فقہ و فتاوی کے رمز شناش : اعلی حضرت

فقہ و فتاوی کے رمز شناش: اعلی حضرت

Table of Contents

فقہ و فتاوی کے رمز شناش: اعلی حضرت

  • تحریر :خلیل احمد فیضانی

فقہ و فتاوی کے رمز شناش : اعلی حضرت
فقہ و فتاوی کے رمز شناش : اعلی حضرت

 

پر وردگار عالم جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کا فقیہ بنا دیتا ہے اور جو اس منصب عظیم فائز ہو گیا گویا وہ رب تبارک و تعالی کی رضا اور اس کی کرم نوازی کا مرکز بن گیا فقہا کرام فرماتے ہیں کہ محدث ہونا علم کا پہلا زینہ ہے اور فقیہ ہونا آخری زینہ ہے اور فرمایا گیا کہ درس نظامی پڑهنے پڑھانےوالے فقہ کے دروازے میں بھی داخل نہیں ہو پاتے چہ جاے کے خطبا و واعظین کہ جنہیں صرف طلاقت لسانی درکار , یہ علم اپنے اندر بے پناہ گہرائی و گیرائی رکھتا ہے اس علم پر مہارت حاصل کرنے کے لیے ان ۳۰ بنیادی امور کا جاننا از حد ضروری ہے کہ جن کو اعلٰی حضرت علیہ الرحمۃ نے اپنے رسالہ میمونہ ,,ابانۃ المتواری فی مصالحہ عبد الباری ,, میں بیان فرمائے

علوم اسلامیہ میں سب سے پیچیدہ اور مشکل ترین علم یہی ہے کہ فقہ دراصل قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے لیکن اعلی حضرت اپنی عمر کےتیرہ سال چند ماہ کے اندر ہی فتوی نویسی کا بارعظیم اپنے دوش نازک پر اٹھا لیتے ہیں اور تا دم آخر بڑی ہی ذمہ داری کے ساتھ اس کار عظیم کا حق بھی ادا کرتے ہیں

آپکے فتاوی کا عظیم ذخیرہ ۱۲جلدوں میں ,,العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ ,, فقہ و افتا کی خدمات کا بین ثبوت ہے فتاوی رضویہ کے تعلق سے ممبٔی ہائی کورٹ کے مشہور و معروف وکیل جسٹس پروفیسر ڈی این ملا نے کہا تھا کہ,, برصغیر کی دو نادر روزگار کتابیں لکھی گئیں ایک فتاویٰ عالمگیری اور دوسری فتاوی رضویہ,, پچپن علوم پر آپ کو مہارت تامہ حاصل تھی بلکہ بعض کے تو آپ خود موجد ہیں اور بعض کے اصول و قوانین وضع فرماے, اور ہر مسئلہ پر ایسی تحقیقات انیقہ و تدقیقات رجیحہ پیش فرمائیں کہ چوٹی کے علماء بھی انگشت بدنداں رہ گئے

تیمم کن چیزوں سے جائز اور کن سے ناجائز پر تفصیلی کلام کرنے اور تحقیقات کے دریا بہانے کے بعد فرماتے ہیں یہ ۳۱۱چیزوں کا بیان ہے ۱۸۱ سے تیمم جائز جن میں ۷۴ منصوص اور ۱۰۷ زیادات فقیر اور ۱۳۰ سے ناجائز جن میں ۸۵ منصوص اور ۷۲ زیادات فقیر پھر تحدیث نعمت کے طور پر فرماتے ہیں ایسا جامع بیان اس تحریر کے غیر میں نہ ملے گا بلکہ زیادات درکنار اتنے منصوصات کا استخراج بھی سہل نہ ہو سکے گا وللہ الحمد اولا و آخراو بہ التوفیق باطنا و ظاہرا اعلی حضرت کی ایک نمایاں خصوصیت جو ان کے غیر میں تقریبا مفقود ہوتی ہے

وہیہ کہ جس زبان جس انداز جس ادبی صنف میں اعلی حضرت سے استفتاء ہوا اسی طرز اور اسی پیرایہ میں آپ نے جواب مرحمت فرمایا آپ سے فارسی, عربی اردو, منظوم و منثور غرض یہ کہ مختلف ادبی اصناف کے میں استفتاء ہوتے تو آپ بھی اسی طرز اور اسی اسلوب میں جواب مرحمت فرماتے ایک صاحب نے استفتاء کیا کہ ,گر کسی نے ترجمہ سجدہ کی آیت کا پڑھاتب بھی کرناکیا اس شخص پر واجب ہوا, جواب عطا فرمایا ,ترجمہ بھی اصل سا ہے وجہ سجدہ بالیقین فرق یہ ہے فہم معنی اس میں شرط اس میں نہیں, آیت سجدہ سنی جانا کہ ہے سجدہ کی جا اب زبان سمجھے نہ سمجھے سجدہ واجب ہو گیا ,تر جمہ نہ اس زبان کا جانتا بھی چاہے نظم و معنی دو ہیں

ان میں ایک تو باقی رہے, تاکہ من وجہ تو صادق ہو سنا قرآن کو ورنہ ایک موج ہوا تھی جو چھو گئی کان کو , ہے یہی مذہب بہ یفتی علیہ الاعتماد شامی از فیض و نہر واللہ اعلم بالرشاد , فقاہت بھی کمال اور شعر گوئی میں بھی درک کامل فقیر نے اپنے ناقص مطالعہ اور ناقص فہم کے مطابق فتاوی رضویہ میں جو کچھ ہیرے جواہرات پاے اسے پیش کرتا ہوں ملاحظہ فرمائیں, آپ جس مسئلہ پر قلم اٹھاتے ہیں تو اس کو الم نشرح کرکے ہی چھوڑتے ہیں آپ گویا فرقہاے باطلہ کے لیے شمشیر براں تھے

جب ان کے باطل نظریات کی بیخ کنی فرمانے پر آتے تو انہیں کعصف ما کول کی عملی تصویر بناکر چھوڑتے اصول و جزئیات کا بلا کا استحضار تھا آپ کا فتوی اتنا معیاری اور مدلل ہوتا ہے کہ اس کے حکم کے تعلق سے آیات قرآنیہ بھی ہوتی ہیں احادیث کریمہ بھی ہوتی ہیں روایات بھی ہوتی ہیں اور اصول و فروع کی شادتیں بھی ہوتی ہیں غیروں کا آپ پر یہ الزام کہ آپ بہت ہی متشدد تھے ہر وقت کفر کی تلوار لہراتے رہتے تھے

یہالزام تار عنکبوت سے بھی زیادہ ضعیف اور سراسر غلط اور کذب پر مبنی ہے آپ نے جو کچھ لکھا دلائل و شواہد کے ساتھ لکھا عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں سرشار تھے شان رسالت میں ادنی سی گستاخی برداشت نہیں فرماتے اس کا اعتراف خود اشرف علی تھانوی جو کہ ,,دیابنہ ملعونہ کے سرغنہ ہے ,, کرتا ہے میرے دل میں احمد رضا کے لئے بے حد احترام ہے وہ ہمیں کافر کہتا ہے لیکن عشق رسول کی بنیاد پر کہتا ہے اور کسی دنیاوی غرض کے تحت نہیں کہتا ,, اعلی حضرت کے علمی کارنامے اور جتنی دینی خدمات جلیلہ ہیں

اگراس کا کسی ایک ایسی اکیڈمی سے موازنہ کیا جائے کہ جس کی دینی خدمات سو سال پر محیط ہوں تو تنہا رضا کی خدمات جلیلہ اس سو سالہ خدمات پر بھاری نظر آئیں گی ان کے قلم کی طاقت کا اندازہ لگانا ہمارے فہم وفراست سے بالاتر ہے آئیے خود انہی کی زبانی ان کے قلم کا تعارف ملاحظہ کرتے ہیں تحدیث نعمت کے طور پر فرماتے ہیں ,, کلک رضا ہے خنجر خونخوار برق بار اعداء سے کہہ دو خیر منائیں نہ شر کریں,, امام احمد رضا اپنی صدی کے مجدد تھے امام الفقہاء تھے آپ مجتہد فی المسائل کے مرتبہ پر فائز تھے

یہکوئی میری خود ساختہ جدت طرازی نہیں بلکہ میرےمشفق استاذ گرامی معتمد عالم دین مفتی صابر عالم مصباحی نے اس حقیقت سے پردہ اٹھایا بلکہ ہر وہ شخص جو منصفانہ مزاج رکھتا ہو جب وہ رضویات کے سمندر میں غوطہ زنی کرے گا اس پر یہ حقیقت آشکارا ہو جائیگی کہ واقعی میں اعلی حضرت مجتہد فی المسائل کے مرتبہ پر فائز تھے

لیکن میں صرف اس مبہم اور اجمالی گفتگو پر ہی اکتفا کرنا مناسب نہیں سمجھتا ہوں بلکہ قارئین کے سامنے اس حقیقت واقعیہ کو واضح کرنا بھی از حد ضروری سمجھتا ہوں جس کو استاذ گرامی نے تفصیلا بیان فرمایا تو سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا ضروری ہے کہ مجتہد فی المسائل کسے کہتے ہیں اور یہ طبقہ طبقات فقہاء کے کس درجہ پر آتا ہے پس جان لیں کہ یہ طبقہ فقہا کے تیسرے درجہ میں آتا ہے

اورمجتہد فی المسائل اس مجتہد کو کہتے ہیں جو اصول و فروع میں اپنے امام کی پیروی کرتے ہیں اور جن مسائل میں اصحاب مذہب سے کوئی روایت منقول نہیں ہوتی ہے اس میں وہ اجتہاد کرتے ہیں یہ خوبی امام احمد رضا میں بدرجہ اتم موجود تھی اس کی سینکڑوں مثالیں دی جاسکتی ہیں

لیکن طوالت کے خوف سے صرف ایک مثال پر ہی اکتفا کرتا ہوں مسئلہ پیش خدمت ہے ملاحظہ فرمائیں۔ ایک مسئلہ اعلی حضرت کی بارگاہ میں پیش ہوا تھا کہ منی آرڈر کی فیس جاءز ہے یا نہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس سلسلے میں اصحاب مذہب سے کوئی صراحت موجود نہیں لہٰذا آپنے اپنی قوت اجتہاد سے ایک مبسوط تحقیقی رسالہ تصنیف فرمایا جس کا نام ,, المنی والدرر لمن عمد منی آرڈر ,,ہے

اس میں آپ نے متعدد فقہی دلائل سے ثابت فرمایا کہ منی آرڈر جائز و درست ہے , مکہ معظمہ کے ایک عالم جلیل فاضل جلیل سید اسماعیل بن سید خلیل رحمۃ اللہ علیہ نے اعلی حضرت کا ایک فتوی دیکھا تو پکار اٹھے ,,واللہ اقول و الحق اقول انہ لو راءھا ابو حنیفہ لاقرت عیناہ و جعل مولفہا من جملہ الاصحاب,, خدا کی قسم میں کہتا ہوں کہ اگر اس فتوی کو امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ دیکھتے تو یقینا ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی اور فتوی لکھنے والے کو اپنے اصحاب یعنی ,,امام ابو یوسف و امام محمد,, کے زمرے میں شامل فرماتے

آپکا مذہب و عقیدہ وہی تھا جو صحابہ , تابعین ,تبع تابعین , اسلاف کرام اور بزرگان دین کا تھا آپ نے کسی جدید مسلک کی داغ بیل نہیں ڈالی اور نہ ہی بریلوی کوئی نیا مسلک ہے بس یہ اپنے اور بیگانے عاشق نبی اور گستاخ نبی کے درمیان مابہ الامتیاز کے لیے ایک نشان ہے جس کو مسلک اعلی حضرت کہتے ہیں اور اس دور میں مسلک اعلیحضرت اہل سنت والجماعت کی شناخت اور پہچان ہے لہذا مسلک اعلی حضرت کہنا بلاشبہ جائز ہے

حرمین طیبین کے علماء کرام فرمایا کرتے تھے ,,اذ جاء رجل من الھند سٔلناہ عن الشیخ فان مدحہ علمنا انہ من اھل السنہ فان ذمہ علمنا انہ من اھل البدع ,, جب کوئی ہندی مکۃ المکرمہ آتا تو ہم امام احمد رضا کے تعلق سے اس سے پوچھتے ہیں اگر وہ رضا کا دیوانہ نکلتا ہے تو ہم سمجھ لیتے ہیں کہ وہ اہل سنت سے ہے اور اگر کوئی ان کے خلاف زبان درازی کرتا ہے پیشانی پر سلوٹیں لاتا ہے تو بھی ہم سمجھ جاتے ہیں کہ وہ کلاب النار کی جنسی ہے اور ہمارے نزدیک اہل سنت و اہل بدعت کا یہی معیار ہے

کتب فقہ میں تیمم صحیح ہونے کے لئے پانی نہ ملنے کی زیادہ سے زیادہ دس بیس صورتیں نظر آتی ہیں اور بعض فقہا کی کتابوں میں بہت مشکل سے چالیس سے پچاس تک ہی صورتیں ملتی ہیں لیکن اعلی حضرت قدس سرہ کی جولانیت علمی ,فقہی بصیرت اور جودت طبع دیکھئے کہ آپ جب پانی سے عجز کی صورتیں گنانے پر آتے ہیں تو ترتیب وار پونے دو سو صورتیں بیان فرمادیتے ہیں

امامشافعی علیہ الرحمہ نے امام اعظم کے تعلق سے فرمایا تھا کہ ,,الناس کلھم عیال ابی حنیفہ فی الفقہ ,,کہ سارے لوگ فقہ میں امام اعظم کی اولاد ہیں اور اگر یہی جملہ قدرے ترمیم کے ساتھ اعلی حضرت کی شان میں کہا جاے ,,العلماء کلہم عیال احمد رضا فی الفقہ کہ معاصر زمانہ کے سارے علماء فقہ میں مجدد اعظم کی عیال ہیں تو بلاشبہ حق بجانب اور صحیح ہوگا

پاسبانِ فکرِ اسلامی… اعلیٰ حضرت

کون ہیں اعلی حضرت،کیا ہیں اعلی حضرت؟

حضرت سراج الفقہاء دام ظلہ العالی کا علمی وتحقیقی جہان

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment