Islamic Articles, Naat, Manqabat etc

Read Here For Free


کیا ہم آزاد ہیں؟

کیا ہم آزاد ہیں؟

کیا ہم آزاد ہیں؟

ازقلم :معین الدین نقشبندی فیضانی

وطن عزیز ملک ہندوستان کسی زمانے میں امن و سکون کا گہوارہ کہلاتا تھا. ہر باشندہ چین اور سکون کی نیند سوتا. اور اسی فضا میں آنکھ کھولتا. نہ تو جان و مال کے نقصان کاخوف نا جائیداد کی ضبطی کا کوئی ڈر نہ لٹنے پٹنے کا کوئی خطرہ نہ بے گھر و بے در کیے جانے کا غم ایک خوشگوار فضا قائم تھی جو نفرت عصبیت عداوت ذات پات ان نچ نیچ کے فرق و امتیاز سے صاف ستھرا تھامسلم بادشاہوں کا نظام حکومت اتنا منظم تھا کہ جس میں قانون کی بالادستی تھی خوشحالی کا یہ عالم تھا کہ دنیا دولت و ثروت کی ریل پیل دیکھ کر” سونے کی چڑیا“ کہا کرتی تھی اس طرح مسلم حکمرانوں نے بہت ہی جدوجہد کے ساتھ حکمرانی کر کے ترقی کے اعلی معیار پر فائز کیا
جس کی منظر کشی نباض قوم و ملت علامہ اقبال فرماتے ہیں
سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہیں ہندوستان ہمارا
پھر سترہوی صدی میں برطانوی حکومت کی ناپاک نگاہ اس پر پڑی اور تجارتی غرض سے ہندوستان آئے مگر ان کی نیت تجارت کی نہیں بلکہ اس سرزمین پر قبضہ کرنے کی تھی پہلے تاجر آئے پھر کچھ حالات ایسے بنا دیے گئے کہ ان تاجروں کی سیکیورٹی کا بہانہ بنا کر فوجی دستوں کی آمد شروع ہو گئی اور دھیرے دھیرے اپنے پیر جما کر اپنے قوانین و ضوابط نافذ کر دیے۔
اب ملک عزیز میں ایک ایسی حکومت قابض ہو چکی تھی جس کے بارے میں کہا جاتا تھا یہ ایسا سورج ہے جو کبھی نہیں ڈوبے گا اتنی بڑی سلطنت کے مالک ہونے کے باوجود مسلمانوں نے یوم اول ہی سے اس قدر جدوجہد کی کہ تاریخ نے وہ دن بھی دیکھا کہ ١٤ اگست ١٩٤٧ کا سورج اپنے ساتھ انگریزی حکومت کو ڈوبا لےگیا اور ١٥ اگست کا سورج آزادی کا تحفہ لیے طلوع ہوا ہمارا پیارا ملک ہندوستان آزاد ہو گیا انگریز تو چلے لیکن جاتے ہوئے نفرت کا بیج بو گئے جس کے پودے نے اس قدر زہریلی آکسیجن دی کہ ہر فضا گندی, بدبودار, تعفن زدہ ہو گئیں اور یہ عظیم ملک کئی حصوں میں تقسیم ہو گیا جو ہندوستان, پاکستان، نیپال, بھوٹان, بنگلہ دیش وغیرہ ناموں سے مشہور ہونے لگی اور سب نے اپنے قوانین ضابطے بنالیے مسلمانوں کی اکثریت ملک پاکستان جا کر بس گئی لیکن بے شمار مسلمان ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنے ملک عزیز کو چھوڑنا گوارا نہ کیا اور یہ عزم کیا کہ اسی مٹی سے پیدا ہوئے ہیں اسی مٹی میں جائیں گے اور پھر آئین (سویدھان) بنایا گیا جس میں ہر قوم, ہر مذہب کے حقوق کا لحاظ رکھا گیا اور جمہوریت کے نام سے ملک ہندوستان کو متعارف کرایا ایک عرصہ تک ملک آئین کے مطابق چلتا رہالیکن جو بیج لگایا گیا تھا اس کا پودا اب دھیرے دھیرے بڑا ہونے لگا تھا اور اپنی نفرت کی جڑیں پورے ملک میں پھیلا رہا تھا۔
نفرت فقط عوام تک محدود نہ رہی بلکہ حکومت میں بھی داخل ہوئی اور دیمک کی طرح کھا کر اس کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا پھر زہریلی فضا و ماحول بننے لگا ایک دوسرے سے نفرت عصبت پیدا ہونے لگی ہر آئے دن مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جانے لگے مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات میں بند کیا جانے لگا مسلم ماں بہنوں کی عزت و آبرو کو لوٹا جانے لگا حد تو یہ ہو گئی کہ ہمارے دین و شریعت میں براہ راست مداخلت کی جانے لگی اور مذہب میں پابندی کا نظریہ پیش کیا جانے لگا ملک کی سب سے وفادار طبقے پر دیش دروہی کا الزام لگایا جانے لگا۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم آزاد ہیں؟
تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جب کبھی بھی مسلمان اپنے حق کا مطالبہ کرنے کے لیے مظاہرہ کرتا ہے تو پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنتا ہے، مارا جاتا ہے، گرفتار کیا جاتا ہے اور سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے ۔ جہاں وہ قید بند کی مصیبتیں جھیلتا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم آزاد ہیں؟
ہماری عبادت گاہوں اور مساجد پر حملہ، پردہ، تعداد ازدواج، طلاق ثلاثہ، جیسے شرعی امور میں دخل اندازی، لاؤڈاسپیکروں میں اذان، کھلے میدان میں نماز وغیرہ پابندی لگانا، جمہوری ملک کی پیشانی پر بد نما دھبہ ہے۔ رات دن مسلم ستائی کے نئے نئے حربے اور سازشیں رچی جاتی ہیں۔ کبھی دو نمبر کا شہری قرار دینے کی ناپاک کوشش، کبھی ان کے مکانات پر بلڈوزر چلا کر بے گھروں بے در کیا جارہا ہے، کبھی لکھے پڑھے نوجوانوں کو جھوٹے کیس مقدمے میں پھنسا کر ان کی زندگی تباہ کردی جاتی ہے ۔ آخر مصائب و آلام کی داستان کب اور کیسے لکھی جائے اور کون کونسی کہانی لکھی جائے۔ ایک لکھی جائے تو دسیوں کہانیاں پیدا ہوتی ہے ۔
کیا بابری مسجد کی شہادت کی داستان لکھوں؟، یا ٢٠٠٢ میں گجرات جس کو فسادیوں اور بلوائیوں نے مسجد کو شہید کردیا نسل کش فسادات لکھوں جہاں حاملہ عورتوں کے پیٹ چیر کر ان بچوں کو نیزہ و بھالا پر اچھالا گیا۔ گھروں اور مکانوں کو نزر آتش کیا گیا ۔یا ملک کے کونے کونے میں ہونے والی ماب لنچنگ کے واقعات تحریر کروں؟ یا شان رسالت میں گستاخیاں کرکے ایک مومن کے کلیجے کو چھلنی کرنے والے واقعات لکھوں؟ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ داستان کہاں سے شروع کروں کہاں ختم کروں؟.:
دن بدن فضا زہریلی ہوتی جا رہی ہے، دہشت کا ماحول ہے، خوف و ہراس کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔اقلیت کی حق تلفی کی جارہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم آزاد ہیں؟
یوں لگتا ہے کہ اقلیت کو اپنے حق کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق ہی نہیں ہے۔ اس کے برعکس اکثر یتی طبقہ چاہے کتنے ہی بڑے جرم کرے خواہ بے قصور افراد پر حملہ کر کے موت کے گھاٹ سلادے یا ان کا مالی و اسباب لوٹ کر بے سرو سامان بنادے کہ ان سے اپنی زندگی کی بھیک مانگنے پر مجبور کردے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم آزاد ہیں؟
اسی مظلومیت کو دیکھتے ہوئے کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا:
اس دیس میں برسوں سے پریشان ہیں ہم لوگ
بس جرم ہے اتنا کہ مسلمان ہیں ہم لوگ
ملک عزیز کی آزادی مسلمانوں ہی کی مرہون منت ہے. کیوں دیگر ادیان میں جہاد کا کوئی مفہوم نہیں پایا جاتا اور وہ اس سے نہ آشنا ہیں
مسلمانوں کے وہ عظیم قائدین، سپہ سالار جنہوں نے آزادی کی خاطر جو قربانیاں پیش کیں وہ ناقابل فراموش ہیں کہ جنہوں نے جان کی پرواہ کیے بغیر اپنی جانوں کا اس قدر نظرانہ پیش کیا کہ دہلی کے لال قلعے سے لاہور تک پاکستان کی جامع مسجد سے دہلی کے کتب مینار تک ہر ایک درخت کی شاخوں پر ہمارے علمائے کرام کی لاشیں لٹکی ہوئی تھیں اور زمین ہند ان کے خون سے رنگین ہو چکی تھی۔
علامہ فضل حق خیر آبادی، علامہ کفایت علی کافی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی، شاہ اسحاق محدث دہلوی رحمہ اللہ جیسے جید علمائے کرام نے زبردست قربانیوں کا نذرانہ پیش کیا جان ومال کی قربانیاں پیش کیں، تحریکیں چلائیں، تختہ دار پر چڑھے، پھانسی کے پھندے کو جرات و بہادری سے گلے لگایا، قید و بند کی مصیبتیں برداشت کیں لیکن ان کی قربانیوں کا تذکرے کو صفحات سے مٹا دیا گیا اور ان کا ذکر کبھی بھی آزادی میں نہ کیا گیا افسوس صد افسوس۔
بہر حال ہر دور میں وقت کے فراعنہ نے اہل ایمان کو خوب ستایا لیکن ظلم آخر ظلم ہے جب بڑھتا ہے تو گھٹتا ہے ایک نہ ایک دن تو ان مظالم کی شام ہو گی.ل غرور کا سر نیچے ہوگا انا کو فنا طاری زندگی ظالم خاک میں ملیں گے ۔
یہ فرمان حق:حق ہے۔ اِنّ بطْش ربِّك لشدِیْد
قلندر لاہوری فرماتے ہیں کچھ ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا
وہ ملک ہندوستان جس کو سلاطین اسلام نے سونے کی چڑیا بنایا تھا آج یہ چمن اجڑا اجڑا لگ رہا ہے اس کی بنیاد کھوکھلی ہو چکی ہیں جو جمہوریت میں اپنی مثال آپ تھا آج پوری دنیا میں تھو تھو ہو رہی ہے
اللہ تعالی ہمارے ملک ہندوستان کو ترقی عطا فرمائے اسے نظر بد سے محفوظ فرمائے اور اس کے اہلیان مسلمانوں کی جان, مال, ایمان, عزت, آبرو کی حفاظت فرمائےآمین ثم آمین یا رب العالمین

ازقلم :معین الدین نقشبندی فیضانی

مزید پڑھیں

جنگ آزادی میں علمائے اہل سنت کا نمایاں کردار

جنگ آزادی میں علمائے اہلسنت کی قربانیاں

اہلِ وطن کو یومِ آزادی کی ڈھیروں مبارکباد

Spread The Love

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Related Posts