عید قرباں کے فضاٸل و احکام

Table of Contents

عید قرباں کے فضاٸل و احکام

ازقلم: سرورعلی الرقیبي المصباحي
متعلم:الجامعة اشرفیة،مبارک فور

عید الاضحیٰ جسے ہندو پاک میں عید قرباں بھی کہتے ہیں وہ عظیم، با برکت اور بہترین دن ہے جس کی بڑائی مختلف روایات سے ثابت ہے، اسلامی سال کے بارہویں مہینہ کی دسویں تاریخ کو منایا جانے والا یہ تہوار عید الاضحیٰ کہلاتا ہے۔ یہ وہ بابرکت دن ہے جس دن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آج سے تقریباً چار ہزار سال پہلے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کے حکم کی تعمیل پر قربانی کے لیے پیش کیا تھا جسے اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آزمائش پر پورا اترنے کے بعد قبول فرما کر اپنے فضل سے جنت سے لائے گئے دنبے کی قربانی سے بدل دیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بچا لیا اسی مناسبت سے مسلمان دسویں ذی الحجہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد میں قربانی کا خاص اہتمام کرتے ہیں اور عید مناتے ہیں۔

قربانی کی تعریف :

مخصوص جانور کو مخصوص دنوں میں اللہ کے ثواب کی نیت سے ذبح کرنا قربانی ہے۔
قربانی صرف اور صرف رضائے الہی کے لیے ہو ، نام و نمود اور ریا و سمعہ کا اس میں دخل نہ ہو اور اپنی عزیز ترین جانوروں کی قربانی کرتے ہوئے زبان اور دل سے یہ نعرہ نکلے :
” قل إن صلاتی و نسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمین لا شريك لك و بذالك امرت وانا اول المسلمين “ (سوره انعام، آیت: ١٦٢،١٦٣)
ترجمہ : ” تم فرماؤ بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ سب اللہ کے لیے ہے جو رب سارے جہان کا اس کا کوئی شریک نہیں مجھے یہی حکم ہوا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں ” (کنز الایمان )
قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے اور اس سنت پر عمل پیرا ہونے کا حکم امت محمدیہ علیہ التحیہ والثناء کو بھی دیا گیا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
فصل لربك وانحر” (سورۂ کوثر، آیت: ۲)
ترجمہ: ” تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو ” (کنز الایمان)
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی ہر سال اپنی طرف اور اپنی امت کی طرف سے قربانی کے جانور ذبح کیے اور اپنے غلاموں کو بھی یہ حکم دیا کہ جو صاحب نصاب ہوں وہ بھی قربانی کریں۔

قربانی کے فضائل :

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یوم النحر ( قربانی کے دنوں) میں ابن آدم کا کوئی عمل خدا کے نزدیک خون بہانے (قربانی کرنے) سے زیادہ پیارا نہیں ، اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگ اور بال اور کھروں کے ساتھ آئے گا، اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل خدا کے نزدیک مقام قبول میں پہنچ جاتا ہے لہذا اس کو خوش دلی سے کرو۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو روپیہ عید کے دن قربانی میں خرچ کیا گیا اس سے زیادہ کوئی روپیہ پیارا نہیں ، (المعجم الکبیر)
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا: اے فاطمہ کھڑی ہو اور اپنی قربانی کے پاس حاضر ہو بے شک قربانی کے پہلے خون کے قطرہ کے ساتھ تمھارے تمام پچھلے گناہوں کی مغفرت کردی جائے گی اور سنو! قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے گوشت اور خون کے ساتھ لایا جائے گا اور اس کو ستر درجہ بڑھا کر تیرے میران میں وزن کیا جائے گا ۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نےکہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ اجر صرف آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ وہ اس خیر کے اہل ہیں ؟ یا یہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام لوگوں کے لیے ہے ؟آپ نے فرمایا بلکہ یہ اجر آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام لوگوں کے ہے ۔
حسن بن علی رضی الہ عنھا سے روایت ہے انھوں نےفرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاری مایا کہ جو شخص خوش دلی سے ثواب کا طالب ہو کر قربانی ذبح کرے تو وہ قربانی اس کے لیے آتش جہنم کے سامنے حجاب ہوگی ۔ ” ( المحجم الكبير، ج ۳، ص: ۸۳)

قربانی کے برکات :

قربانی کرنے سے رحمت و برکت کا نزول ہوتا ہے ، بظاہر اس سے مال و دولت میں کمی ہوتی ہے۔ مگر حقیقت میں مال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں خرچ کرنے سے مال بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ شب و روز ہم اپنے ماتھے کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ جو جانور اللہ کے نام پر ذبح کیے جاتے ہیں وہ زیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں اور وہ جانور جو اللہ کے نام پر ذبج نہیں ہوتے وہ زیادہ تعداد میں موجود نہیں ملتے ہیں، ایسا کیوں ؟ یقیناً آپ کا سچ اور حق فیصلہ یہی ہوگا کہ یہ جانور اللہ کے نام پر ذبح کیے جاتے ہیں اور ان کی قربانی دی جاتی ہے اس لیے ان کی کثرت جگہ جگہ نظر آتی ہے۔ لہذا صاف طور پر ظاہر اور ثابت ہو گیا کہ جان ہو مال اگر اللہ کی راہ میں دیے جاتے رہیں گے تو اس میں بے پناہ برکت و رحمت ہوتی رہے گی اور جس چیز کو اللہ کے نام پر قربان نہیں کیا جائے گا وہ دھیرے دھیرے گھٹی چلی جائے گی اور ایک دن آئے گا کہ وہ چیز دنیا سے فنا ہو جائے گی ۔

قربانی کے چند ضروری مسائل :

قربانی واجب ہونے کے شرائط یہ ہیں : (ا)اسلام یعنی غیر مسلم پر قربانی واجب نہیں ۔(٢) اقامت یعنی مقیم ہو ، مسافر پر قربانی واجب نہیں۔ (۳) مالک نصاب ہونا۔(٤)آزاد ہونا ، جو آزاد نہ ہو اس پر قربانی واجب نہیں کہ غلام کے پاس مال ہی نہیں لہذا عبادت مالیہ اس پر واجب نہیں (در مختار وغیرہ )
مسئلہ: جس طرح قربانی مرد پر واجب ہے اسی طرح عورت پر بھی واجب ہے۔ (در مختار وغیرہ) مسئلہ : جو شخص دو سو در ہم با بیس دینار کا مالک ہو یا حاجت کے سوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو جس کی قیمت دو سو درہم ہو وہ غنی ہے اس پر قربانی واجب ہے (عالمگیری وغیرہ) مسئلہ: دسویں ذی الحجہ کی صبح صادق سے بارہویں کے غروب آفتاب تک قربانی کے اوقات ہیں ۔ یعنی تین دن اور دو راتیں لیکن دسویں سب میں افضل ہے پھر گیار ہوں پھر بارہویں (در مختار وغیرہ) مسئلہ: شہر میں قربانی کی جائے تو شرط یہ ہے کہ نماز ہو چکے لہذا نماز عید سے پہلے شہر میں قربانی نہیں ہو سکتی اور دیہات میں چونکہ نماز عید نہیں ہے۔ یہاں طلوع فجر کے بعد سے قربانی ہو سکتی ہے۔(عالمگیری)
مسئلہ: اگر شہر میں متعدد جگہ عید کی نماز ہوتی ہو تو پہلی جگہ نماز ہو چکنے کے بعد قربانی جائز ہے یعنی یہ ضروری نہیں کہ عید گاہ میں نماز نماز ہو جائے جب ہی قربانی کی جائے بلکہ کسی مسجد میں ہوگئی اور عید گاہ میں نہ ہوئی جب بھی ہو سکتی ہے ۔ (درمختار، رد المحتار)
مسٸلہ:قربانی کے دن گزر جانے کے بعدقربانی فوت ہوگٸی، اب نہیں ہو سکتی لہٰذا اگر کوٸ جانور قربانی کے لیے خرید رکھا ہے تو اس کو صدقہ کرے ورنہ ایک بکری کی قیمت صدقہ کرے۔(ردالمحتار ،عالمگیری)
مسئلہ : جب قربانی کے شرائط مذکورہ پائے جائیں تو بکری کا ذبح کرنا یا اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ واجب ہے ۔ ساتویں حصہ سے کم نہیں ہو سکتا بلکہ اونٹ یا گائے کے شرکا میں اگر کسی شریک کا ساتویں حصہ سے کم ہے تو کسی کی قربانی نہیں ہوئی یعنی جس کا ساتویں حصہ یا اس سے زیادہ ہے اس کی بھی قربانی نہیں ہوئی ۔ گائے یا اونٹ میں ساتویں حصہ سے زیادہ کی قربانی ہو سکتی ہے مثلاً گائے کو چھ یا پانچ یا چار لوگوں کی طرف سے قربانی کریں ہو سکتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ سب شرکا کے حصہ برابر ہوں بلکہ کم و بیش بھی ہو سکتے ہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ جس کا حصہ کم ہے تو ساتویں حصہ سے کم نہ ہو ۔ (درمختار، رد المحتار)
مسئلہ: قربانی کے سب شرکا کی نسبت تقرب (ثواب پانا) ہو اس کا یہ مطلب ہے کہ کسی کا ارادہ گوشت نہ ہو اور یہ ضرور نہیں کہ وہ تقرب ایک ہی قسم کا ہو مثلاً سب قربانی ہی کرنا چاہتے ہیں بلکہ اگر مختلف قسم کے تقرب ہوں وہ تقرب سب پر واجب ہو یا کسی پر واجب ہو اور کسی پر واجب نہ ہو ہر صورت میں قربانی جائز ہے ۔ مثلاً دم احصار اور احرام میں شکار کرنے کی جزا اور سر منڈانے کی وجہ سے دم واجب ہوا اور تمتع و قرآن کا دم کہ ان سب کے ساتھ قربانی کی شرکت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح قربانی اور عقیقہ کی بھی شرکت ہو سکتی ہے کہ عقیقہ بھی تقرب کی ایک صورت ہے ۔ (رد المحتار)
مسئلہ ! شرکت میں بڑے جانور کی قربانی ہوئی تو ضروری ہے کہ گوشت وزن کر کے تقسیم کیا جائے ، اندازہ سے تقسیم نہ ہو کیونکہ ہو سکتا ہے کہ کسی کو زائد یا کم ملے اور یہ ناجائز ہے ۔ یہاں یہ خیال نہ کیا جائے کہ کم و بیش ہوگا تو ہر ایک اس ایک دوسرے کے لیے جائز کردے گا کہ دے گا کہ اگر کسی کو زائد پہنچ گیا ہے تو معاف کیا کہ یہاں عدم جواز حق شرع ہے اور ان کو اس کو معاف کرنے کا حق نہیں۔ درمختار، رد المحتار)
مسئلہ: قربانی کا گوشت کا فر کو نہ دے کہ یہاں کے کفار حربی ہیں۔ (بہارشریعت)
قربانی اگر منت کی ہے تو اس کا گوشت نہ خود کھا سکتا ہے نہ اغنیا کو کھلا سکتا ہے بلکہ اس کو صدقہ کر دنیا واجب ہے وہ منت ماننے والا فقیر ہو یا غنی دونوں کا ایک ہی حکم ہے کہ خود نہیں کھا سکتا نہ ہی غنی کو کھلا سکتا ہے (بہار شریعیت)
مسئلہ: قربانی کا گوشت خود بھی کھا سکتا ہے اور دوسرے شخص غنی یا فقیر کو دے سکتا ہے، کھلا سکتا ہے بلکہ اس میں سے کچھ کھا لینا قربانی کرنے والے کے لیے مستحب ہے ( بہارشریعت )
مسئلہ: میت کی طرف سے قربانی کی تو اس کے گوشت کا بھی وہی حکم ہے کہ خود کھائے، دوست و احباب کو دے، فقیروں کو دے یہ ضروری نہیں کہ سارا گوشت فقیروں ہی کو دے کیونکہ گوشت اس کی ملک ہے یہ سب کچھ کر سکتا ہے اور اگر میت نے کہہ دیا کہ میری طرف سے قربانی کر دینا تو اس میں سے نہ کھائے بلکہ کل گوشت صدقہ کر دے ۔ (رد المحتار)
مسئلہ: قربانی کا چمڑا ، جھول، رسی اور اس کے گلے میں ڈالا ہوا ہار ان سب چیزوں کو صدقہ کردے ۔ قربانی کا چمڑا خود بھی اپنے کام میں لا سکتا ہے یعنی اس کو باقی رکھتے ہوئے کسی کام میں لا سکتا ہے مثلاً اس کی جانماز بنائے ، چلنی، تھیلی، مشکیزہ، دستر خوان، ڈول وغیرہ بنائے یا کتابوں کی جلدوں میں لگائے یہ سب کر سکتا ہے (در مختار)
مسئلہ: اگر قربانی کے کھال کو روپے کے عوض بیچا مگر اس لیے نہیں کہ اس کو اپنی ذات پر یا بال بچوں پر صرف کرے گا بلکہ اس لیے کہ اس کو صدقہ کر دے گا تو جائز ہے۔(عالمگیری) مسئلہ : آج کل اکثر لوگ کھال مدارس میں دیا کرتے ہیں یہ جائز ہے ۔ اگر مدرسہ میں دینے کی نیت سے کھال بیچ کر قیمت مدرسہ دے دیں تو یہ بھی جائز ہے ۔ (عالمگیری)
مسئلہ: قربانی کا چمڑا یا گوشت یا اس میں سے کوئی چیز قصاب یا ذبج کرنے والے کو اجرت میں نہیں دے سکتا کہ اس کو اجرت میں دینا بھی بیچنے ہی کے معنیٰ میں ہے۔ (ہدایہ)
مسٸلہ: قصاب کو اجرت میں نہیں دیا بلکہ جیسے دوسرے مسلمانوں کو دیتا ہے اس کو بھی دیا اور اجرت اپنے پاس سے دوسری چیز دے گا تو جائز ہے ۔ (بہار شریعت)

قربانی کرنے کا اجر و ثواب :

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں:
قال اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما هذه الاضاحي؟ قال سنة ابيكم ابراهیم علیہ السلام. قالوا فما لنا فیھا یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم؟ قال بكل شعرة حسنة .قالوا فالصوف یارسول الله صلی اللہ علیہ وسلم؟ قال بكل شعرة من الصوف حسنة. (مشکاه ، باب الاضحیة،صرف:١٢٩)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان قربانیوں کی حقیقت کیا ہے ؟ تو حضور نے فرمایا یہ تمھارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ۔ تو انھوں نے عرض کی ان قربانیوں کے بدلے ہمیں کیا اجر ملےگا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر بال کے بدلے ایک حسنہ ۔ تو صحابہ کرام نے عرض کی یارسول الله اس کے اون کے متعلق کیا حکم ہے ؟ تو آپ نے فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلے بھی ایک حسنہ ہوگی۔
ایک روایت میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : الا ان الاضحية من الاعمال المنجية تنجى صاحبها من شر الدنيا والآخرة ”
ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خبردارا ہے شک قربانی ان اعمال میں سے ہے جو عذاب سے نجات دینے والے ہیں یہ قربانی کرنے والے کو دنیا اور آخرت کے نقصان سے نجات دیتی ہے۔ (درة الناصحین )
اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ قربانی کے اجر و ثواب کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ جو شخص قربانی خریدنے کے لیے گھر سے نکلتا ہے تو اسے ہر قدم کے بدلے دس نیکیاں عطائی جاتی ہیں، اور اس کے نامہ اعمال سے اس کے دس گناہ مٹائے جاتے ہیں اور اس کے دس درجے بلند کیے جاتے ہیں اور جب وہ اس کو خریدنے کے متعلق اس کے مالک سے گفتگو کرتا ہے تو اس کا کلام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بن جاتی ہے اور جب وہ اس کی قیمت نقد ادا کرتا ہے تو اسے ہر درہم کے بدلے سات سو نیکیاں حاصل ہو جاتی ہے۔ اور جب وہ اس کو ذبح کرنے کے لیے زمین پر لٹاتا ہے تو سطح زمین سے لیکر ساتویں آسمان تک تمام مخلوق اس کے لیے مغزت طلب کرتی ہے اور جب اس کا خون زمین پر گرتا ہے تو خون کے ہر ہر قطرہ سے اللہ تعالیٰ دس فرشتے پیدا فرماتا ہے جو اس کے لیے قیامت تک مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں اور جب وہ اس کا گوشت تقسیم کرتا ہے تو گوشت کی ہر ہوٹی کے بدلے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ (جواہر زاده)
حضرت انس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب لوگوں کو قبروں سے قیامت کے دن اٹھایا جائے گا تو اللہ تعالی ملائکہ سے فرماےگا کہ اے ملائکہ اس بات کا خیال رکھو کہ میرے بندے پیدل نہ چلیں بلکہ انھیں اپنی عمدہ سواریوں پر سوار کرو، کیوں کہ وہ دنیا میں سوار ہونے کے عادی تھے ابتدا میں ان کے والدوں کی پشتیں ان سواریاں تھیں اور جب ان کی ماؤں نے انھیں جنم دیا تو مدت رضاعت تک وہ ان کی سواریاں تھیں ۔ پھر ان کے والدوں کی گردنیں ان کی سواریاں تھیں، اس کے بعد گھوڑے اور خچر خشکی میں ان کی سواریاں تھیں اور دریاؤں اور سمندروں میں کشتیاں اور ڈونگے ان کے مراکب تھے اور جب ان کا انتقال ہوا تو وہ اپنے بھائیوں کی گردن پر سوار ہوتے ہوئے قبر میں گئے اس لیے جب وہ قبروں سے اٹھیں تو پیدل نہ چلیں بلکہ ان کے قربانیوں کے جانوروں کو ان کی سواریاں بناؤ ۔

قربانی نہ کرنے کی سزا:

جو شخص مالک نصاب ہو اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ادا کرنے کے لیے قربانی نہ دے تو اس کو سخت وعید سنائی گئی ہے۔ اس حوالے سے ہم چند روایات نقل کرتے ہیں:
روى عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال: من كان لہ سعة فلم یضح فلیمت ان شاء یہودیا وان شاء نصرانیا.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے آپ نے فرمایا جو شخص خوشحال یعنی صاحب نصاب ہو اور وہ قربانی نہ کرے تووہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کرے (اللہ کو اس کی پرواہ نہیں )
عن ابی ھریرة رضي الله عنه ان رسول اللہ صلى الله عليه وسلم قال : من كان له سعة ولم يضح فلا يقربن مصلانا .
( ابن ماجہ، ابواب الاضاحی، ص:۲۲۱)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو صاحب استطاعت ہو اور وہ قربانی ذبح نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب تک نہ آئے ۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : من صلی صلوٰتنا ونسك نسكنا فهو منا ومن لم يصل صلوٰتناولم یضح فلیس منا ان کانا غنیا . (درة الناصحين )
"جو شخص ہماری نماز (عید) کی طرح نماز پڑھے اور ہمار قربانی کی طرح قربانی کا جانور ذبح کرے تو وہ ہم میں سے ہے اور وہ شخص جو مالدار ہو اور وہ ہماری نماز کی طرح نماز نہ پڑھےاور نہ ہی ہماری قربانی کی طرح قربانی کرے تو وہ ہم میں سے نہیں ۔
ایک اور روایت میں ہے۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیار امتی یضحون و شرار امتی لا یضحون .
سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ میری امت کے بہترین لوگ ہی قربانی ذبح کرتے ہیں اور میری امت کے شریر لوگ قربانی ذبح نہیں کرتے ۔
بڑے خوش نصیب ہیں وہ مسلمان جو اس مبارک موقع پر عقیدت و محبت کے ساتھ نماز عید الا ضحی ادا کرتے ہیں اور پھر رضائے الہی کے لیے اپنے قیمتی مال سے بارگاہ خدا میں جانوروں کی قربانی پیش کرتے ہیں۔ مولا کریم ہم سب مسلمانوں کو شریعت مطہرہ پر عمل کرنے کی توفیق بخشے ۔ امین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم.
العبد العاجز

سرو علی الرقیبی المصباحی

متعلم الجامعة الأشرقيه، مبارک فور
٩/ذی الحجه ١٤٤٤ھ، مطابق ۲۸ جون ٢٠٢٣ ٕ بروز بدھ

۔

مزید پڑھیں

مختلف مذاہب میں قربانی کا تصور

حج کا مہینہ اور قربانی

ذبیح اللہ کون؟حضرت اسماعیل یا حضرت اسحاق

شیئر کیجیے

Leave a comment