کیا رمضان کی سب سے پہلے اطلاع یا مبارک باد دینے سے جنت واجب ہو جاتی ہے؟

کیا رمضان کی سب سے پہلے اطلاع یا مبارک باد دینے سے جنت واجب ہو جاتی ہے؟

Table of Contents

کیا رمضان کی سب سے پہلے اطلاع یا مبارک باد دینے سے جنت واجب ہو جاتی ہے؟

سبطین رضا محشر مصباحی

آج کل یہ روایت عام ہے کہ فیس بک واٹس ایپ اور سوشل میڈیا کی دیگر پلیٹ فارم ایک چیز جب آجاتی ہے شیئر کیے بغیر رہا نہیں جاتا- خواہ مواد کیسا ہی کیوں نہ ہو- بغیر افہام و تفہیم کے سوچے سمجھے بغیر شیئر کر دیا جاتا ہے- ٹرینڈ یہ بن گیا ہے کہ یہ میسج دس لوگوں کو بھیجو گے تو مالا مال ہوجاؤ گے آپ کی ایک مراد پوری ہوگی ناجانے کیسی کیسی باتیں ہوتی ہے جس کا حقیقت سے دور دور تک تعلق نہیں_
اسی سے ملتی جلتی ایک روایت رمضان کے موقع سے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیلائی جارہی ہے اور عوام شیئر بھی کر رہے ہیں کہ” جو رمضان کی سب سے پہلے خبر/ مبارک باد دے گا اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے جہنم کی آگ اس پر حرام ہے”- عربی زبان میں اس طرح رائج ہے( من اخبر بخبر رمضان اولا حرام علیه نار جھنم)

اسی روایت سے متعلق کچھ معلومات آپ قارئین کی بارگاہ میں!!

سب سے پہلے بنیادی طور پر یہ جان لیں کہ *یہ بات حدیث کی کسی بھی صحیح کتابوں میں نہیں ہیں بلکہ ضعیف اور موضوع احادیث پر لکھی گئی کتب میں بھی نہیں ملتی*- جس کی بنا پر یہ صاف ہوجاتا ہے کہ یہ بات من گھڑت ہے گھڑی ہوئی ہے- *البتہ حدیثوں میں صرف ماہِ رمضان کی آمد پر ایک دوسرے کو خبر دینا، خوش خبری دینا، اور فضائل بیان کرنے کا ذکر ہیں*- رمضان کی سب سے پہلے اطلاع دینے/مبارک باد دینے سے جنت واجب ہوجاتی ہے ایسا ہر گز نہیں ہیں-اس کے متعلق حدیث آگے آنے والی ہیں_

یہ روایت اس بنا پر غیر معتبر ہے:

رمضان کی آمد پر اطلاع دینا یا مبارک باد دینا الگ چیز ہے اور رمضان کی اطلاع دینے کو جنت واجب ہونے پر تصور کرنا الگ چیز ہے دونوں الگ الگ ہیں – حدیث میں پہلی والی صورت یعنی رمضان کی آمد پر اطلاع دینا/ مبارک باد دینے کا صرف ذکر ہے- خوش خبری یا اطلاع دینے سے جنت واجب اور جہنم حرام کا قطعی ذکر نہیں- یعنی اگر کوئی کسی کو ماہِ رمضان کی اطلاع یا مبارک باد تحدیث نعمت کے طور پر دے تو مبارک باد دے سکتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر مبارک باد وجوب جنت پر محمول کر کے دے تو یہ غلط اور غیر درست ہے_
بلا شبھہ ماہِ رمضان بہت فضیلتوں والا مہینہ ہے اس ماہ کی آمد پر اس کی خوش خبری دینا اور مبارک باد دینا اور فضائل بیان کرنا حدیث سے ثابت ہے_
*چناں چہ مصنف ابن ابی شیبه میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں*:

” قال نبي الله صلى الله عليه وسلم وهو يبشر أصحابه : قد جاءكم رمضان شهر مبارك افترض عليكم صيامه تفتح فيه أبواب الجنة أو تغلق فيه أبواب الجحيم وتغل فيه الشياطين ، فيه ليلة القدر خير من ألف شهر من حرم خيرها فقد حرم”

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو ( ماہِ رمضان کی آمد پر ) خوش خبری دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: تحقیق تمہارے پاس مبارک مہینا رمضان آ گیا ہے۔ اس کے روزے تم پر فرض کیے گئے ہیں۔ اس مہینے میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ اس ماہِ مبارک میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بھی افضل ہے، جو اس میں بھلائی سے محروم رہا، تحقیق وہ محروم ہو گیا۔ ‘
*حدیث کےپہلے کے الفاظ” قال نبي الله صلى الله عليه وسلم وهو يبشر أصحابه” ہیں- جس کا صاف اور صریح مطلب یہ ہے کہ حدیث میں صرف رمضان کی آمد پر مبارک باد اور خوش خبری کا ذکر ہے- رمضان کی مبارک باد دینے سے جنت واجب ہوجانے کا ذکر ہر گز نہیں*-

جو بات حدیث نہیں اس کو حدیث کہنا اس کی نسبت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا جھوٹ، بہتان اور بڑا گناہ ہے- مذکورہ حدیث ایک مرتبہ ٹھیک سے پڑھ لے تو واضح طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ حدیث میں صرف رمضان کی آمد کی اطلاع دینے میں خوش خبری/ مبارک بادی کا ذکر ہیں اس کے علاوہ اس سے کہیں بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مبارک باد دینے سے جنت واجب ہوجاتی ہے- لہذا ماہِ رمضان کی آمد پر ایک دوسرے کو مبارک بادی ضرور دیں اچھا عمل ہے مگر یہ تصور کرنا کہ سب سے پہلے اطلاع دینے میں جنت واجب ہوجاتی ہے ایسا ہرگز نہیں_

سبطین رضا محشر مصباحی

بیل پوکھر کشن گنج بہار

مزید پڑھیں

چاند دیکھنے کےفضائل و مسائل

روزہ کے شرعی و طبی فوائد

کیا رمضان المبارک کی خوشخبری دینے سے جنت واجب ہوتی یا جہنم حرام ہوتی ہے ؟

 

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment