احادیث صحیحین سے غیر مقلدین کا انحراف

کتاب _ "احادیث صحیحین سے غیر مقلدین کا انحراف” _ پر ایک نظر

Table of Contents

کتاب _ "احادیث صحیحین سے غیر مقلدین کا انحراف” _ پر ایک نظر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
از : مولانا عمران رضا عطاری مدنی
شعبہ : اختصاص فی الحدیث
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ہم اہلسنت و جماعت اور بد مذہبوں کے مابین مشہور اختلافی موضوعات پر احادیث صحیحین کی روشنی میں لکھی گئی ایک بہترین کتاب بنام ” احادیث صحیحین سے غیر مقلدین کا انحراف ”
مصنف : سراج الفقہا، محقق مسائل جدیدہ مفتی نظام الدین رضوی مصباحی حفظہ اللہ ۔

یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک لاجواب کتاب ہے، نہایت آسان اسلوب میں غیر مقلدین کو دعوت فکر دی گئی ہے کہ اگر ہدایت کے طالب ہیں تو ضرور راہ حق پر آئیں گے وگرنہ جن لوگوں کو "خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْؕ-وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ٘-وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ” سے وافر مقدار میں حصہ ملا ہے یہاں ان سے تعرض بھی نہیں۔
تقریباً اکثر مقامات پر قرآن و حدیث کے دلائل ذکر کرنے کے بعد سراج الفقہا مفتی نظام الدین رضوی صاحب نے جن دلنشیں انداز میں عبارتوں کی وضاحت فرمائی ہے یہ اپنی مثال آپ ہے۔
ہر طالب علم بلکہ ہر فارغ التحصیل کو اس کتاب کا لازمی مطالعہ کرنا چاہیے۔ میں اس کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس کتاب کا سال میں ایک مرتبہ ضرور مطالعہ ہو تاکہ اگر ہمارے خصم ان عقائد پر کچھ اعتراض کریں تو فی البدیہہ ہم اس کو لا جواب کرسکیں اور اپنے سنی بھائیوں کو بھی ان دلائل کے بنیاد پر مضبوط کر سکیں۔

اس کتاب کی سب سے بڑی خصوصیت جو نام سے واضح ہے کہ قبلہ مفتی صاحب نے ان احادیث کو اہتمام کے ساتھ جمع کرکے عقائد اہل سنت کو ثابت کیا ہے جو (احادیث) بخاری و مسلم میں موجود ہیں کیوں کہ آج کل غیر مقلدین وغیرہ کی ایک بڑی تعداد ہر موقف پر احادیث صحیحین طلب کرتی ہے اور جو ان میں نہ ہو ان کا سرے سے انکار ۔ حالاں کہ ان مصنفین نے خود اس بات کا دعویٰ ہی نہیں کیا کہ صحیح حدیث وہی ہوگی جو ان دونوں کتب میں ہوں، بلکہ امام بخاری کا قول تو یہ ہے کہ "میں نے کتاب ”الجامع میں صرف صحیح احادیث شامل کی ہیں، اور کتاب کو طویل ہونے سے بچانے کے لیے میں نے ( بہت سی ) صحیح احادیث کو چھوڑ بھی دیا ہے۔”
(شرح التبصرة والتذكرة، ج:١، ص:١١٦، دار الكتب العلمية، بيروت)

اسی طرح امام مسلم نے اپنے صحیح کے متعلق فرمایا : ہر حدیث جو میرے نزدیک صحیح ہے میں نے یہاں نہیں لکھی، میں نے تو یہاں صرف ان حدیثوں کو لکھا ہے جن کی روایت پر اجماع ہے۔
(صحيح مسلم، ج:٢، ص:١٥، دار الطباعة العامرة – تركيا)

دوسری طرف غیر مقلدین خود بخاری و مسلم کی متعدد احادیث کو نہیں مانتے لہذا ان کا دعویٰ خود ہی باطل۔ کہ جب انھوں نے خود ان ہی کو معتبر جانا تو پھر جو اہلسنت کے مأید احادیث ہیں ان کے قبول سے فرار کیوں ؟……..

معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ کہ صحیح حدیث صرف انھیں دو کتب میں ہیں سرار باطل اور اقوال ائمہ سے جھالت کا ثبوت ہے۔
(اس موضوع پر مزید معلومات کے لیے فقیر کا مضمون بنام "کیا صحیح حدیث صرف صحیحین یا صحاح ستہ میں منحصر ہیں ؟” کا مطالعہ فائدے سے خالی نہ ہوگا)

قبلہ مفتی صاحب کی اس کتاب کے ذریعے اس بات کا روز روشن کی طرح ثبوت فراہم ہوتا کہ ہمارے عقائد کے بنیاد ضعیف اور موضوع روایت پر نہیں بلکہ صحیح حدیث اور وہ بھی بخاری و مسلم کی اعلی درجے کی صحیح احادیث ہیں ۔

زیر نظر کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ محمد مصباحی صاحب فرماتے ہیں :
زیر نظر کتاب میں غیر مقلدین کے بلند بانگ دعووں کی نقاب کشائی بڑی خوش اسلوبی سے کی گئی ہے اور یہ دکھایا گیا ہے کہ قدم قدم پر صحیحین ( صحیح بخاری و صحیح مسلم ) سے ان کا انحراف اور کتاب وسنت سے دوری ان کے خمیر میں داخل ہے۔
اس کتاب میں جو کچھ لکھا گیا ہے دلائل و شواہد کی مضبوط زنجیروں سے جکڑا ہوا ہے، چشم بینا ہو تو دیکھے ، گوش شنوا ہو تو سنے۔ کھلے دل سے مطالعہ کریں، اس میں ہدایت وبصیرت کا سامان وافر مقدار میں مہیّا پائیں گے۔
(مقدمہ احادیث صحیحین… ج:۱ ص:۶)

اس کتاب کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ قبلہ مفتی صاحب دام ظلہ نے "مختارُ الأحادیث” کے نام سے ۲۰۲ احادیث مبارکہ کو جمع کیا ہے۔ طلبہ کرام ، فارغ التحصیل حضرات ، اسی طرح جو تخصصات کے طلبہ ہیں ان کو چاہیے لازماً ان احادیث کو یاد کرلیں !
مفتی صاحب خود فرماتے ہیں :
"مختار الاحادیث” دو سو سے زائد احادیث کریمہ کا مجموعہ ہے، جو کتاب "احادیث صحیحین سے غیر مقلدین کا انحراف“ سے منتخب ہے۔ ان احادیث سے سواد اعظم اہل سنت و جماعت کے عقائد و معمولات اور کچھ احکام عملی کا اثبات ہوتا ہے، بہتر ہو گا کہ طلبہ ان احادیث شریفہ کو زبانی یاد کرلیں اور یا درکھیں تاکہ وقت حاجت اصل کلمات حدیث پڑھ کر استدلال کر سکیں۔ اس سے ایک فائدہ یہ حاصل ہو گا کہ تبلیغ حدیث ہوگی ۔
دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ لوگ براہ راست خیر الہدی حدیث مصطفیٰ (ﷺ) سے فیض یاب ہوں گے ،
اور تیسرا فائدہ یہ ہو گا کہ وہ پورے اطمینان قلب کے ساتھ اپنے عقائد و اعمال پر ثابت قدم رہیں گے۔ ان شاء اللہ تعالی۔
دو سال میں دو سو حدیثیں یاد کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے، ہم نے طلبہ کی آسانی کے لیے تعلیمی سال کے چار شش ماہی کے پیش نظر اسے چار اجزا میں تقسیم کیا ہے۔ اس لیے طلبہ مدارس یہ حدیثیں ضرور یاد کریں اور لوگوں تک انھیں پہنچا کر بشارت نبوی کے حق دار بنیں۔”

مذکورہ کتاب کی چند خصوصیات درج ذیل ہیں :
● اہلسنت اور مخالف کے مابین مختلف فیہ مسائل پر تشفی بخش گفتگو۔
● چند فقہی مشہور مسائل مثلاً "ایک مجلس میں تین طلاق کا مسئلہ” اور "نماز میں قھقھہ کا مسئلہ” وغیرہ پر بھی کلام فرمایا ہے۔
● بدمذہبوں کے کئی اعتراضات کے جوابات۔
● ہر آیت کا آسان اور سہل ترجمہ۔
● ہر حدیث کے با محاورہ ترجمہ کے ساتھ جدید انداز میں تخریج حدیث۔
● ہر حدیث کے بعد اہم نکات کا ذکر۔
● بد مذہب چوں کہ ہر چیز پر بدعت بدعت کے فتوے لگاتے ہیں اس ضمن میں بدعت کے عنوان سے نفیس کلام فرمایا ہے۔
اس کتاب میں خصوصیت کے ساتھ صحیح بخاری و مسلم اور جو حدیث بخاری و مسلم کے شرط پر صحیح ہیں ۔ ان حدیثوں کو ذکر کیا ہے۔
● کئی مقامات پر حدیث کی اسنادی حیثیت کو بھی بیان کیا ہے۔

یہ کتاب وقت کی ایک اہم ضرورت کو پورا کرتی ہوئی نظر آتی ہے ہم سب کو چاہیے کہ اس کتاب کی خوب خوب تشہیر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفیض ہوں۔
اللہ پاک مصنف جلیل استاذ الفقہا مفتی نظام الدین رضوی مصباحی أطال الله عمره و بقائه کو عمر خضری عطا فرمائے اور اسی طرح ان کے ذریعے دین و سنت کے بڑے بڑے کام معرض وجود میں آتے رہیں۔
آمین بجاہ النبی الامین ﷺ 🤲🏻


شان صدیق اکبر رضی اللہ عنہ

سیرت امام محمد بن محمد غزالی شافعی رحمۃ اللہ علیہ

محدثین کے قول : "لا یصحّ” کا صحیح معنی و مفہوم

شیئر کیجیے

Leave a comment