رسول کی محبت:حکمت اور علت

رسول کی محبت:حکمت اور علت

Table of Contents

رسول کی محبت:حکمت اور علت

از قلم:طارق انور مصباحی

رسول کی محبت:حکمت اور علت
رسول کی محبت:حکمت اور علت

مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

یہ حقیقت مہر نیم روز کی طرح روشن وعیاں ہے کہ مذہب اسلام نے مخلوقات میں سب سے زیادہ محبت پیغمبر اسلام حضور اقدس سیدنا ومولانا محمد مصطفے علیہ التحیۃ والثنا سے کرنے کا حکم فرمایا۔

اگر اس کی حکمت پر غور کیا جائے تو واضح ہو جائے گا کہ محبت مصطفوی سبب ہدایت اور دافع ضلالت ہے۔

محبت رسول علیہ الصلوۃ والسلام اتباع شریعت پر آمادہ کرتی ہے,کیوں کہ جو شخص جس سے محبت کرتا ہے,وہ اس کی طاعت وفرماں برداری کرتا ہے۔شریعت اسلامیہ حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیمات کا نام ہے,پس جو محب رسول اور عاشق نبی ہو گا,اس کا قلب اسے طاعت رسول کی جانب مائل کرے گا,اور وہ طاعت نبوی میں حلاوت محسوس کرے گا۔(صلی اللہ تعالی علیہ وسلم)

حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم ہے کہ ایک مومن کو ان تمام حضرات سے محبت رکھنی ہے,جن کا تعلق پیغمبر اسلام علیہ الصلوۃ والسلام سے ہے۔حضرات صحابہ کرام,اہل بیت عظام,اولیا ومجتیدین,علما ومحدثین اورجملہ مومنین سے محبت کا حکم دیا گیا ہے۔

فرق مراتب ملحوظ رکھا گیاہے,لیکن کسی مومن سے بلا وجہ شرعی عداوت کی اجازت نہیں,گرچہ وہ ایک عام مسلمان ہو۔

اپنے رسول علیہ الصلوۃ والسلام سے اس لئے محبت کرنی ہے کہ انھیں کے توسل سے ہمیں خدا ملا,اور انھیں کا کلمہ پڑھنے کے سبب ہم اخروی نعمتوں کے مستحق قرار پائے۔

معظمان اسلام اور اہل ایمان سے اس لئے محبت کرنی ہے کہ ہمارے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان تمام سے محبت کا حکم فرمایا ہے۔ارشاد مصطفوی کے سبب ہم مومنین سے محبت رکھتے ہیں,پس اہل ایمان سے محبت کے بارے میں ہمیں تعلیمات نبویہ کا مکمل لحاظ کرنا ہو گا۔

کوئی مومن ہرگز کسی صحابی کے برابر نہیں۔ایک ولی ہمارے درمیان ہوں جن کی عبادت وریاضت اور تقوی وبزرگی کا شہرہ ساری دنیا میں ہو۔ما وشما ان کے ساتھ نشست وبرخاست کرتے ہوں اور سارے حالات سے واقف ہوں۔

دوسری جانب ایک ایسے صحابی ہوں جو حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے دست اقدس پر ایمان لائے ہوں,اور چند لمحوں میں وفات پا گئے ہوں۔ان کو عبادت کا موقع ہی نہ مل سکا ہو۔پس ہم ان صحابی کو اپنے عہد کے ولی سے افضل جانیں گے,کیوں کہ شریعت مصطفوی کا یہی حکم ہے۔

گرچہ ان صحابی کو عبادت کا موقع نہ مل سکا ہو,لیکن حضور اقدس حبیب کبریا علیہ التحیۃ والثنا کی ایک لمحہ صحبت مومن کو ایسا بلند رتبہ بنا دیتی ہے کہ کروڑوں سال کی عبادت وریاضت سے بھی کوئی اس منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔

روافض نے اہل بیت اطہار سے محبت کا دعوی کیا,لیکن وہ محبت نبوی سے غافل رہے,جس کے سبب بعض روافض نے یہ عقیدہ بنا لیا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے لئے نبوت ورسالت مقدر تھی,لیکن حضرت جبریل امیں علیہ السلام وحی لے کر حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس چلے گئے۔یہ نظریہ صاف واضح کر رہا ہے کہ حضرات اہل بیت کرام سے محبت میں تعلیمات نبویہ کو ملحوظ نہ رکھا گیا,پس غلو کی کیفیت پیدا ہوگئی۔

اگر محبت اہل بیت کی بنیاد حکم نبوی پر رکھتے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرات اہل بیت کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے محبت کا حکم فرمایا ہے,اس لئے ہم ان سے محبت کرتے ہیں تو اس وقت محبت اہل بیت کے معاملہ میں حکم مصطفوی پر نظر رکھتے,اور غلو کی کیفیت پیدا نہ ہوتی۔

دیوبندیوں نے محبت نبوی کا دعوی ضرور کیا,لیکن پیارے رسول علیہ السلام سے سب سے زیادہ محبت کرنے کا حکم تھا,تاکہ قلب وذہن طاعت نبوی کی جانب مائل ہو۔حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی بے ادبیوں کے باوجود دیابنہ اپنے استاذوں اور پیروں سے الگ نہ ہوئے,اس کا واضح مفہوم ہے کہ دیوبندی جماعت نے محبت اساتذہ وحب مشائخ کو محبت نبوی پر ترجیح دی۔نتیجہ ظاہر ہے کہ وہ ضلالت وکفر میں مبتلا ہوئے۔

اہل سنت وجماعت کی فطرت اور اس کے خمیر میں ہی محبت نبوی کا جذبہ غالب ہے,لیکن اب دو تین عشروں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اکا دکا لوگوں کے دلوں میں محبت مشائخ حد اعتدال سے تجاوز کر چکی ہے۔

زید اور بکر دونوں سنی صحیح العقیدہ شیخ طریقت ہیں۔ہر ایک کے مریدین کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے پیر طریقت سے عقیدت ومحبت رکھیں,لیکن یہ ہرگز جائز نہیں کہ زید کے مریدین ومعتقدین بکر اور اس کے مریدین ومعتقدین کو برا بھلا کہیں۔ان کی عیب جوئی اور بدگوئی کریں۔یہ فسق وفجور ہے۔محبت مشائخ حد اعتدال سے کچھ آگے بڑھی تو بعض لوگ فسق وفجور میں مبتلا ہوئے۔

روافض کا ابتدائی مرحلہ ایسا ہی تھا۔محبت اہل بیت کے نام پر حضرات صحابہ کرام کی بدگوئی اور عیب جوئی کرتے رہے,پھر محبت اہل بیت میں ایسے مستغرق ہوئے کہ حضرات اہل بیت کو حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے افضل بتانے لگے,جس کے سبب ان پر حکم کفر عائد ہوا۔

اگر ہم علمائے شریعت ومشائخ طریقت کی محبت میں اس نکتہ کو ملحوظ خاطر رکھیں کہ ہم ان نفوس قدسیہ سے محض اس لئے محبت رکھتے ہیں کہ ہمارے رسول علیہ الصلوۃ والسلام نے ان حضرات سے محبت کا حکم فرمایا ہے,تب ہم ان حضرات سے محبت کے باوجود حکم نبوی کی خلاف ورزی نہیں کر سکیں گے,کیوں کہ جن کے حکم پر ہم ان حضرات سے محبت کرتے ہیں,انہوں نے ہمیں تمام مومنین کے ادب وتعظیم اور سترپوشی کا حکم فرمایا ہے۔

مذکورہ بالا نکتہ کو ملحوظ خاطر رکھا جائے اور یہ تصور دل ودماغ میں بسایا جائے کہ پیارے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کے علاوہ دیگر تمام مومنین سے محض حکم نبوی کے سبب ہم محبت رکھتے ہیں۔جب یہ نظریہ قلب وذہن میں مستحکم اور راسخ ہو جائے گا تو نہ کسی کی محبت میں آپ حد اعتدال سے تجاوز کریں گے,نہ ہی ارشادات نبویہ کی خلاف ورزی کر سکیں گے۔

نیز رفتہ رفتہ آپ کو خود ہی محسوس ہونے لگے گا کہ ہم ساری کائنات میں سب سے زیادہ محبت اپنے رسول علیہ الصلوۃ والسلام سے کرتے ہیں,اور یہی مطلوب ومقصود ہے۔

حدیث نبوی میں ہے:

(لا یؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین)(بخاری ومسلم)

جب اپنے رسول علیہ الصلوۃ والسلام سے سب سے زیادہ محبت کا حکم ہے تو اس کا لازمی مفہوم یہ ہے کہ دیگر تمام مخلوقات سے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کی بہ نسبت کم محبت کرنی ہے۔یہ کمی وبیشی اور قلت وکثرت ہمیشہ یاد رہے۔ہمیشہ محبت نبوی اور عشق مصطفوی کو ترجیح حاصل رہے,تاکہ قدم ڈگمگا نہ سکے۔اس کا لحاظ نہ کرنے کے سبب روافض بہک گئے,اوردیابنہ راہ حق سے پھسل پڑے۔

سنی بھائیو! تمہارے خمیر میں عشق رسول ہے۔میں یہی بتا رہا ہوں کہ علمائے شریعت,مشائخ طریقت اور جملہ مخلوقات سے محبت کم رہے اور اپنے رسول علیہ السلام سے محبت زیادہ رہے۔یہی حدیث مصطفوی میں ارشاد فرمایا گیا۔الٹی گنگا بہانے کی کوشش نہ کرو۔

اگر قسمت یاوری کرے تو خواص کے طریق کار کو اپنائیں۔محبت عقلی کے تمام اجزا وحصص حضور اقدس حبیب کبریا علیہ التحیۃ والثنا کے لئے خاص کر دیں۔معظمان اسلام اور افراد امت سے تمہاری محبت بالواسطہ ہو,یعنی دوسروں سے محبت اس لئے ہو کہ ہمارے حبیب علیہ التحیۃ والثنا نے ان سے محبت کا حکم فرمایا,پس ان کی محبت کے ضمن میں سب کی محبت ہو۔اصلی اور ضمنی کا فرق ملحوظ رہے۔بالواسطہ اور بلا واسطہ کی رعایت کرتے رہیں۔خود کو ذیلی مصرع کی تفسیر مجسم بناؤ۔

ع/ انھیں جانا انھیں مانا نہ رکھا غیر سے کام

چاندنی چاند سے ہوتی ہے ستاروں سے نہیں

محبت ایک سے ہوتی ہے ہزاروں سے نہیں

ایک کے علاوہ دوسروں سےضمنی,تبعی اور بالواسطہ محبت کی ضرور گنجائش ہے,کیوں کہ ایک محب وعاشق اپنے محبوب ومعشوق سے نسبت رکھنے والی ہر شئ سے محبت کرتا ہے۔وہ تمام اشخاص وافراد,اشیا ومقامات,منسوبات ومضافات جن کی نسبت ہمارے حبیب علیہ الصلوۃ والسلام سے ہے,وہ تمام نسبت محمدی کے سبب ہمارے لئے حسب مراتب قابل تعظیم اور لائق محبت ہیں,لیکن مطلوب ومقصود تو فقط وہی ہیں۔

ع/ ایک کا رکھ عبد واحد بے ریا کے واسطے

دربار اعظم میں قبولیت اسی کو ملتی ہے جو صحیح العقیدہ ہو۔ماضی قریب میں امام احمد رضا قادری کو دربار مصطفوی سےدین وایمان کی تعلیم وتبلیغ کے لئے مقرر فرمایا گیا تھا۔اگر چاہو تو امام احمد رضا کی انگلی پکڑ کر دربار اعظم کی جانب کوچ کر جاؤ۔جو بھی کسی رہنمائے حق کے ساتھ ادھر آتا ہے,وہ قبولیت پا لیتا ہے,پھر وہ ہرگز واپس نہیں جاتا۔

سارے جہاں کو چھوڑ کر تیرے در کے پاس

بیٹھا ہوں اس طرح کہ اب اٹھا نہیں جاتا

از قلم:طارق انور مصباحی

جاری کردہ:10:جون 2021

Like this article?

Share on Facebook
Share on Twitter
Share on Whatsapp
Share on E-mail
Share on Linkedin
Print (create PDF)

Leave a comment