محمد ﷺ کے بارے میں دلچسپ معلومات

محمد ﷺ کے بارے میں دلچسپ معلومات

Table of Contents

محمد ﷺ کے بارے میں دلچسپ معلومات

از قلم:- غلام مصطفیٰ رضا نظامی

محمد ﷺ کے بارے میں دلچسپ معلومات
محمد ﷺ کے بارے میں دلچسپ معلومات

وفات کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والد حضرت عبد اللہ کی عمر: ۲۵ سال
حضرت عبد اللہ کی قبر مبارک: مدینہ منورہ
وفات کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ حضرت آمنہ کی عمر: ۲۰ سال
حضرت آمنہ کی قبر مبارک: مقام ابواہ میں
مقام ابواہ کا مدینہ سے فاصلہ: ۸۰ میل
والد کی وفات: ٦ ماہ قبل پیدائش
والدہ کے وفات کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر: ٦ سال
وفات کے وقت نبی کریم کے دادا عبد المطلب کی عمر: ۹۸ سال
حضرت عبد المطلب کی وفات کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر: ۸ سال ۲ ماہ ۱۰ دن

وقت وفات حضرت عبد المطلب نے نبی کریم کو ابو طالب کے سپرد کر دیا_

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی رضاعی ماں: حضرت ثوبیہ رضی اللہ عنہا ہے
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری رضاعی ماں: حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا ہے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچاؤں کے نام
۱۔ حارث ۲۔ ابو طالب ۳۔ زبیر ٤۔ حمزہ
۵۔ ابو لہب ٦۔ غیراق ۷۔ مقوم ۸۔ صفار
۹۔ عباس ۱۰۔ قثم ۱۱۔ حجل
نوٹ:-

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھیوں کے نام
۱۔ صفیہ ۲۔ ام کلیم ۳۔ عاتکہ ٤۔ برہ ۵۔ اروی ٦۔ امیمہ
نوٹ:-

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج مطہرات کے نام
۱:- حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا
۲:- حضرت سودہ رضی اللہ عنہا
۳:- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا
٤:- حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا
۵:- حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا
٦:- حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا
۷:- حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا
۸:- حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا
۹:- حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا
۱۰:- حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا
۱۱:- حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا

وضاحت:
پہلا نکاح ۲۵ سال کی عمر میں ‘بیوہ’ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے
دوسرا نکاح ۵۰ سال کی عمر میں ‘بیوہ’ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے
تیسرا نکاح ۵۳ سال کی عمر میں ‘کنواری’ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے
چوتھا نکاح ۵٦ سال کی عمر میں ‘بیوہ’ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے
پانچواں نکاح ۵٦ سال کی عمر میں ‘بیوہ’ حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا سے
چھٹا نکاح ۵٦ سال کی عمر میں ‘بیوہ’ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے
ساتواں نکاح ۵۸ سال کی عمر میں ‘مطلقہ’ حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے
آٹھواں نکاح ۵۸ سال کی عمر میں ‘قید سے آزاد کردہ’ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے
نواں نکاح ٦٠ سال کی عمر میں ‘قید سے آزاد کردہ’ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے
دسواں نکاح ٦٠ سال کی عمر میں ‘بیوہ’ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے
گیارہواں نکاح ٦٠ سال کی عمر میں ‘مطلقہ’ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے

تنبیہ:-
یاد رہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ سب نکاح اس آیت سے پہلے ہو چکے تھے جس میں مسلمانوں کے واسطے بیویوں کی تعداد بایک وقت چار کو مقرر کی گئی ہے_

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اولادوں کے نام

۱:- حضرت قاسم رضی اللہ عنہ
۲:- حضرت طیب رضی اللہ عنہ
۳:- حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ
٤:- حضرت زینب رضی اللہ عنہا
۵:- حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا
٦:- حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا
۷:- حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑوں کے نام
۱۔ یعسوب ۲۔ خلیف ۳۔ طرف ٤۔ مرتجز ۵۔ سکب ٦۔ لزاز ۷۔ ورد

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تلواروں کے نام
۱۔ عصب ۲۔ رسوب ۳۔ مخزم ٤۔ قلعی ۵۔ ماثور ٦۔ حتف ۷۔ بتار ۸۔ قضیب ۹۔ ذو الفقار
*نوٹ:-* ان ۹ تلواروں میں سے ۸ تلوار ‘توپ کاپی’ عجائب گھر میں محفوظ ہیں، اور ۱ تلوار مصر کے شہر قاہرہ میں واقع ‘مسجد حسین بن علی میں محفوظ ہے_

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا نام: قصواء
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر کا نام: دلدل
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دراز گوش کا نام: یعفور

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات
مرض کی ابتداء: سر کا درد (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے یہاں)
مرض میں شدت: حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ کے یہاں
آخری ایام گزارے: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے حجرہ میں
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے حجرہ میں لے کر جاتے ہوئے دونوں بازو تھامے: حضرت علی المرتضیٰ و حضرت عباس رضی اللہ عنہما نے
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری نماز کی امامت کی: نماز مغرب

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علالت کے دوران امامت فرمائی: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے
تاریخ وفات: ۱۲ ربیع الاول ۱۱؁ھ
وفات کا دن: پیر
وفات کا وقت: سہ پہر
وفات کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک: ٦٣ سال ٤ دن
دنوں کے اعتبار سے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک: ۲۲,۹۹۹ دن ہے
جائے وفات: مدینہ منورہ (سعودی عربیہ) ہے
تاریخ تدفین: ۱٤ ربیع الاول ۱۱؁ھ بروز بدھ ہے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے والے صحابۂ کرام:
۱:- حضرت عباس رضی اللہ عنہ
۲:- حضرت علی رضی اللہ عنہ
۳:- حضرت فضل رضی اللہ عنہ
٤:- حضرت قثم بن عباس رضی اللہ عنہ
۵:- حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ
٦:- حضرت اوس بن خولی انصاری رضی اللہ عنہ
۷:- سقران: یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں

وفات کا منظر

وفات سے چار دن قبل نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختصر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:
"خدا نے اپنے ایک بندہ کو یہ اختیار عطا فرمایا ہے کہ خواہ وہ بندہ دنیا کے نعمتوں کو قبول کر لے یا خدا سے ملاقات کر لے اس بندہ نے خدا سے ملاقات کو قبول کر لیا ہے”

یہ سنتے ہی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ رو پڑے کیونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ وہ بندہ خود ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم“ ہیں_
وفات کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر بار بار غشی طاری ہو رہی تھی اور دن جیسے جیسے چڑھتا جا رہا تھا بے چینی بڑھتی جارہی تھی بالآخر سہ پہر کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو روح رکتی ہوئی محسوس ہوئی تو ہاتھ اٹھا کر انگلی سے اوپر اشارہ کرتے ہوئے ۳ مرتبہ فرمایا:
"بل الرفیق الاعلی”
ترجمہ:- اب اور کوئی نہیں وہی رفیق اعلی ہے_
یہی کہتے ہوئے ہاتھ لٹک آئے اور روح پاک عالم قدس میں پہنچ گئی_ مدینے کی گلیوں میں آہ و بکا کے نارے بلند ہوئے، مسجد نبوی میں کہرام مچ گیا اور مسلمانوں کی آنکھوں میں دنیا اندھیر ہو گئی_

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار نکالی اور بلند آواز میں بولے:

"جو یہ کہے گا کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے وفات پائی، میں اس کا سر قلم کر دونگا”
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تقریر فرماکر صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم کو دلاسہ دلایا

غسل مبارک

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سینے پر ٹھیم رکھ تھا: حضرت اوس بن خولی انصاری رضی اللہ عنہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کروٹیں بدل رہے تھے: حضرت عباس، حضرت فضل بن عباس اور حضرت قثم بن عباس رضی اللہ عنہم
حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی بہا رہے تھے: حضرت اسامہ بن زید اور سقران (نبی کے آزاد کردہ غلام)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دے رہے تھے: حضرت علی رضی اللہ عنہ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیا گیا: پانی اور بیری کے پتوں سے
نبی اکرم کے غسل کے لیے پانی منگوایا گیا: حضرت سعد بن خثیمہ رضی اللہ عنہ کے کنویں سے
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کفنایا گیا: ۳ عدد سوتی یمنی چادروں میں
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کھودی: حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر میں اتارنے والے صحابۂ کرام:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے والے صحابۂ کرام:
۱:- حضرت عباس رضی اللہ عنہ
۲:- حضرت علی رضی اللہ عنہ
۳:- حضرت فضل رضی اللہ عنہ
٤:- حضرت قثم بن عباس رضی اللہ عنہ
۵:- حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ
٦:- حضرت اوس بن خولی انصاری رضی اللہ عنہ
۷:- حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ
۸:- حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری دیدار کرنے والے صحابی: حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہیں_
روایت میں ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک میں مٹی ڈالنے سے پہلے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی قبر مبارک میں گر گئی_
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اپنی انگوٹھی نکالنے کے لیے قبر مبارک میں اترے اور اسی بہانے نبی آخر الزماں کا آخری دیدار بھی کر لیا_

از قلم:- غلام مصطفیٰ رضا نظامی

جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء نئی دہلی

مزید پڑھیں

اسلاف کرام کی تجارت اور ہمارا معاشرہ

تصانیف رضاکی خصوصیات و انفرادیت

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment