محبت کی سزا ہم پا رہے ہیں

محبت کی سزا ہم پا رہے ہیں

Table of Contents

شہر میں آج تنہا جارہے ہیں

محبت کی سزا ہم پا رہے ہیں

محبت کی سزا ہم پا رہے ہیں
خودی پرظلم ڈھائےجارہےہیں

نہیں ملتی محبت بن مشقت
یہی دستور چلتے آرہے ہیں

لگارہتا تھاجن کے ہرسومیلہ
شہر میں آج تنہا جارہے ہیں

نیاپھرسے بنالیں گے نشیمن
کبھی سے دل کویہ سمجھا رہے ہیں

محبت چاردن کی چاندنی ہے
نہ جانے لوگ کیوں اِترارہےہیں

کھڑاہےمنتظرکیوں شوق اب تک
جنھیں جانا ہے وہ توجارہےہیں

 

(محبت کی سزا ہم پا رہے ہیں)
(خودی پرظلم ڈھائےجارہےہیں)

اشتیاق احمد شوق ممبئی

 

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ یہاں پڑھیں

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment