حضرت غوث الوراء مقام و مرتبہ

حضرت غوث الوراء مقام و مرتبہ (قسط اوّل)

Table of Contents

حضرت غوث الوراء مقام و مرتبہ

 (قسط اوّل)

محمد توصیف رضا قادری علیمی

حضرت سیّدنا غوث الاعظم سلطان الاولیاء، شیخ عبد القادر جیلانی البغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نہ صرف ولایت کے غوث الاعظم ہیں بلکہ آپ علم کے بھی غوث الاعظم ہیں، آپ جلیل القدر مفسر، محدث، مفتی اعظم اور امامِ فقہ ہیں، اپنے وقت کے نابغہ روزگار فقہ حنبلی کے امام اور تاریخ اسلام کے عظیم محدث، امام ابن قدامہ المقدسی الحنبلی اور امام عبد الغنی المقدسی الحنبلی علیہما الرحمۃ آپ کے تلامذہ میں سے ہیں۔

تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے کہ آپ ہر روز اپنے درس میں تیرہ علوم جن میں علم الحدیث، علم التفسیر، علم العقیدہ، علم الفقہ، تصوف، معرفت، فتویٰ، نحو وصرف وغیرہ کا درس دیتے تھے اور 90 سال کی عمر تک یعنی زندگی کے آخری لمحہ تک طلبہ کرام کو پڑھاتے رہے اور آپ کے مدرسہ سے ہر سال 3000 طلبہ جید عالم اور محدث بن کر فارغ التحصیل ہوتے تھے۔

نیز سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کی آدھی سے زائد فوج آپ کے عظیم مدرسہ کے طلبہ تھے گویا آپ کے مدرسہ سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ صرف عالم ہی نہیں بلکہ عظیم مجاہد بھی تھے ۔

لیکِن افسوس! آج ہمارا عمومی مزاج یہ بن چکا ہے کہ آپ فقط ایک صاحب کرامت بزرگ ہیں، اکثر تحریریں ،تقریریں اور لٹریچرس میں سارا زور آپ کی کرامات کے بیان پر ہی ہوتا ہے حال یہ ہے کہ کرامات کی تعداد دیکھ کر ہم کسی ولی اللہ کے مقام و مرتبہ کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں اور عام مسلمان کی نظر میں ولی اللہ فقط کرامت والے ہیں مدرس، مفتی علامہ نہیں،

بہر کیف! سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی حیات مبارکہ کا ایک پہلو اور آپ کی زندگی کا صرف ایک گوشہ بیان کر کے آپ کی شخصیت کے باقی تابناک جہات‘ اُن کے (یعنی کرامات کے) مقابلے میں دب گئی ہے جب کہ آپ کثیر الجہات شخصیت کے حامل ہیں، آپ کی ذات بابرکات کو جس پہلو اور زاویے سے دیکھا جائے آپ اس میں یکتا اور بے مثال نظر آتے ہیں ۔علم و عمل،زہد و تقویٰ ، غیرت و حمیت ، جود و سخاوت ،خلوص وللہیت ، امانت و دیانت ، عدل و انصاف ، اکل حلال و صدق مقال ،سلوک و احسان، وعظ وارشاد اور تبلیغ و اشاعت ِدین میں آپ کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا۔

اس سلسلے میں ائمہ حدیث و فقہ نے آپ کے علمی مقام و مرتبے کو نہ صرف بیان کیا ہے بلکہ آپ کی ذات ستودہ صفات کو علم کے میدان میں سند واتھارٹی بھی تسلیم کیا ہے، اور امام یافعی رحمۃ اللہ علیہ (جن کی کتاب کی امام ابن حجر عسقلانی نے التلخیص الخبیر کے نام سے تلخیص کی) فرماتے ہیں : اجتمع عنده من العلماء والفقهاء والصلحا جماعة کثيرون انتفعوا بکلامه وصحبته ومجالسته وخدمته وقاصد إليه من طلب العلم من الآفاق .
ترجمہ: شرق تاغرب پوری دنیا سے علماء، فقہاء، محدثین، صلحا اور اہل علم کی کثیر جماعت اطراف و اکناف سے چل کر آتی اورآپ کی مجلس میں زندگی بھر رہتے، علم حاصل کرتے۔ حدیث لیتے، سماع کرتے اور دور دراز تک علم کا فیض پہنچتا ۔(يافعی، مرأة الجنان، ج،3: ص،349)

اسی طرح محدثین، آئمہ اور فقہاء آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی مجلس میں بیٹھ کر آپ سے شرف تلمذ حاصل کرتے۔ ستر ہزار حاضرین ایک وقت میں آپ کی مجلس میں بیٹھتے۔ امام ابن حجر عسقلانی نے ’مناقب شیخ عبدالقادر جیلانی میں لکھا ہے کہ ستر ہزار کا مجمع ہوتا (اس زمانے میں لاؤڈ اسپیکر جیسی سائنٹیفک آوازیں نہیں تھی) جو آواز ستر ہزار کے اجتماع میں پہلی صف کے لوگ سنتے اتنی آواز ستر ہزار کے اجتماع کی آخری صف کے لوگ بھی سنتے یہ آپکی کرامت تھی۔ اس مجلس میں امام ابن جوزی (صاحبِ صفۃ الصفوہ اور اصول حدیث کے امام) جیسے ہزارہا محدثین، آئمہ فقہ، متکلم، نحوی، فلسفی، مفسر بیٹھتے اور اکتسابِ فیض کرتے تھے۔

آپ کی سیرت مبارکہ کتب رجال وسوانح میں اجلہ علمائے اُمت اور ماہرین علم وفن کے تأثرات پڑھ کر اس نتیجے پر پہنچا کہ آپ علمی میدان میں امامِ اکبر اور اپنے دور کے امام اعظم ہیں۔

——- جاری ——–

از قلم :

محمد توصیف رضا قادری علیمی

الغزالی اکیڈمی واعلیٰحضرت مشن
شائع کردہ: 25/اکتوبر/2022
aalahazratmission92@gmail.com

مذید پڑھیں

مولانا عبد الباری فرنگی محلی کی دینی،علمی و تصنیفی خدمات

علم حدیث میں امام اعظم کا مقام ومرتبہ

حافظ الحدیث علامہ حکیم قادر بخش سہسرامی

شیئر کیجیے

Leave a comment