استاذ کی عظمت و فضیلت

استاذ کی عظمت و فضیلت

Table of Contents

استاذ کی عظمت و فضیلت

محمد شاہد رضا نعمانی

 

ایک بلند قامت مفکر نے کسی مقام پر لکھا تھا :

"میں اپنے والد پر اپنے اساتذہ کو مقدم رکھتا ہوں – کیوں کہ والد نے تو صرف ہمیں جسم دیا ہے اور اساتذہ نے تو ہمیں نجات کا راستہ دکھلایا ہے-”

 

مذکوربالا قول کی روشنی میں اساتذہ کی عظمت و فضیلت واشگاف ہو جاتی ہے- استاذہ ہماری زندگی کی راہوں پر محسن و مربی کے طور پر ہماری رہنمائی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں – ہماری تعلیم و تربیت میں وہ اہم کردار ادا کرتے ہیں اور شفقت و محبت کے سائے تلے رکھنے کا ہنر خوب جانتے ہیں – گویا کہ اساتذہ ہماری زندگی میں ہر اس فرد کی شکل اختیار کرتے ہیں جس شخص کی ہمیں اشد ضرورت ہوتی ہے-

نامور رومی بادشاہ سکندر اعظم استاد کی اہمیت بتاتے ہوئے کہتے ہیں :”میں زندگی گزارنے کے لیے اپنے والد کا مقروض ہوں، مگر اچھی زندگی گزارنے کے لیے اپنے استاد کا مقروض ہوں ۔لہذا والد اور استاذ میں فرق یہ ہے کہ والد ہمارے دنیا میں آنے کا ذریعہ ہوتےہیں اور اساتذہ ہماری زندگی کو سنوارنے ،نکھارنے اور اجاگر کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں –

 

استاذ ہماری صلاحیت کو نکھارتے ہیں اس میں بانکپن پیدا کرتے ہیں- اس میں چار چند لگا کر سونے پر سہاگہ کرتے ہیں- اسے مضبوط و مستحکم بناتےہیں اور ہمیں اپنا قیمتی وقت دے کر ہمارے قلوب و اذہان میں علوم و فنون کا روشن چراغ جلاتے ہیں- ہمارے اندر کی خوبیوں کو اجاگر کرکے ایک درخشندہ و تابندہ ستارہ بناتے ہیں -اساتذہ ہی قوم و ملت اسلامیہ کی پاسداری اور حفاظت و صیانت اور نگرانی و نگہبانی کا جذبہ ہمارے دلوں میں انڈیلتے ہیں -اساتذہ ہی قوم وملت کی رہنمائی کے لیے قائدین کی جماعت تشکیل دیتے ہیں اور یہ جماعت لوگوں کوضلالت و گمراہی کے دلدل میں پھنسی قوم کو راہ ہدایت پر گامزن کرتی ہے –

 

استاذ ہمیں صرف "دین” ہی نہیں سیکھاتےبلکہ "دنیا”کے علوم سےبھی آشنا کرتے ہیں اور اس کے پر پیچ مسائل کے گتھیاں سلجھانے کے قابل بناتے ہیں -دنیا کی رنگینیوں میں الجھنے سے بچاتے ہیں اور مصائب و آلام سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ عطا کرتے ہیں- اساتذہ’ ہمارے عیوب و نقائص پر متنبہ کرکے اسے درست کرنے کی تلقین و تاکید کرتے ہیں- 

 

آپ ذرا غور کریں کہ انسان جب اس دنیا میں زیست کی آنکھیں کھولتا ہے تو وہ اپنی ذات ، صفات سے بھی ناآشنا اور نابلد ہوتا ہے ۔جس کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی اس کے بعد ماں اپنے لخت جگر ، نورنظر کو استاد کے حوالے کردیتی ہے اس وقت وہ بےقیمت پتھر کے مانند ہوتا ہے جسے استاد تراش خراش کر ہیرا بناتا ہے ، اس کی خوابیدہ صلاحیت کو اجاگر کرکے اپنے وقت کا بےتاج بادشاہ بناتاہے

 

استذ علم حاصل کرنے کےلے براےراست ایک ذریعہ ہیں جن سے ہم پنی لیاقت و صلاحیت اور علمی فکری فنونی استعداد کو تقویت بخش سکتے ہیں کیونکہ۔۔۔۔۔۔۔۔

دیکھا نہ کوئ فن فرہاد کے بغیر

آتا نہیں ہے کوئ فن استاد کے بغیر

 

حاصل کلام یہی ہے کہ استاد king تو نہیں ہوتا مگر king maker ضرور ہوتا ہے ، اپنے اساتذہ کی عزت کنا سیکھیں کیونکہ آج آپ انہیں کے بدولت یہ عبارت پڑھنے کے قابل ہوے

 

اخیر میں اپنے مقدس اساتذہ کے لیے ربِّ ذو الجلال کی بارگاہ اقدس میں نہایت عاجزی و انکساری کے ساتھ دعا گو ہوں کے اللہ تعالیٰ ہمارے تمام اساتذہ کرام کو دنیا وآخرت میں کامیاب و کامران کرے اور ان کے علم و عمل اور رزق میں بے پناہ برکتیں عطا فرمائے اور ان کا فیضان ہم پر جاری و ساری رکھے_آمین:

اپنے استاد کا تو کیا کر ادب

لکھنا پڑھنا سکھایا ہے استاذ نے

 

اپنے ہر اک دعامیں اُنھیں یاد رکھ

کیونکہ رب سے ملایا ہے استاذ نے

 

محمد شاہد رضا نعمانی

متعلم: الجامعتہ الاشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ یوپی

سکونت: مشرقی چمپارن ، (بہار)

مزید پڑھیں

انسانی زندگی پر گناہوں کے منفی اثرات

ماں کا مقام قرآن وحدیث کی روشنی میں

جہیز کا بڑھتا قدم اور غریب بیٹیوں کا قتل

شیئر کیجیے

Leave a comment