ماہ رمضان المبارک کیسے گزاریں

استقبال آمد رمضان

Table of Contents

استقبال آمد رمضان

(ابوضیاغلام رسول مہرسعدی کٹیہاری (بلگام)

استقبال آمد رمضان
استقبال آمد رمضان

اللہ پاک کا کروڑہا کروڑاحسان کہ اس نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایااورسب سے آخر میں اپنے آخری نبی اشرف الانبیاء والمرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی امت میں پیدا فرمایاجس طرح نبیوں میں ہمارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا جواب نہیں اسی طرح امتوں میں امت محمدی کا جواب نہیں.

اللہ پاک یہ چاہتا ہے کہ میرے بندے میری بارگامیں آئیں جھکیں سجدہ کریں اور جب رمضان المبارک کا مہینہ آئے تو روزے رکھیں.

اللہ پاک نے اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی امت کو ایسی ایسی نعمتوں سے نوازا ہے جواس سے پہلے کسی نبی کوعطانہ ہوا.

خود اللہ کےپیارے نبی کریم اشرف الاولین وآخرین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم فرماتےہیں:میری امت کو ماہ رمضان میں پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہ ملیں. (1) جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی طرف نظر رحمت کرتا ہے اور جس کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت فرمائے اُسے کبھی بھی عذاب نہ دےگا(2) شام کے وقت ان کے منہ کی بُو(جو بھوک کی وجہ سے ہوتی ہے) اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے (3) فرشتے ہررات اور دن ان کیلیے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں (4) اللہ تعالیٰ جنت کو حکم فرماتا ہے "میرے (نیک) بندوں کے لئے مزیَن ہوجاعنقریب وہ دنیا کی مشقت سے. میرے گھر اور کرم میں راحت پائیں گے،،(5) جب ماہ رمضان کی آخری رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ سب کی مغفرت فرمادیتاہے. قوم میں سے ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کی :یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کیا وہ لیلۃ القدرہے؟ ارشاد درمایا: نہیں، کیا تم نہیں دیکھتے کہ مزدور جب اپنے کاموں سے فارغ ہوجاتے ہیں تو اُنہیں اُجرت دی جاتی ہے.،، (بحوالہ شعب الایمان ج3ص303) حدیث 3603)

سبحان اللہ

اللہ پاک نے ماہ رمضان میں کیسی کیسی عظیم عطا کی ہیں اور رمضان المبارک کتنا عظیم الشان مہینہ ہے.

اس لئے اگر امت کو اگر یہ معلوم ہوجائے کہ رمضان کیا ہے تو امت یہ آرزو کرتی کہ اے کاش پوراسال رمضان ہی ہوجاتا. جیسا رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے :اگر بندوں کو معلوم ہوتا کہ رمضان کیا تو میری امت تمنا کرتی کہ کاش پوراسال رمضان ہی ہو.،، (ابن خزیمہ ج3ص103)

اللہ پاک کے پیارے نبی کریم اشرف الاولین وآخرین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کافرمان عالی شان ہے :روزہ عبادت کا دروازہ ہے.،،،(بحوالہ الجامع الصغیر ص146)

(ایک رمضان کاعاشق : (استقبال آمد رمضان

محمد نامی ایک آدمی سارا سال نماز نہ پڑھتا تھا جب رمضان المبارک کا مبارک مہینہ آتاتو وہ پاک صاف کپڑے پہنتا اور پانچوں وقت پابندی کے ساتھ نماز پڑھتا اور سال گزشتہ کی قضا نمازیں بھی اداکرتا. لوگوں نے اس سے پوچھا:تُوایسا کیوں کرتاہے؟ اس نے جواب دیا یہ مہینہ رحمت برکت توبہ اور مغفرت کاہے، شاید اللہ تعالیٰ مجھے اسی عمل کے سبب بخش دے. جب اس کا انتقال ہوگیاتو کسی نے اُسے خواب میں دیکھ کر پوچھا:مافعل اللہ بک؟ یعنی اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ کیا معاملہ فرمایا: اس نے جواب دیا :”میرے اللہ نے مجھے احترام رمضان بجالانے کے سبب بخش دیا. (دُرۃ الناصحین ص8)

اب کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں بھی اب ساراسال نماز نہ پڑھ کے صرف رمضان ہی میں عبادت کروں.

بلکہ دراصل کسی بندے کو بخشنایاعذاب دینا یہ سب اللہ رب العزت کی مشیت پر موقوف ہے..

وہ بے نیاز ہے اگر چاہے تو کسی مسلمان کو بظاہر کسی چھوٹے سے نیک عمل پر ہی اپنے فضل وکرم سے بخش دے اور اگر چاہے تو بڑی بڑی نیکیوں کے باوجود کسی کو محض ایک چھوٹے گناہ پر اپنے عدل سے پکڑ لے. بہر حال اللہ پاک ہمیں چھوٹے سے چھوٹے نیک عمل کرنےاور چھوٹے سے چھوٹے بُرے کام سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ماہ رمضان میں خوب دلجمعی کےساتھ عبادت کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے.

 بس تمام عاشقان رسول وصحابہ اور اہلبیت اطہار واولیاءکرام کے ماننے والوں سے پرخلوص گزارش ہے کہ

آمد رمضان ہے اس کے آنے سے پہلے پہلے ہم ذکر خداوذکر مصطفی عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کرنےاورماہ رمضان میں بھرپور عبادت کرنے کی تیاری کرلیں.

اللہ پاک ہماری غیب سے مدد فرمائے

آمین ثم آمین بجاہ اشرف الانبیاء والمرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم

استقبال آمد رمضان

اسیرشیخ اعظم

ابوضیاغلام رسول مہرسعدی کٹیہاری

خلیفہ حضور شیخ الاسلام، حضور قائد ملت حضرت علامہ محمد محمود اشرف اشرفی جیلانی کچھوچھوی ومفتی انوار الحق خلیفہ حضور مفتی اعظم ھندرضی اللہ عنہ بریلی شریف

مقام بوہر پوسٹ تیلتاضلع کٹیہار بہار انڈیا

موضوع احادیث سے متعلق چند بنیادی مباحث

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment