مسئلہ فلسطین اور بھارتی سماج!!

مسئلہ فلسطین اور بھارتی سماج!!

Table of Contents

مسئلہ فلسطین اور بھارتی سماج!!

از قلم:غلام مصطفےٰ نعیمی

مسئلہ فلسطین اور بھارتی سماج!!
مسئلہ فلسطین اور بھارتی سماج!!

فلسطین اور اسرائیل کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہوگئی۔دوران جنگ دنیا کے مختلف ممالک میں اسرائلی جارحیت کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے اور فلسطینی عوام سے ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔مگر بھارت میں ایک طبقے نے کھل کر اسرائلی سفاکیت کی حمایت کی اور فلسطین میں ہوئی تباہی وبربادی پر اپنی خوشیوں کا اظہار کیا۔

جغرافیائی اعتبار سے فلسطین واسرائیل سے بھارت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہاں مذہبی اعتبار سے بھارتی مسلمانوں کا فلسطینی مسلمانوں سے ایمانی رشتہ ضرور ہے۔اسی ایمانی رشتے سے بعض لوگوں کو اس قدر نفرت اور دشمنی ہے کہ وہ دنیا کے ہر اس انسان/حکومت/اور گروہ سے محبت کرتے ہیں جو کسی نہ کسی طور پر مسلمانوں کا دشمن ہو۔

 

پوری دنیا جانتی ہے کہ 1948 سے پہلے اسرائیل نامی محلہ بھی فلسطین میں موجود نہیں تھا۔پہلی جنگ عظیم میں سلطنت عثمانیہ کی شکست کے بعد یہ علاقہ برطانیہ کی تحویل میں آیا۔جہاں سازشاً دنیا بھر کے یہودیوں کو لاکر آباد کیا گیا۔چھل کپٹ اور حکومتی جبر کا سہارا لیکر فلسطینیوں کی زمینوں پر ناجائز قبضہ کرکے آبادی کا تناسب بدلنے کی سازش کی گئی۔1914 سے شروع ہوئی یہ مہم 1948 میں اپنے انجام کو پہنچی جب سلطنت عثمانیہ کے خاتمے اور بعض مسلم منافقین کی بدولت زبردستی فلسطینی زمین پر اسرائیل نامی ملک بنا دیا گیا۔

یہی وجہ تھی کہ بھارتی حکمرانوں نے فلسطینی کاز کی حمایت کرتے ہوئے 1992 تک اسرائیلی ریاست کو تسلیم نہیں کیا۔لیکن آج حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اسرائلی بموں سے شہید ہونے والے فلسطینی عوام کو یہاں کے شرپسند "وکٹ گرنے” سے تعبیر کرتے ہیں۔مسلم دشمنی میں یہ سماج ذہنی طور پر اتنا سڑ چکا ہے کہ جنگی حالات سے آگاہی کے لیے ایک دوسرے سے یہ پوچھتے ہیں:”

غزہ میں کیا اسکور ہوا ہے؟

ننھے منے بچوں کی لاشوں کو دیکھ کر یہ لوگ نہایت بے شرمی سے کہتے ہیں:

"اچھا ہوا مر گئے ورنہ بڑے ہوکر دہشت گرد بنتے”

یہاں کے متعصب اخبار جب رپورٹنگ کرتے ہیں تو اسرائیلی حملوں کو نہایت سافٹ انداز میں بیان کرتے ہیں جبکہ فلسطینی تنظیم کو دہشت گرد لکھنا فرض سمجھتے ہیں۔حالانکہ وہ تنظیمیں جمہوری طور پر وہاں کی منتخبہ جماعت ہیں۔کسی ملک کی منتخبہ جماعت کو دہشت گرد لکھنا حقائق کا خون اور مسلم دشمنی کا اظہاریہ ہے۔

مسلم دشمنی کے چند نمونے

دنیا کا ہر مہذب انسان ظالم کی مخالفت اور مظلوم کی حمایت کرتا ہے مگر بھارت میں ایک ایسا نفرتی گروہ بھی پایا جاتا ہے جو ہر اس ظالم کی اندھی حمایت کرتا ہے جس کے ظلم کا نشانہ مسلمان ہوں۔حالیہ جنگ کے دوران بھی یہ لوگ اپنی نفرت دکھانے سے باز نہیں آئے۔ان کی مسلم دشمنی کے چند نمونے دیکھیں:

 

🔸 فلسطینی مظلوموں کی حمایت میں انصاف پسند بھارتیوں نے ٹوئٹر پر I stand with Palestine نامی ہیش ٹیگ چلا کر انسان دوستی کا نمونہ پیش کیا۔مگر شرپسندوں کو مظلوموں کی حمایت کرنا راس نہیں آیا اور انہوں نے جوابی طور پر اسرائلی حمایت میں ٹرینڈ چلا کر یہ ثابت کیا کہ لوگ کس پست ذہنیت کے حامل ہیں۔

🔸 ایک پورٹل پر اسرائلی حملے میں فلسطینی بچوں کی موت پر آشیش کمار نامی ایک انجینئر لکھتا ہے:

"اسرائل تم ٹھوکتے رہو ان آتنک وادیوں کو، ہم بھارتی تمہارے ساتھ ہیں۔”

🔸آنند نام کا ایک شخص لکھتا ہے "فلسطینوں کو آسانی سے مت چھوڑنا، انہیں تگڑا سبق سکھاؤ۔”

حالانکہ اسرائیلی ایسے لوگوں کی حمایت کو کسی خاطر میں نہیں لاتے۔ٹویٹر پر ارون راجپوت نامی ایک شخص نے اسرائیل کی حمایت میں اسرائیلی جھنڈے کے ساتھ بھارتی جھنڈا لگا کر پوسٹ کیا۔اس کے جواب میں یوگیو نتزان (Yogev Nitzan) نامی اسرائیلی نے نہایت توہین آمیز انداز میں جواب دیا:

"ہم اسرائیلی ہیں، ہمیں گائے کے گوبر سے نہانے اور اس کا پیشاب پینے والوں کی حمایت کی کوئی ضرورت نہیں۔جاؤ اور اپنی گائے کی پوجا کرو اور ہماری گیند اٹھانا بند کرو۔”

ایک اسرائیلی، ریلوے ٹریک پر رفع حاجت کرتے کچھ بھارتیوں کی تصویر کے ساتھ اس طرح کیپشن لگاتا ہے:

"گائے کا پیشاب پینے والا انڈیا گریٹ اسرائیل کی مدد کرنا چاہتا ہے۔جاؤ پہلے اپنے ملک میں ٹوائلیٹ بناؤ۔”

ان جوابات سے اندازہ لگائیں کہ اسرائیلی عوام ایسے نفرتی کیڑوں کی حمایت کو کس نگاہ سے دیکھتی ہے۔مگر پھر بھی یہ لوگ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے اور اپنے ساتھ ملک کی بھی توہین کراتے ہیں۔

بھارتی مسلمان اگر فلسطینی مسلمانوں کی حمایت کرتے ہیں تو بنیادی وجہ ایمانی رشتے کا اشتراک اور ان کا مظلوم ہونا ہے۔لیکن اسرائیلی نہ تو یہاں کے شرپسندوں کے ہم مذہب ہیں، نہ ہی ان کے پڑوسی اور قرابت دار۔جب کہ مسلمان ان کے ہم وطن اور صدیوں کے پڑوسی اور کاروباری شراکت دار رہے ہیں۔فطری طور پر انہیں بھارتی مسلمانوں کی دل جوئی اور ہمدردی کرنا چاہیے۔مگر ان لوگوں کو مسلم دشمنی کا ایسا ٹیکا لگا ہوا ہے جس کا اثر انہیں مسلم دشمنی سے باہر آنے ہی نہیں دیتا۔

ایک طرف یہی لوگ، کشمیری پنڈتوں کی وادی کشمیر سے بے دخلی پر ہنگامہ آرائی کرتے ہیں، دوسری طرف فلسطینی شہریوں کی بے دخلی کو جائز ٹھہراتے ہیں۔حالانکہ کشمیری پنڈتوں کی بے دخلی میں مقامی مسلمانوں کا کوئی ہاتھ نہیں ہے وہ ان کی واپسی کے خواہاں ہیں۔جبکہ اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کو قتل وغارت گری کے ذریعے ان کی زمینوں سے بے دخل کر رہا ہے مگر یہ لوگ اسے اسرائیل کا حق سمجھتے ہیں اور اس ظلم پر خوشیاں مناتے ہیں۔کیا دنیا کے کسی حصے پر ایسا متعصب اور نفرتی گروہ موجود ہے جو اس قدر نفرت میں جیتا ہے؟

جس طرح بھارت میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے ناجائز قبضہ جمایا تھا اسی طرح اسرائیل زبردستی فلسطینی زمینوں پر قبضہ جما رہا ہے۔جبکہ فلسطینی عوام اپنی زمین اور اپنے وطن کی حفاظت کے لیے جد و جہد کر رہے ہیں، لیکن یہاں کے شرپسند اسرائیلی قبضے کو Right of Defense اور فلسطینی جد و جہد کو Terrorism کہتے ہیں۔حالانکہ جس طرح ہمارے مجاہدین نے اپنی زمین اور اپنے وطن کے لیے انگریزوں سے لڑائی لڑی تھی ٹھیک اسی طرح فلسطینی مجاہد بھی اپنی زمین کے لیے اسرائیلی غاصبوں سے بر سر پیکار ہیں۔اس لیے انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ہم فلسطینی جد وجہد کا ساتھ دیں کیوں کہ بھارت کا مزاج ظالم نہیں مظلوم کا ساتھ دینا سکھاتا ہے۔

از قلم:غلام مصطفےٰ نعیمی

روشن مستقبل دہلی

10 شوال المکرم 1442ھ,23 مئی 2021 بروز اتوار

اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ اور فلسطینی مسلمان

مسجد اقصٰی کی دہلیز پر یہودی دھشت گردی

یہودی دہشت گردی اور فلسطینی مسلمان

شیئر کیجیے

Leave a comment