انسان حقیقت میں متحد:صفات میں مختلف

انسان حقیقت میں متحد:صفات میں مختلف

Table of Contents

انسان حقیقت میں متحد:صفات میں مختلف

از قلم: طارق انور مصباحی

انسان حقیقت میں متحد:صفات میں مختلف
انسان حقیقت میں متحد:صفات میں مختلف 

مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

انسانی کائنات بہت وسیع ہے۔وسعت کے ساتھ انسانوں کے رنگ وروپ اور صفات ظاہرہ وصفات باطنہ میں اختلاف بھی بہت ہے۔بنی نوع انسانی میں عجیب وغریب اوصاف کا بھی  مشاہدہ ہوتا رہتا ہے۔

ہم نے اپنی زندگی میں بعض ایسے انسانوں کو بھی دیکھا ہے جو ہر ایک کو غلط اور برا کہتاہے۔ اس کے سامنے خواہ کسی بھی اہل فضل کا تذکرہ ہو جائے,وہ اس کے اندر کچھ نہ کچھ خامی ضرور ڈھونڈھ نکالےگا۔تعجب ہوتا ہے ایسے انسانوں پر کہ وہ اپنی حیثیت تو دیکھتا نہیں,لیکن اصحاب حیثیت اور ارباب شوکت پر طنز ضرور کرتا ہے۔

ایسے لوگ خود بھی غلط راہ پر جا پڑتے ہیں اور نہ جانے کتنے لوگوں کو غلط فہمی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔

بھارت میں فرقہ پرست تحریکوں نے مسلمانوں کے خلاف اسی طرح فتنے پھیلائے۔ان لوگوں نے مسلم سلاطین کے بارے میں کچھ کہانیاں گڑھ لیں کہ یہ لوگ ہندؤں پر ظلم کرتے تھے۔یہ جھوٹے افسانے بیان کر کے غیر مسلموں کے دلوں میں ان بادشاہوں کی نفرت ڈال دی۔

جب مسلم سلاطین کی نفرت ہندؤں کے دلوں میں مستحکم ہو گئی,تب مسلمانوں کے خلاف نفرت ڈالنے کی کوشش کی گئی کہ یہ سب مسلمان انھیں بادشاہوں کی قوم کے افراد ہیں,اس لئے ان  بادشاہوں کے مظالم کا بدلہ مسلمانوں سے لو۔اس طرح مسلم سلاطین کے فرضی مظالم کا بدلہ مسلمانوں سے لینے کی سازش رچی گئی۔

غیر مسلموں کو غزوۂ ہند کی حدیث بھی خوب سنائی جاتی ہے۔مسلمانان ہند کو اس حدیث کی خبر ہی نہیں۔صرف اہل علم  اس سے واقف ہیں,لیکن متعصب غیر مسلم تنظیمیں اپنے لوگوں کو وہ حدیث سنا کر  ورغلاتی ہیں کہ بھارتی مسلمان غزوۂ ہند کے منتظر ہیں۔وہ بھارت پر قبضہ کر لیں گے اور تم کو اپنا غلام بنالیں گے۔تمہاری بہن بیٹیوں کو اپنی باندی بنا لیں گے۔تمہاری جائیدادوں پر قبضہ کر لیں گے۔

ٹی وی ڈبیٹ میں بھی غزوۂ ہند کو موضوع بحث بنا کر لوگوں کو غلط فہمی میں مبتلا کیا جاتاہے۔میڈیا آج کل فتنوں کا پرچارک بن چکا ہے۔

جس غزوۂ ہند کی بشارت احادیث مقدسہ میں وارد ہوئی تھی,وہ محمد بن قاسم
(694-715)کے زمانے میں ہو چکی ہے۔اس کے بعد بھی متعدد اسباب کی بنیاد پر افغان کے مسلم سلاطین بھارت پر کئی بار حملے کئے۔گیارہ سو سالوں تک بھارت پر مسلم سلاطین کی سلطنت وحکومت رہی۔

اب کون سا غزوہ باقی رہ گیا ہے کہ ارباب تعصب کو اس کاانتظار ہے,اورپھر اس کے نام پر غیر مسلم اقوام کو خون خوار بنا کر  فتنہ برپا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ہمیں ان حقائق کو اہل ہند کے سامنے تحقیق وتدقیق کے ساتھ پیش کرنا چاہئے,تاکہ فتنہ پروروں کی حوصلہ شکنی ہو,اور اہل ہند سچے حقائق سے آشنا ہوں۔فتنہ پھیلانے والوں کو بے دست وپا کرنے کی کوشش کی جائے,تاکہ ملک میں امن وامان کی فضا ہموار ہو۔

از قلم: طارق انور مصباحی

جاری کردہ:21:جون 2021

مزید پڑھیں

تعدد ازواج اور بھارتی مذاہب

روشن مستقبل کے روشن کارنامے

 

شیئر کیجیے

Leave a comment