یہودی دہشت گردی اور فلسطینی مسلمان

یہودی دہشت گردی اور فلسطینی مسلمان

Table of Contents

یہودی دہشت گردی اور فلسطینی مسلمان

از قلم:غلام مصطفٰی رضوی

نوری مشن مالیگاؤں

یہودی دہشت گردی اور فلسطینی مسلمان
یہودی دہشت گردی اور فلسطینی مسلمان

 

"یہودیوں نے فلسطینی مسلمانوں کو کھدیڑ کر یہودی بستیاں بسائیں… ارضِ اقصٰی کے وارثوں کو بے گھر کیا… مسلم حکمرانوں نے یہودیوں سے وہ دوستی نبھائی کہ اب وہ اپنے آخری اہداف سے قریب ہیں…”

حال کا جائزہ لیجے… فلسطین کی زمیں ہے… بیت المقدس کی پاکیزہ فضا ہے…اس زمیں کے بیٹے؛ بیٹیاں نہتّے ہیں… غریب ہیں… نہ ہتھیار سے لیس ہیں… نہ دفاعی اشیا پاس؛ نہ عسکری تربیت! نہ کسی مسلم اقتدار کی سرپرستی… نہ مراکزِ اسلامی حرمین کے بادشاہوں کی مدد… نہ امداد کی اُمید؛ نہ مسلم مملکتوں سے فوجی تعاون کی آس!!…

کیا اپنے دفاع کی جنگ ایسے لڑی جاتی ہے؟… کہ سامنے دُشمن کی تربیت یافتہ فوج ہے… جو جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے… ہتھیار بھی نئے… بم بھی ایسے کہ جس سے دور تک دہشت گردی پھیل جائے… آگ کی بارش ہو جائے…بستیاں تہ و بالا ہو جائیں… کمزوروں کی تکا بوٹی بن جائے…بچوں کے چیتھڑے اُڑ جائیں… ہاں! یہی تربیت یافتہ اور ظالم صہیونی فوج ایک عرصے سے نہتّے فلسطینی مسلمانوں پر مسلط ہے…ان کی جان لے رہی ہے… وہ اپنے تحفظ اور بیت المقدس کے تقدس کی جنگ لڑ رہے ہیں… اسرائیل کی اسی فوج کی پشت پر امریکہ و برطانیہ ہیں… بلکہ سنگھی قوتیں بھی اسرائیل کے ساتھ ہیں… اور سعودی قوتیں بھی اسرائیل کی دوست… یہودیوں کی حامی… بحرین و عرب امارات بھی اسرائیل کے ساتھ ہی ہیں… پھر وہ کیوں "مسجد اقصٰی” سے باز آئے گا…

مدتوں سے یہودیوں نے فلسطینی مسلمانوں کو کھدیڑ کھدیڑ کر یہودی بستیاں بسائی ہیں… ارضِ اقصٰی کے وارثوں کو بے گھر کیا ہے… یہ عمل یوں ہی نہیں ہوا… بلکہ مسلم مملکتوں کے اقتدار کے سائے میں ہوا… مسلم حکمرانوں نے یہودیوں سے وہ دوستی نبھائی… کہ اب وہ اپنے آخری اہداف سے قریب ہیں….

(١) مسجد اقصٰی کی بنیادوں کو پہلے ہی سرنگیں کھود کھود کر کم زور کیا جا چکا ہے؛ اب کسی طرح سے اسے شہید کر دینے کی کوشش جاری ہے… تا کہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا خواب پورا ہو…

(٢) مسجد اقصٰی سے فلسطینی مسلمانوں کو بے دخل کرنے کے لیے مسلسل یورش جاری ہے… تشدد کی وارداتوں کو لگاتار انجام دیا جا رہا ہے…

(٣) مسلمانوں کو اس قدر کمزور کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنی عظیم مسجد کا دفاع بھی نہ کر سکیں… دفاع میں بلند ہونے والی آوازوں کو خاموش کیا جا رہا ہے…

(٤) اُدھر غزہ میں زندگیاں محصور ہیں… اہلِ غزہ مسلمان ہیں اور غریب و کمزور ہیں؛ اس لیے انسانی حقوق سے محروم ہیں!!

(٥) ذہنی ابتلا میں اضافہ کے لیے کثیر تعداد میں مسلمانوں کو جیلوں میں قید کر دیا گیا ہے… فلسطینی بچوں کا مستقبل تاریک بنانے کی کوشش کی جا چکی ہے…

(٦) دنیا کی ترقی یافتہ اسرائیلی فوج کا مقابلہ انتہائی کمزور فلسطینیوں سے ہے؛ لیکن کیا وجہ ہے کہ وہ کمزور مسلمان نصف صدی سے زیادہ مدت سے مثل چٹان جمے ہوئے ہیں… در اصل انھیں ایمانی قوت حاصل ہے… اُمید کی وہ کرنیں دَم توڑ چکی ہیں؛ جو شاہانِ مملکتِ اسلامیہ سے تھیں کہ وہ مدد کو پہنچیں گے…

نہیں نہیں فلسطینی کمزور نہیں… ایمان کی قوت سے لیس ہیں… وہ بظاہر بغیر ہتھیار کے ہیں؛ لیکن ان کا عزم و جرأت ایسا آہنی ہے کہ… کٹ سکتا ہے سر خوددار کا پر جھک نہیں سکتا…

فلسطینی بچوں نے داستانِ شجاعت رقم کی ہے… کیا آپ نے حال کی وارداتیں نہیں دیکھیں… وہ بہادر بچے شجاعت کی تاریخ لہو سے مرتب کر رہے ہیں…لیکن کوئی باطل قوت انھیں جھکا نہ سکی…زیر نہ کر سکی…

غور کیجیے… ابھی کل کی بات ہے.. غزہ اور ارض القدس میں مسلم بستیوں کو آگ و خوں میں نہلا دیا گیا… ماہِ رمضان میں ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں… جینے کے حقوق چھین لیے گئے… تازہ کلیوں کو مَسَل دیا گیا…بچے کمھلا گئے… لیکن وہ محاذ پر ڈَٹے ہوئے ہیں… جدید ہتھیاروں سے لیس صہیونی دہشت گردوں پر وہ رعب طاری کیے ہوئے ہیں…

ہم عید منا رہے ہیں… فلسطینی بھی عید منا رہے ہیں…وہ اپنے ہی لہو سے غسل کر کے عید منا رہے ہیں… ہم اشیائے خورد و نوش سے لطف اندوز ہیں… وہ حالتِ جنگ میں ہیں… ہم خوش ہیں کہ ہمارا سب سلامت ہے… وہ بھی خوش ہیں کہ جانیں بیت المقدس پر نثار کر کے عید منا رہے ہیں… ان کے بچے شہید ہو چکے… ان کے یہاں ماتم نہیں لیکن عزم و یقیں ہے… گرچہ آنسو خشک ہو چکے ہیں… اُمید کے سوتے خشک نہیں ہوئے؛کہ ایک دن مصائب کے بادل چھٹیں گے… ایک دن صبحِ درخشاں نمودار ہو گی… ایک دن ظلم کی تہیں چاک ہوں گی… ان شاء اللہ!

١٣ مئی٢٠٢١ء

از قلم:غلام مصطفٰی رضوی

نوری مشن مالیگاؤں

بیت المقدس: یہودی نرغے میں

 اقصیٰ تیری عظمت پر جانیں قربان

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment