چاند رات کی برکتیں اور ہمارا طریقۂ کار

چاند رات کی برکتیں اور ہمارا طریقۂ کار

Table of Contents

چاند رات کی برکتیں اور ہمارا طریقۂ کار

از قلم:محمد جنید برکاتی مصباحی

چاند رات کی برکتیں اور ہمارا طریقۂ کار
چاند رات کی برکتیں اور ہمارا طریقۂ کار

 

ربِّ ذو الجلال نے جس طرح لیلۃ القدر جیسی با برکت رات سے امتِ محمدیہ کو بہرہ ور فرمایا ہے اسی طرح چاند رات کی صورت میں لیلۃ الجائزہ یعنی انعام اور اجر دینے کی رات کی سعادت سے بھی صرف نبیِ آخر الزماں ﷺ ہی کی امت کا نصیبہ چمکایا ہے۔ یہ رات ایسی با برکت ہے کہ جو اس رات میں قیام کرلے تو قیامت کے دن اس کا دل مردہ نہیں ہوگا۔ اِس رات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایک مہینے کی کڑی جاں فشانی والی عبادت کا یہ انعام اور اجر عطا فرماتا ہے کہ فرشتوں کی موجودگی میں سارے روزے داروں کی بخشش کا پروانہ جاری فرما دیتا ہے۔ اسی وجہ سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اِس رات کو لیلۃ الجائزۃ کا نام دیا ہے۔

احادیث میں اس رات کی بڑی فضیلتیں آئیں ہیں، یہ ان راتوں میں سے ایک ہے جن کو زندہ کرنے والوں کے لیے مخبرِ صادق ﷺ کی زبانِ غیب ترجمان سے جنت کی نوید سنائی گئی ہے۔ پیارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ان پانچ راتوں میں کو زندہ رکھ لے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے پہلی آٹھویں ذی الحجہ کی رات، دوسری نویں ذی الحجہ کی رات، تیسری عید الاضحٰی کی رات، چوتھی عید الفطر کی رات اور پانچویں پندرہویں شعبان کی رات۔ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب عید الفطر کی رات آتی ہے تو خدا ملائکہ کے سامنے اپنے بندوں پر فخر فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ بتاؤ اس مزدور کی کیا اجرت ہونی چاہیے جو اپنا کام پورا کرے، فرشتے عرض گزار ہوتے ہیں کہ اس کی مزدوری یہ ہے کہ اسے پورا پورا اجر و ثواب دیا جائے، پھر ربِّ ذو الجلال ارشاد فرماتا ہے کہ میرے بندے اور بندیوں نے میرا فریضہ پورا کیا ہے اور پھر بآوازِ بلند دعا و تکبیر کو نکلے ہیں، مجھے میری عزت کی قسم! میرے جلال کی قسم! میرے کرم کی قسم! میری شان کی قسم! میں ان کی دعا ضرور قبول کروں گا، پھر رب تعالیٰ اپنے بندوں سے فرماتا ہے کہ لوٹ جاؤ میں نے تمھارے گناہوں کو بخش دیا تمھاری برائیوں کو نیکیوں سے بدل دیا ہے تو یہ بندے عید گاہ اس حال میں لوٹتے ہیں کہ ان کے گناہ بخشے جا چکے ہوتے ہیں۔

اس حدیثِ رسولِ مقبول ﷺ سے معلوم ہوا کہ اس رات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو پورے مہینے کی عبادت کا اجر عطا فرما دیتا ہے اور اس مہینے میں گناہوں سے کنارہ کش ہو کر عبادت و ریاضت میں مشغول رہنے والوں کے گناہ اپنی بخشش و کرم کی موسلا دھار بارش سے دھو دیتا ہے۔

اس رات میں اللہ تعالیٰ اپنی خیر و برکت کے دروزے بندوں پر وا فرما دیتا ہے، فرشتوں میں مسرت و شادمانی کا ماحول بنا رہتا ہے، رب اپنے خاص نور کی تجلی فرماتا ہے اور بندوں پہ انعام و اکرام کی بارش نازل فرما دیتا ہے، دعائیں قبول فرماتا ہے، مرادوں کی تکمیل فرماتا ہے لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ اِس رات اگر شب بیداری بدن پرشاق نہ ہو تو کریں، رب کے حضور سجدہ دیزی کریں، نمازیں پڑھیں، اوراد و اذکار سے رطب اللسان رہیں، خدا کے حضور اپنی جائز مرادوں کے حصول کے لیے دامن پھیلا دیں، اپنے حق میں، اپنے اہلِ خانہ کے حق میں اور پوری امتِ مسلمہ کے حق میں نیک دعائیں کریں، مسلمانوں کی جان، مال، عزت و آبرو کی حفاظت کا عریضہ خدائے سمیع و بصیر کی بارگاہِ اجابت میں پیش کریں کیوں کہ یہ رات ان اجابت و برکت والی راتوں میں سے ایک ہے جن میں دعائیں رد نہیں ہوتیں اور اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتیں بندوں کو گھیرے رہتی ہیں اور بندوں کے ہاتھ پھیلانے کی منتظر رہتی ہیں۔

لیلۃ الجائزہ (چاند رات) جس کو ہمارے معاشرے نے شاپنگ، سیر و تفریح، کھیل، کود، گانے بجانے اور ارتکابِ معاصی کی رات بنا دیا ہے یہ ایک بے پناہ خیر و برکت والی رات ہے، امُ المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چار راتوں میں اللہ تعالیٰ خیر و برکت کے دروازے کھول دیتا ہے(١) بقر عید کی رات، (٢) عید الفطر کی رات، (٣) پندرہویں شعبان کی رات، (٤) عرفہ کی رات، ان چار راتوں میں شام سے صبح تک اللہ تعالیٰ خیر و برکت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ اس فرمانِ عظمت نشان سے پتا چلا کہ جہاں اس پورے رمضان المبارک میں رب کی رحمتیں، برکتیں، سعادتیں اور مغفرتیں ہمارے اوپر برستی رہتی ہیں، رب کی طرح طرح کی نعمتوں ہماری منتظر رہتی ہیں تو وہیں چاند رات میں بھی رب کی خاص رحمتوں اور مغفرتوں کے بادل ہمارے اوپر سایہ فگن رہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ جس جوش و خروش کے ساتھ پر تپاک انداز سے ہم نے اس ماہِ مبارک کا استقبال کیا تھا، رب کو منانے، رسول اللہ ﷺ کی رضا جوئی میں لگ گئے تھے، خدا کی رحمتوں، مغفرتوں کے متلاشی تھی، ذوقِ عبادت سے سرشار تھے، گناہوں سے متنفر تھے، عذابِ الہی سے لرزاں و ترساں تھے اسی جوشِ عبادت کے ساتھ اس کو الوداع کہیں، کیوں کہ جس طرح اس مہینے کی آمد باعثِ خیر و برکت تھی اسی طرح یہ مہینہ رحمتیں، برکتیں لٹاتا ہوا ہی رخصت ہوتا ہے، علاوہ ازیں زمانے کا یہ دستور ہے کہ جہاں مہمان کا خیر مقدم والہانہ ہوتا ہے اسی طرح اس کو رخصت بھی حسنِ عمل سے کیا جاتا ہے، کہیں ایسا نا ہو کہ اسے رخصت کرکے ہم پھر سے اپنے سابقہ گناہوں اور بد کاریوں میں لگ جائیں کہ ہمارا حال پھر ویسا ہو جائے جیسا رمضان المبارک کی آمد سے قبل تھا اور اِس پورے مہینے کی محنت و عرق ریزی برباد ہو جائے بلکہ ہمیں رمضانِ کریم کی عبادت کے تسلسل کو بر قرار رکھتے ہوئے نیک و صالح بنے رہنا چاہیے کہ ایک مومن کی شانِ زندگی یہی ہے کہ وہ اپنے رب قدیر کو راضی کرنے میں لگا رہے اور اس کی نافرمانی کی قطعی جسارت نہ کرے بلکہ ظاہر و باطن دونوں کو گناہوں کی آلائش سے پاک و صاف رکھے۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ جب ہم روزوں سے فارغ ہوں تو ایک مہینے کی عبادت کی برکت سے ہمارے دل عبادات کی طرف مائل، گناہوں سے متنفر ہوں لیکن اس کے بالکل بر عکس دیکھا یہ جاتا ہے کہ جوں ہی عید الفطر کا چاند آسمان میں نظر آتا ہے وہسے ہی ہم عبادتوں سے تو ایسا منہ موڑتے ہیں کہ پورا ایک سال ہم مساجد کا راستہ بھول جاتے ہی، شیطان کی مجسم صورت بن کے ہم اجتماعی گناہ کرنے نکل پڑتے ہیں، گھروں سے نغمہ و موسیقی کی آوازیں بلند ہوتی ہیں، گانے بجانے کا اجتماعی انتظام کیا جاتا ہے، محافل رقص و سرور سجائی جاتی ہیں اور ہم اِس خوشی کے اظہار میں ہر وہ کام کر جاتے ہیں جو ایک مومن کو نہیں کرنا چاہیے جیسے کہ ہم اس پورے مہینے میں گناہ کرنے کو بیٹھے تھے اور جوں ہی رمضان کا مہینہ ہم سے رخصت ہوا ہم پھر ویسے ہی خدا کی نافرمانی رسول اللہ ﷺ کی حکم عدولی میں ویسے ہی لگ گئے جیسے اِس ماہ سے پہلے لگے ہوئے تھے۔

کہیں ایسا نا ہو کہ ہم عید کا جشن منانے میں ایسا مصروف ہو جائیں کہ پوری مہینے کی محنت کو ضائع کردیں اور پھر ویسے ہی نیکیوں سے تہی دست، گناہوں سے سیاہ قلب رہ جائیں بلکہ ہمیں چاہیے کہ اگر ہم اعمالِ صالحہ اتنے شوق سے نہ کریں تو کم از کم فرائض کی ادائیگی ہی کریں اور گناہوں سے پہلو تہی ہی کیے رہیں تو ہمارے لیے یہی ایک بڑی سعادت مندی، فیروز مندی ہوگی کہ اِس مہینے کی برکت سے ہم کم از کم فرائض ہی کے عادی ہو گئے اور گناہوں سے ہی تائب ہوگئے۔

از قلم:محمد جنید برکاتی مصباحی

عید کی صبح درخشاں..دشمنانِ اسلام کی ریشہ دوانیاں اور ہماری ذمہ داریاں

چاند رات کی برکتیں اور ہمارا طریقۂ کار

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment