو آپ میرے شریک سفر ہو جائیں۔ہاں,آغاز سفر سے قبل امام احمد رضا قادری سے دربار اعظم کے آداب ورسوم دریافت کر لیں۔وہ مقرر فرمودہ رہنمائے منزل ہیں,بلکہ اپنا ہر دینی سوال ان کے پاس ہی لے جائیں۔

آپ دربار اعظم کے باہر اپنا کشکول آویزاں کر دیں اور یہاں وہاں عشق پیمبر کا نعرۂ مستانہ وصدائے مجذوبانہ لگاتے پھریں۔حضور اقدس حبیب کبریا علیہ التحیۃ والثنا دربار اعظم کے دریوزہ گروں کے کشکول میں اپنے خاص دست اقدس سے الطاف خسروانہ وانعامات شاہانہ عطا فرماتے رہتے ہیں۔آؤ گے,تب پاؤ گے۔

دربار خداوندی میں دست بہ دعا ہوں کہ:

جوانوں کو سوز جگر بخش دے
میرا عشق میری نظر بخش دے

میرے دیدہ تر کی بے خوابیاں
میرے دل کی پوشیدہ بے تابیاں

میرے نالۂ نیم شب کا نیاز
میری خلوت وانجمن کا گداز

امنگیں میری آرزوئیں میری
امیدیں میری جستجوئیں میری

میرے قافلے میں لٹا دے اسے
لٹا دے ٹھکانے لگا دے اسے

(شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال)

وہ شخص اہل سنت وجماعت میں سے ہے جو تمام ضروریات دین اور ضروریات اہل سنت کو مانتا ہو,اور ائمہ اربعہ میں سے کسی کا مقلد ہو,خواہ اشعری ہو یا ماتریدی۔

آسان لفظوں میں یہ کہا جائے کہ:جو باب اعتقادیات میں امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز سے متفق ہو۔ان کی بیان کردہ توضیحات وتشریحات کو مانتا ہو,نیز ائمہ اربعہ میں سے کسی کا مقلد ہو,وہ سنی ہے۔

عہد حاضر میں ضروریات دین کے بہت سے منکرین بھی خود کو سنی کہتے ہیں,جیسے دیابنہ وغیرہ۔ان سے پرہیز وگریز لازم ہے۔

سنی بھائیوں کی اصلاح ہونی چاہئے اور بدمذہبوں کا رد۔اصلاح کےاصول وقوانین الگ ہیں اور رد وابطال کے اصول وضوابط جداگانہ۔اپنوں کے ساتھ نرمی ہو اور غیروں کے ساتھ سختی۔ارشاد ربانی وفرمان قرآنی(اشداء علی الکفار ورحماء بینہم)کا بھی یہی مفاد ہے۔آپ بھی غور کریں,شاید کوئی بہتر راہ نکل آئے:واللہ الہادی وہو المستعان

از قلم: طارق انورمصباحی

جاری کردہ:20:جون 2021

مزید پڑھیں

امام احمد رضا اور عقائد اسلامیہ کی تشریحات

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment